چلتی وین میں زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کی میڈیکل رپورٹ آ گئی

چلتی وین میں زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کی میڈیکل رپورٹ آ گئی
زیادتی کی تصدیق، طالبہ کے چہرے اور جسم کے حصوں میں ناخن اور زخم کے خراشیں پائی گئیں

گجرات ( ۔4 فروری 2020) بچی کے ساتھ زیادتی کرنے والے مبینہ ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔جنگ اخبار کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ روز خبر سامنے آئی تھی کہ وین ڈرائیور اور کنڈیکٹر نے چلتی گاڑی میں لڑکی کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا ہے،بچی کی والدہ کی مدعیت پروین ڈرائیور اور کنڈیکٹر کے خلاف مقدمہ درج کر کے 24 گھنٹوں کے اندر ڈرائیور کو میانوالی سے گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس نے اس حوالے سے گاڑی میں سوار دیگر لوگوں سے بھی تفتیش کی ہے۔متاثرہ بچی کی میڈیکل رپورٹ بھی سامنےآ گئی ہے۔میڈیکل رپورٹ میں طالبہ سے زیادتی اور مزاحمت کی تصدیق ہو گئی ہے۔میڈیکل رپورٹ کے مطابق طالبہ کے چہرے اور جسم کے حصوں میں ناخن اور زخم کے خراشیں پائی گئیں۔لڑکی کے کپڑوں پر خون کے متعدد نشان پائے گئے۔ ڈی پی او جہلم کا کہنا ہے کہ بچی کی والدہ سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔ بچی سے بھی ملاقات ہوئی،تاہم یہ اجتماعی زیادتی کا کیس نہیں ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ روز خبر سامنے آئی تھی کہ چلتی گاڑی میں ڈرائیور اور کنڈیکٹر نے لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔بتایا گیا کہ کھاریاں کے گاؤں علی چک کی رہائشی 15 سالہ طالبہ چکوال کے علاقے تلہ گنگ میں ایک مدرسہ میں عالمہ فاضلہ کا کورس کر رہی تھی۔دو روز قبل جب وہ وین میں سوار ہوئی تو وین ڈارئیور اور بعدازاں کنڈیکٹر نے اسے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ ملزمان لڑکی کو بے ہوشی کی حالت میں سڑک کے کنارے پھینک گئے۔ریسکیو نے بچی کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دیا ہے۔واقعہ کی اطلاع ملنے پر متاثرہ بچی کی والدہ کی رپورٹ پر پولیس نے نامعلوم ڈائیور اور کنڈیکٹر کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جب لڑکی مدرسہ سے اپنے گھر واپس جا رہی تھی،جب وہ وین میں بیٹھی تو کئی سواریاں گاڑی میں موجود تھیں۔ تاہم جب تمام سواریاں اتر گئی تو وین میں اکیلی رہ گئی جس کے بعد شیطان کا روپ دھارے ڈرائیور اور کنڈیکٹر نے چلتی گاڑی میں لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔

[X]

اپنا تبصرہ بھیجیں