دُبئی جانے کے چکر میں سینکڑوں پاکستانی نوجوان فراڈ کا شکار ہو گئے

دُبئی جانے کے چکر میں سینکڑوں پاکستانی نوجوان فراڈ کا شکار ہو گئے
پاکستانی حکومت کی جانب سے ویزہ فراڈ میں ملوث پانچ ریکروٹمنٹ کمپنیوں پر پابندی لگا دی گئی

دُبئی (جنوری 2020ء) دُبئی میں تعینات پاکستانی قونصل جنرل احمد امجد علی نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی نوجوانوں کی بہت بڑی گنتی متحدہ عرب امارات جانے کے چکر میں دھوکا دہی کا شکار ہو کر اپنی قیمتی رقم سے محروم ہو رہی ہیں اور دُبئی پہنچ جانے کے بعد وہ یہاں پرنوکری نہ ہو نے کے باعث در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
اس وقت ایسی جعلی ریکروٹمنٹ کمپنیوں کی کوئی کمی نہیں جو نوجوانوں کو دُبئی میں اچھی ملازمت کے خواب دکھا کر اُنہیں لُوٹ لیتی ہیں۔ دُبئی پہنچنے پر یہ کمپنیاں اُنہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیتی ہیں۔ پاکستانی قونصل جنرل نے بتایا کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے ویزا فراڈ میں ملوث پانچ ریکروٹمنٹ کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔
احمد امجد علی کا کہنا تھا کہ کسی بھی ریکروٹمنٹ ایجنسی پر اندھا اعتبار نہ کریں اور تسلی کر لیں کہ وہ ایمانداری سے اپنا کام کر رہی ہے۔
کیونکہ کئی غیر قانونی ایجنٹس بے روزگار اور پریشان نوجوانوں کو وزٹ ویزہ دِلوانے کے نام پر ان سے دھوکا کر رہی ہیں۔پاکستانی قونصل خانے میں ہونے والی ایک میڈیا بریفنگ کے دوران پاکستانی قونصل جنرل نے بتایا کہ لوگوں کی جانب سے ایسی سینکڑوں شکایات موصول ہو رہی ہیں جن کے مطابق نام نہاد ریکروٹمنٹ ایجنٹ انہیں نوکریاں دلوانے کے نام پر وزٹ ویزہ فروخت کر رہے ہیں۔
یہ جعلی ایجنٹ پاکستان میں بیٹھے کام کر رہے ہیں اور ان کا آسان ترین شکار متحدہ عرب امارات میں نوکری حاصل کرنے کے خواہش مند نوجوان ہیں۔ قونصل کی جانب سے معاملہ سامنے لانے پر پاکستان حکومت نے پانچ ریکروٹمنٹ کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کر کے ان پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ کمپنیاں بھولے بھالے بے روزگار نوجوانوں سے نوکری کے نام پر وزٹ ویزہ دلوانے کے جھوٹے وعدوں میں ملوث پائی گئیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایسے ایجنٹ مافیا اور دھوکے باز کمپنیوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جا رہا ہے جو نوکریاں دستیاب نہ ہونے کے باوجود لوگوں کو اپنے جال میں پھانس رہی ہیں۔ ہمیں ہر ہفتے ویزہ فراڈ سے متعلق کم از کم 20 شکایات موصول ہوتی ہیں۔ دھوکا دہی سے بچنے کے لیے نوجوانوں کو متحدہ عرب امارات کے حکام اور اوور سیز پاکستانیوں کی وزارت کی جانب سے وضع کردہ طریقہ کار پر عمل کرنا چاہیے۔
اگر کوئی ریکروٹمنٹ ایجنٹ متحدہ عرب امارات میں کسی مخصوص شعبے میں ملازمتوں کے حوالے سے وعدہ کرتا ہے توایسی صورت میں ان نوکریوں کے دستیاب ہونے سے متعلق تفصیلات چیک کی جا سکتی ہیں۔ زیادہ تر شکایات فراڈ کمپنیوں کی جانب سے سیکیورٹی گارڈز کی بھرتی کے حوالے سے سامنے آتی ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو اگر ایسے کسی نوسرباز ایجنٹ یا کمپنی کے بارے میں پتا چلے تو وہ اس کے بارے میں قونصل خانے کو ضرور اطلاع دیں۔ ایجنٹوں اور فراڈ کمپنیوں کے ہاتھوں رُل جانے والے نوجوانوں کو وطن واپسی کے لیے 10 ہزار فلائٹ ٹکٹس مفت فراہم کی گئیں جس پر 5لاکھ 22ہزار 500 درہم کی مجموعی لاگت آئی۔ جبکہ 22 ہزار درہم مالی معاونت کے سلسلے میں بھی فراہم کیے گئے۔

[X]