میرپور میں سرمایہ کاروں کی غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں جمع پونجی ڈوبنے کا خدشہ

میرپور(بحوالہ آوازہ نیوز)راولپنڈی کے بعد میرپور چکسواری میں بھی غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں لوگوں کی جمع پونجی ڈوبنے کا خدشہ، چند سو کنال رقبہ پر بدوں این او سی، بدوں رجسٹریشن ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنائے جانے کا انکشاف، آسان اقساط کے لالچ میں سادہ لوح افراد لٹنے لگے، انتظامیہ خامو ش تماشائی، رپورٹ کے مطابق راولپنڈی چکری روڈ پر راولپنڈی ڈیلپمنٹ اتھارٹی نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے 7 غیر قانونی

ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کے دفاتر مسمار کر کے کام سے روک دیا جس میں لوگوں کی کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری ڈوب گئی ہے اسی طرز کی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا دھندہ میرپور، جاتلاں، چکسواری اور کوٹلی میں بھی ہورہا ہے ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کیلئے ضروری ہے کہ کم از کم رقبہ 4 ہزار کنال کے لگ بھگ ہو، پانی، بجلی، گیس، سکول، مساجد پلے گراؤنڈ اور قبرستان جیسی بنیادی سہولیات موجود ہوں ڈویلپمنٹ اتھارٹی، محکمہ مال، واپڈا، محکمہ انہار سمیت دیگر متعلقہ محکمہ جات سے رجسٹرڈ ہو اور باضابطہ این او سی جاری ہو لیکن ہمارے ملک کا باوا آدم ہی نرالا ہے ریئل سٹیٹ کی دنیا کے ماہر اور بااثر افراد میرپور، جاتلاں، چکسواری اور دیگر علاقوں میں چند سو کنال رقبہ خرید کر ہاؤسنگ سوسائٹی کا نام دے کر جدید سہولیات کے نام پر آسان اقساط میں لوگوں سے پیسے بٹور کر تجوریاں بھر رہے ہیں جن کو کوئی پوچھنے والا نہیں حکومت و انتظامیہ نوٹس لے یا نہ لے روزنامہ آوازہ تمام ہاؤسنگ سوسائٹیاں کیسے وجود میں آئیں کتنے رقبے پر ہیں این او سی جاری شدہ ہیں یا نہیں بنیادی سہولیات کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ شائع کرے گا۔

سوسائٹیز مالکان ٹیکس چوری میں ملوث پائے جانے کا انکشاف
میرپور ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مالکان لوگوں کے ساتھ ساتھ ٹیکس کی مد میں حکومت کو بھی چونا لگانے میں مصروف عمل ہیں باا ثر مالکان متعلقہ آفیسران سے ساز باز کر کے خود کو بچالیتے ہیں۔
بیع نامہ کی بجائے اپنی فائلوں پر ٹرانسفر کرکے کروڑوں غبن کرنے لگے
میرپور سوسائٹیز مالکان بیع نامہ کی بجائے اپنی تیار کردہ فائلوں پر اپنے ہی قانون ضابطے اپنا کر پلاٹ ٹرانسفر کر کے کروڑوں کا غبن کر رہے ہیں یہ طریقہ خلاف قانون ہے پلاٹ خرید نے والوں کو پریشان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

[X]