آذاد کشمیر پولیس کو بڑی خوشخبری سنادی گئی

آزادکشمیرکےمحکمہ داخلہ نے619کنٹریکٹ پرتعینات پولیس اہلکاروں کومستقل کرنےکی تحریک پر منظوری دینے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا۔ حکومت کا یہ اہم قدم ہے کہ من پسند نئی بھرتیاں کرنے کی بجائے ان اہلکاروں کومستقل کیا جارہا ہے۔

 کنٹریکٹ پر تعینات ان پولیس اہلکاروں کو جب نوکریوں سے نکالنے کا نوٹی فکیشن جاری کیا گیا ۔دنیا ٹیلی ویژن کے پلیٹ فارم سے پہلی خبر چلائی گئی تھی کہ ایسے سینکڑوں تربیت یافتہ اہلکاروں کے گھروں کے چولہے بجھائے جارہے ہیں جن کی مدت ملازمت 6سے 10 سال کے درمیان ہو چکی ہے۔

پھر یہ ملازمین باوردی پریس کلب کے باہر احتجاج پر بیٹھے اور کئی ہفتوں تک ان کا احتجاج جاری رہا۔ ایک وقت ایسا بھی ہم نے دیکھا کہ ان کنٹریکٹ پر تعینات پولیس اہلکاروں کو احتجاج کرنے سے روکنے کیلیے حکومت نے ریگولر پولیس کے ذریعے ان افراد پر لاٹھی چارج کرایا تب بھی میڈیا ان متاثرین کی آواز بنا۔

اب ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ مسعودالرحمان کےدستخطوں سےیہ نوٹی فکیشن جاری ہواتو اطمینان ہوا کہ ان سینکڑوں پولیس اہلکاروں کی کاوشیں کامیاب ہوئیں اور یہ لوگ اب جلد ہی مستقل ملازمت میں شمار ہوں گے۔

The interior minister of Azad Kashmir issued a notification to approve the motion to mobilize 619 contract police officers. It is an important step of the government that instead of hiring new recruits, these personnel are being recruited.
I remember that when the notice to remove the police personnel posted on the contract was issued, I first heard from the World Television platform that there were hundreds of trained personnel who were being shot. The term of employment is between 6 and 10 years.
Then the employees sat outside the Bawadi Press Club and held their protest for several weeks. Once upon a time, we saw that the government charged the staff with regular police to stop protesting the policemen deployed on these contracts.
Now that the notice was issued from the signatures of the Additional Secretary of Interior, Masoodur Rahman, it was convinced that the efforts of hundreds of policemen were successful and that they would soon be considered as permanent employees.