سب سے زیادہ ہلاکتیں آزادکشمیر میں ہوئیں

ملک بھر میں شدید بارشوں، برفباری سے 70 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں . این ڈی اے
سب سے زیادہ ہلاکتیں آزادکشمیر میں ہوئیں جہاں55 افرادجان سے ہاتھ دھوبیٹھے. ترجمان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی

اسلام آباد(-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔14 جنوری۔2020ء) نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک بھر میں شدید بارشوں، برفباری کے باعث گزشتہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران 70 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی جبکہ جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ بھی ظاہر کیا ہے.شدید بارشوں کے باعث ہزارہ ڈویژن، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور مالاکنڈ ڈویژن میں لینڈ سلائیڈ اور برفانی تودہ گرنے کی وجہ سے شاہراہِ قراقرم سمیت دیگر اہم شاہراہیں اور سڑکیں بند ہوگئیں جبکہ چترال کا صوبے کے دیگر حصوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا. این ڈی ایم کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق موسم کی خراب صورتحال کے باعث سب سے زیادہ ہلاکتیں آزادکشمیر میں ہوئیں جہاں55 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ صوبہ بلوچستان میں بارشوں، برفباری کے باعث مختلف واقعات میں 15افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے‘این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں بارشوں اور برفباری کے باعث مختف حادثات میں 29 افراد زخمی ہوئے جبکہ 35مکانات کو نقصان پہنچا.واضح رہے کہ ملک کے شمالی اور مغربی علاقوں میں شدید برف باری کا سلسلہ جاری ہے‘سب سے زیادہ افراد آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں برفانی تودہ گرنے کے سبب جاں بحق ہوئے جبکہ اس حادثے کی وجہ سے 2 درجن مکانات، متعدد دکانوں اور ایک مسجد کو نقصان پہنچا.مقامی انتظامیہ نے فوجی اہلکاروں اور ڈزاسٹر مینجمنٹ حکام کے ساتھ مل کر ریسکیو اور ریلیف کے کام انجام دیے این ڈی ایم اے کے مطابق آزاد کشمیر کی میں وادی نیلم کے گاو¿ں سورنگن میں برفانی تودہ گرنے سے 19 افراد دب کر جاں بحق ہوئے اطلاعات کے مطابق ریسکیو اہلکار تودے کے نیچے دبے دیگر افراد کو نکالنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ 4 زخمیوں کو نکالا جاچکا ہے.ترجمان این ڈی ایم اے نے بتایا کہ برف میں پھنسے ہوئے افراد کو بذریعہ ہیلی کاپٹر نکالنے کے لیے انتطامات کیے جا رہے ہیں اور متاثرین کے لیے راشن اور ٹینٹ مظفر آباد سے روانہ کر دیئے گے ہیں رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کوئٹہ کے صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے کنٹرول روم میں مختلف حادثات میں 17 افراد کے جاں بحق اور اتنے ہی زخمی ہونے کی رپورٹس موصول ہوئی تھیں صورتحال کی سنگینی کی وجہ سے پی ڈی ایم اے نے مستونگ، قلعہ سیف عبداللہ، کیچ، زیارت، ہرنائی اور ضلع پشین میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے.
خوجک ٹام پر شدید برفباری کی وجہ سے زیارت اور کوئٹہ کے مابین موصلاتی رابطے شدید متاثر ہوئے اور کوئٹہ چمن شاہراہ بھی ٹریفک کے لیے بند ہے موسم کی شدت کے سبب خیبرپختونخوا میں بھی برف باری کا سلسلہ جاری ہے اور صوبے میں میں سب سے زیادہ برفباری لواری اپروچ روڈ پر23انچ ریکارڈ کی گئی.رپورٹ میں بتایا گیا کہ صوبہ پنجاب میں بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں بچے سمیت 7 افراد جاں بحق جبکہ 13 زخمی ہوئے خیبر پختونخواہ کے ضلع چترال اور مضافات میں پیر کی رات سے شدید برف باری کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث چترال بھر میں تمام شاہراہیں بند ہیں جبکہ چترال کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والا واحد زمینی رابطہ لواری ٹنل بھی کل براڈام کے مقام پر برفانی تودہ گرنے سے بند ہوا.مقامی تھانے عشریت کے ایس ایچ او نے بتایا کہ پیر کے روز چھوٹے ٹنل کے قریب براڈام کے مقام پر ایک بھاری بھرکم برفانی تودہ گرنے سے لیویز اور پولیس کے جوان بال بال محفوظ رہے تاہم گلیشئر گرنے کی وجہ سے پشاور چترال شاہراہ ہر قسم ٹریفک کے لیے بند ہو گئی جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور درجنوں گاڑیاں لواری ٹاپ میں پھنسی ہوئی ہیں.چترال پولیس کے مطابق بونی، مستوج، گرم چشمہ، وادی کیلاش، ملکہو، تورکہو کی سڑکیں برف باری کے باعث ہر قسم ٹریفک کے لیے بند ہیں چترال کے علاقے کیلاش سے تعلق رکھنے والہ ایک مقامی ڈرائیور نے بتایا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے لواری سرنگ روڈ کو ابھی تک صاف نہیں کیا اور محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس نے بھی سڑکوں کی صفائی پر ابھی کام شروع نہی کیا.انہوں نے کہا کہ ہم پاک فوج کے میجر جنرل ملاکنڈ سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ لواری ٹاپ کو گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی برف سے صاف رکھیں چترال کے گاﺅں گرم چشمہ سڑک کی بندش کی وجہ سے 40 ہزار افراد کی زندگیاں سخت متاثر ہیں اور ان لوگوں کا بازار تک آنا بھی مشکل ہے.علاوہ ازیں شدید برف باری کے باعث چترال بازار میں آگ جلانے کیلئے لکڑیوں کی بھی شدید قلت ہے اور لوگ زیادہ تر کھانا پکانے اور خود کو گرم رکھنے کیلئے جنگل کی لکڑی استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے جنگلات کی کٹائی میں بھی بے حد اضافہ ہوا ہے واضح رہے کہ گزشتہ حکومت نے سینگور کے مقام پر گیس پلانٹ کا افتتاح کیا تھا جس کی تعمیر کے لیے 10 ایکڑ زمین بھی خریدی گئی مگر بعد میں اس پر کام روک دیا گیا.

اپنا تبصرہ بھیجیں