دُبئی میں منشیات اسمگل کرنے والے پاکستانی اسمگلر کو عدالت نے سخت سزا سُنا دی

دُبئی میں منشیات اسمگل کرنے والے پاکستانی اسمگلر کو عدالت نے سخت سزا سُنا دی
عدالت کی جانب سے 23 سالہ نوجوان کو دس سال قید اور 50 ہزار جرمانے کی سزا دی گئی ہے

دُبئی (20جنوری 2020ء) دُبئی کی عدالت نے ایک پاکستانی نوجوان کو منشیات اسمگل کرنے کے جُرم میں 10 سال قید اور 50 ہزار جرمانے کی سزا سُنا دی ہے۔ پاکستانی اسمگلر کو سزا کی مُدت پُوری ہونے کے فوراً بعد ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔ استغاثہ کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ پاکستانی نوجوان کو گزشتہ سال دُبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اس وقت گرفتار کیا گیا جب اس کے پاس موجود ایک بیگ میں خفیہ خانے 1.2 کلو گرام ہیروئن برآمد ہوئی تھی۔
استغاثہ کے مطابق 23 سالہ پاکستانی نوجوان پاکستان سے آنے والی پرواز کے ذریعے دُبئی ایئر پورٹ پر اُترا تھا۔ جب ٹرمینل نمبر 1 پر تعینات خاتون کسٹمز انسپکٹر کی جانب سے ملزم کے سامان کی تلاشی لی گئی تو اس میں سے منشیات برآمد ہوئی۔
کسٹمز انسپکٹر نے عدالت کو بتایا کہ مجرم کے سامان کو جب ایکسرے سکیننگ کے مرحلے سے گزارا گیا تو اس کے بیگ کی ایک جانب کی سائیڈ کافی پھُولی ہوئی نظر آئی۔
جس پر شک گزرنے پر پاکستانی نوجوان کے بیگ کو کھول کر اس کی تفصیل سے تلاشی لی گئی تو اس کے اندر بنے ایک خانے سے پلاسٹک بیگ میں کچھ پوڈر نما چیز برآمد ہوئی۔ جس کی جانچ کرنے پر پتا چلا کہ یہ ہیروئن ہے۔ جس پر پاکستانی نوجوان کو فوری طور پر حراست میں لے کر مزید تفتیش کے لیے دُبئی پولیس کے شعبہ انسدادِ منشیات کے حوالے کر دیا گیا۔ کرائم لیب کی رپورٹ سے پتا چلا کہ ملزم کے قبضے سے برآمد ہونے والی ہیروئن کی مقدار1.2 کلو گرام کے قریب تھی۔ ملزم وِزٹ ویزہ پر دُبئی آیا تھا۔ عدالت نے ثبوتوں اور گواہوں کے بیانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے دس سال قید اور 50 ہزار رہم جرمانے کی سزا سُنا دی۔ پاکستانی اسمگلر کو فیصلے کے خلاف پندرہ روز کے اندر اپیل دائر کرنے کا حق دیا گیا ہے۔

[X]