حکومت کا 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر بھرپورطریقے سے منانے کا فیصلہ

بھارتی اقدامات سے خطے کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں، پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی وسفارتی حمایت جاری رہےگی۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اجلاس
اسلام آباد (۔16 جنوری 2020ء) وفاقی حکومت نے 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر بھرپور طریقے سے منانے کا فیصلہ کرلیا، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بھارتی اقدامات سے خطے کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں، پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی وسفارتی حمایت جاری رہےگی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔
اجلاس میں مقبوضہ جموں وکشمیرکی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق بھارتی اقدامات کی مذمت کی گئی۔ اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، معاون خصوصی معید یوسف اور دیگر سینئر حکام بھی شریک ہوئے۔

اعلامیہ اجلاس میں عزم دہرایا گیا کہ رواں سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر بھرپور طریقے سے منایا جائے گا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بھارتی اقدامات سے خطے کے امن اورسلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول تک اخلاقی، سیاسی و سفارتی حمایت جاری رہےگی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں مظاہروں کو عالمی میڈیا توجہ دیتا ہے لیکن کشمیر پر توجہ نہیں دی جاتی۔اقوام عالم کو آزاد کشمیر کا دورہ کرنے کی عام اجازت ہے، جو بھی عالمی شخصیت مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنا چاہتی ہے، وہ پہلے آزاد کشمیر کا دورہ کرے، ان کو معلوم ہوجائے گا کہ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے حالات میں کتنا فرق ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے جرمن میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوں گے۔دعا ہے کہ طالبان، امریکا اور افغان حکومت ملکر امن قائم کرے۔پاکستان افغانستان میں قیام امن کی کوشش رہا ہے۔افغانستان ہمارے لیے بھی ایک اقتصادی راہداری کا حصہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ کوشش ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے تعلقات خراب نہ ہوں، خطہ کسی اور تنازع کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ایران کے ساتھ فوجی تنازع تباہ کن ہوگا۔یہ درست ہے ہم مشکل ہمسائیگی والے ماحول میں رہتے ہیں، ایسے میں ہمیں اپنے معاملات کو متوازن رکھنا ہی ہے۔

[X]

اپنا تبصرہ بھیجیں