دُبئی ٹیلی کام کا پاکستانی ملازم رشوت لینے پر گرفتار کر لیا گیا

دُبئی ٹیلی کام کا پاکستانی ملازم رشوت لینے پر گرفتار کر لیا گیا
پاکستانی ملازم نے ایک نجی کمپنی کے نیپالی ملازم سے خلافِ ضابطہ کام کروانے کے لیے 65 ہزار درہم کی رقم وصول کی تھی

دُبئی(۔12فروری 2020ء) دُبئی ٹیلی کام میں ملازمت کرنے والے دو پاکستانی ملازم کو ایک خلافِ ضابطہ کام کرنے کے بدلے رشوت میں بھاری رقم وصول کرنے پر گرفتار کر لیا گیا جبکہ رشوت دینے والے ایک نجی کمپنی کے نیپالی ملازم کی بھی گرفتاری کی گئی ہے۔ پاکستانی ملازم پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے 65 ہزار درہم کی بھاری رقم وصول کی تھی، جنہیں پولیس نے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق 30 سالہ نیپالی نے ایک ٹیلی کام فرم کے پاکستانی کلرک سے رابطہ کیا اور اُسے کہا کہ وہ اگر اُسے ضابطے کی کارروائی کے بغیر فون سیل ٹرانزیکشن کی منظوری دیا کرے گا تو اسے فی ٹرانزیکشن کے حساب سے 15سو درہم دیئے جائیں گے۔ نیپالی ملازم نے بتایا کہ اُس کے پاس اُس وقت 63 گاہک موجود تھے، جنہیں ضابطے کی کارروائی سے گزارے بغیر رعایت دی جانی تھی۔ نیپالی نے دعویٰ کیا کہ اُس کے پاس عنقریب گاہکوں کی گنتی 138 تک پہنچ جائے گی۔ پاکستانی کلرک نے نیپالی سے 65 ہزار درہم کی رشوت کے عوض معاملات طے کر لیے۔جس کے بعد پاکستانی کلرک نے اپنے ایک اور ساتھی کو اعتماد میں لے کر اُسے سارا پراسس کرنے کو کہا۔ تاہم ساتھی ملازم نے پولیس کو اطلاع کر دی۔ اس معاملے کو صیغہ راز میں رکھا گیا۔ جس روز پاکستانی کلرک نے ایک کیفے میں رقم وصول کی، اس وقت وہاں پاس ہی سادہ لباس میں پولیس اہلکار بھی موجود تھے۔ جونہی پاکستانی کلرک نے رقم وصول کی تو اسے گرفتار کر لیا گیا۔ جبکہ رشوت دینے والے نیپالی کو بھی موقع پر ہی دھر لیا گیا۔ مزید تفتیش کے بعد ایک پاکستانی شخص کی بھی گرفتاری عمل میں آئی جس نے بھاری رقم کے عوض موبائل وصول کیا تھا۔

[X]

اپنا تبصرہ بھیجیں