ابوظہبی میں مقیم پاکستانی نے بھارتی ہندو کارکن کی لاش واپس بھجوا کر انسانیت کے دِل جیت لیے

ابوظہبی میں مقیم پاکستانی نے بھارتی ہندو کارکن کی لاش واپس بھجوا کر انسانیت کے دِل جیت لیے
احمد نے لاش وطن بھجوانے کا خرچہ بھی اُٹھایا اور مرنے والے کی بیوہ کو بھی دو ہزار درہم بھجوائے

ابوظہبی(10فروری 2020ء) پاکستان اور بھارت کے تعلقات ہمیشہ سے کشیدہ رہے ہیں تاہم ہندوتوی ایجنڈے کے تحت برسراقتدار آنے والے مودی کے بعد یہ تعلقات تاریخ کی کشیدہ ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ یہاں تک کہ آئے روز سرحدی جھڑپوں میں دونوں جانب کے فوجیوں اور عام افراد کے مرنے کی خبریں بھی سامنے آتی ہیں۔ تاہم متحدہ عرب امارات میں دونوں ملکوں کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا۔
یہاں پر دونوں ممالک کے لوگ مِل جُل کر رہتے ہیں۔ پاکستانی اور بھارتی کمیونٹی کے باہمی پیار محبت کا ایک اور تازہ ترین واقعہ سامنے آیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایک پاکستانی شہری نے ایک بھارتی شہری کی لاش بھارت بھجوا کر لوگوں کے دل جیت لیے ہیں۔ حالانکہ یہ پاکستانی مرنے والے بھارتی کو جانتا تک نہیں تھا۔ خلیج ٹائمز کے مطابق بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر اعظم گڑھ سے تعلق رکھنے والا 34 سالہ چندریکا 16 جنوری کو ابو ظہبی میں دل کے دورے کے باعث انتقال کر گیا تھا۔ اُس کی لاش مقامی ہسپتال میں 10 روز تک پڑی رہی کیونکہ کسی کی جانب سے لاش وطن واپس بھجوانے کا خرچہ نہیں اُٹھایا جا رہا تھا۔ جب یہ بات 52 سال کے پاکستانی احمد کو پتا چلی توانسانی ہمدردی کے تحت اُس نے یہ نیک کام کرنے کی نیت بنا لی۔ احمد نے نہ صرف بھارتی سفارت خانے سے رابطہ کرکے چندریکا کی باقیات واپس بھجوانے کیلئے کوششیں کیں بلکہ اخراجات بھی برداشت کیے۔ رحم دِل احمد نے اپنی جیب سے 4200 درہم ادا کرکے لاش بھارت بھجوائی اور یہی نہیں بلکہ اُس کی سوگوار بیوہ کو 2000 درہم بھی دیے۔احمد العین میں لکڑی کا بزنس کرتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے کوئی انوکھا کام نہیں کیا، مسلم ہونے کی حیثیت سے انسانیت کا فرض ادا کیا ہے۔ ان کا تعلق پشاور سے ہے۔احمد نے بتایا کہ انہیں 15 روز قبل پاکستان واپس آنا تھا لیکن کام کی وجہ سے انہیں ابو ظہبی میں ایک تعمیراتی کمپنی کا دورہ کرنا پڑا جہاں انہیں معلوم ہوا کہ اُن کے ایک اسٹاف ممبر کا انتقال ہو چکا ہے جس کی لاش مقامی اسپتال میں موجود ہے جسے تاحال وطن واپس نہیں بھیجا جا سکا۔ جس کے بعد انہوں نے بھارتی سفارت خانے سے رابطہ کیا اور انتظامات کیے۔

[X]

اپنا تبصرہ بھیجیں