یونیورسٹی کیلئے مستقبل میں مختص جگہ میں سے 50 کنال جگہ علی رضا سید نامی شخص کے نام الاٹ

میرپور( ظفر مغل سے)آزادکشمیر کے سابق وزیراعظم چوہدری عبدالمجید نے کہا ہے کہ موجودہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر میرپور دشمنی میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید میڈیکل کالج میرپور کے لیے مختص جگہ میں سے 50 کنال اراضی کی الاٹمنٹ علی سید نامی شخص کو کر رہے ہیں جو کہ میڈیکل یونیورسٹی کے منصوبہ کے خلاف سازش ہے جسے کسی صورت میں پایہ تکمیل نہیں پہنچنے دیں گے اور اس کے خلاف سول سوسائٹی کی باہمی مشاورت سے بھرپور تحریک چلائی جائیگی او ر اسمبلی میں بھی بھرپور آواز بلند کی جائیگی۔ ان خیالات کاا ظہار انہوں نے کشمیر پریس کلب میرپور میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پی پی پی سٹی میرپور کے صدر الحاج غلام رسول عوامی، سابق امیدوار اسمبلی پروفیسر مرزا محمد افضل، ضلعی جنرل سیکرٹری چوہدری فرید انور، سابق صدور بار ریاض انقلابی، کامران طارق ایڈووکیٹس، شعبہ خواتین کی چیئر پرسن نبیلہ ایوب ایڈووکیٹ، سدرہ لطیف ایڈووکیٹ، اشرف ایاز ایڈووکیٹ اور سلمیٰ اشتیاق،سید سکندر بخاری، صغیر جاگل، ریاست تبسم، ڈاکٹر نسرین، مرزا ریاض، عائشہ شیخ کے علاوہ پارٹی رہنمائوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ پی پی پی آزادکشمیر کے سابق صدر اور سابق وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری عبدالمجید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے دور حکومت میں آزاد خطہ کے تین ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ز میں 3 میڈیکل کالج دئیے اور باقاعدہ کلاسز کا اجراء بھی کیا جبکہ مجھ سے پہلے 1947ء سے2011 ء تک بر سر اقتدار رہنے والے حکمرانوں نے آزاد خطہ میں ایک میڈیکل کالج بھی نہ دیا اور اب موجودہ حکومت نے نہ صرف میرپور میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید میڈیکل کالج کے فنڈز منتقل کیے ہیں بلکہ اب میڈیکل یونیورسٹی کیلئے مستقبل میں مختص جگہ میں سے 50 کنال جگہ علی رضا سید نامی شخص کے نام الاٹ کی جارہی ہے جسے ہم کسی صورت نہیں ہونے دیں گے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نوجوان نسل کے مستقبل میڈیکل کالج اور میڈیکل یونیورسٹی سے کھلواڑ کرنا چارہ رہی ہے اور اس سازش کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ بلکہ میڈیکل یونیورسٹی کی جگہ پر تعمیرات کرنے کیلئے حکومت اور قبضہ مافیا کو میری لاش پر سے گزرنا پڑے گا۔انہوں نے پارٹی کی سٹی اور ضلعی تنظیم کو ہدایت کی کہ وہ اس اہم ایشو پر تمام سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کا ایک مشترکہ مشاورتی اجلاس جلد طلب کر کے مشترکہ حکمت عملی وضع کریں تاکہ حکومتی اس غلط اقدام کے خلاف منظم مشترکہ جدوجہد اور احتجاجی پروگرام ترتیب دیا جا سکے۔اس موقع پر سابق صدر بار محمد ریاض انقلابی ایڈووکیٹ نے بھی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے میڈیکل کالج کی جگہ الاٹ کرنے کے اقدام کی سخت مزمت کرتے ہوئے بار کا اجلاس بھی جلد بلانے کی یقین دہانی کرائی اور حکومت و ڈپٹی کمشنر کو متنبہ کیا کہ وہ میڈیکل کالج اور میڈیکل یونیورسٹی کے خلاف سازش سے باز آجائیں ورنہ ہم راست اقدام سے بھی گریز نہیں کرینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں