ساتھی ملازمہ سے 9 بار شرمناک حرکات کرنے پر گرفتار کر لیا گیا

بھارتی کارکن اپنی ساتھی ملازمہ سے 9 بار شرمناک حرکات کرنے پر گرفتار کر لیا گیا

ملزم نے گرفتاری پر کہا کہ وہ تو صرف مذاق میں اپنی ساتھی ملازمہ کے جسم کو چھُوتا رہتا تھا
دُبئی( جنوری2020ء) دُبئی پولیس نے ایک بھارتی مرد کواپنی خاتون ساتھی کو ’مذاق مذاق‘ میں کئی بار جنسی ہراسگی کا نشانہ بنانے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ بھارتی ملازم پر الزام ہے کہ اُس نے اپنے ساتھ کام کرنے والی فلپائنی خاتون سے 9 بار جنسی چھیڑ چھاڑ کی۔ جب خاتون کی برداشت ختم ہو گئی تو اس نے 33 سالہ ملزم کے خلاف درخواست درج کر ادی۔ فلپائنی ملازمہ نے بتایا کہ وہ الرشیدیہ میں واقع ایک ٹریڈ کمپنی میں گزشتہ چھ ماہ سے بطور اکاؤنٹنٹ کام کر رہی ہے۔ میں اپنی کمپنی میں اکیلی خاتون ہوں ۔ بھارتی ملازم نے مجھے کئی بار جنسی چھیڑ چھاڑ کا نشانہ بنایا۔اب کی بار جب میں واش رُوم سے باہر آ رہی تھی تو میرے ملازم ساتھی نے میری کمر کے نچلے حصے پر زور سے ہاتھ مارا ۔ جس پر میں نے ناراضگی کا اظہار کیا تو وہ شرمندہ ہونے کی بجائے مزید ڈھیٹ بن گیا اور زبردستی میرے گال چُومنے کی کوشش کی۔ میں نے اس کی اس شرمناک حرکت پر اُسے زور دار تھپڑ مار دیا۔ جس پر اُس نے طیش میں آ کر مجھے گالیاں دینا شروع کر دیں۔ملزم اس سے قبل بھی مجھ سے اس طرح کی حرکات کر چکاتھا۔ ہر بار میں درگزر کرتی رہی تو اس کا حوصلہ بڑھ گیا تھا۔ دُبئی پولیس نے بھارتی کارکن کو گرفتار کیا تو اس نے کہا کہ اُس نے خاتون سے جنسی چھیڑ چھاڑ نہیں کی بلکہ محض مذاق کر رہا تھا۔ دفتر کے اندر نصب ایک کیمرے میں بھی بھارتی ملازم کی خاتون کو جنسی چھیڑ چھاڑ کا نشانہ بنانے کی ویڈیو ریکارڈ ہو گئی۔ جسے عدالت میں ثبوت کے طور پر بھی پیش کیا گیا۔ جس کے بعد ملزم نے اپنی شرمناک حرکتوں کا اعتراف کر لیا۔ اس مقدمے کا فیصلہ 20 جنوری 2020ء کو سُنایا جائے گا جس میں ملزم کو سخت سزا اور ڈی پورٹ کیے جانے کا امکان ہے۔