سعودی عرب میں اہلِ خانہ سمیت مقیم پاکستانی کارکنوں کو بڑی خوش خبری مِلنے کا امکان

سعودی عرب میں اہلِ خانہ سمیت مقیم پاکستانی کارکنوں کو بڑی خوش خبری مِلنے کا امکان
مجلسِ شُوریٰ کی جانب سے 2020ء کے لیے فیملی فیس اور ورکرز فیس میں اضافہ نہ کرنے کی تجویز دے دی گئی

ریاض (فروری 2020ء) سعودی عرب میں لاکھوں غیر ملکی افراد روزگار کی غرض سے موجود ہیں، جن میں پاکستانیوں کی گنتی بھی 23 لاکھ سے زائد ہے۔ آج سے چند سال قبل مملکت میں مرافقین فیس کا نفاذ کر دیا گیا جس کے تحت وہ غیر مُلکی جو اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ مقیم تھے، اُنہیں اپنے کُنبے کے ہر فرد کے حساب سے فیس کی ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔ ہر سال اس فیس میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ اس فیملی فیس کی وجہ سے ہزاروں پاکستانیوں نے اپنے بیوی بچوں کو وطن واپس بھجوا دیا تھا۔ جبکہ اکثر اس فیملی فیس کے خاتمے یا اس میں کمی کی خاطر آوازیں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ 2020ء میں اہلِ خانہ سمیت سعودی مملکت میں مقیم غیر ملکیوں کو شاندار خبر مِلنے کا امکان ہے۔ سعودی ویب سائٹ عاجل کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ مجلسِ شُوریٰ کا اجلاس گزشتہ روز ڈاکٹر عبداللہ آل الشیخ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ جس میں مجلس شوریٰ کی جانب سے وزارت تجارت و سرمایہ کاری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 2020ء کے لیے فیملی فیس اور ورکرز فیس میں اضافہ نہ کرے، بلکہ 2019ء والی فیس ہی برقرار رکھی جائے۔ تاکہ لاکھوں تارکین کو ریلیف دیا جا سکے۔ شوریٰ نے ہدایت کی ہے کہ اس مقصد کی خاطر دیگر سرکاری اداروں سے بھی مشاورت کی جائے۔ شوریٰ کی جانب سے فیملی فیس ، ورکرز فیس اور دیگر تجارتی معاملوں پر ایک مسودہ نظر ثانی کے بعد حتمی منظوری کے لیے ایوانِ شاہی کو بھیجا گیا ہے۔ جس کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ لیا جانا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال سعودی شُوریٰ کی ماتحت اقتصادی و توانائی کمیٹی کا اجلاس ہواتھا۔ اجلاس کے دوران یہ اہم فیصلہ لیا گیا کہ آئندہ سال 2020ء کے لیے فیملی فیس میں اضافہ نہیں کیا جا رہا، جبکہ کمپنیوں اور اداروں سے بھی اُن کے غیر مْلکی ملازمین پر عائد فیس میں بھی اضافہ نہیں ہو گا۔کمیٹی کے فیصلے کے مطابق تارکین سے فیملی فیس اور کمپنیوں سے ملازمین کی فیس اْسی حساب سے وصول کی جائے گی، جو 2019ء میں عائد کی گئی تھی۔ اقتصادی کمیٹی کی جانب سے وزارت تجارت و سرمایہ کاری کو بھی ہدایت کر دی گئی ہے کہ وہ 2020 ء میں غیر ملکی ملازمین سے فیملی فیس اور کمپنیوں سے غیر ملکی ملازمین پر لی جانے والی فیس میں اضافہ نہ کرے۔جو فیس پہلے وصول کی جا رہی ہے، وہی برقرار رکھی جائے۔اس طرح غیر مْلکیوں کے اہل ِخانہ سے فی کس کے حساب سے 300 ریال ماہانہ ہی وصول کیے جائیں گے۔اقتصادی کمیٹی کے اجلاس کے دوران رُکن شْوریٰ عبداللہ السعدون کی جانب سے یہ تجویز پیش کی گئی کہ چھوٹی کمپنیوں اور اداروں کو غیر مْلکی ملازمین کی فیس وصولی کے معاملے میں 3 سے 5 برس تک کے لیے استثنیٰ دے دیا جائے۔ تاکہ اُنہیں ان بھاری بھر کم فیسوں کے بوجھ کے باعث خسارے سے بچایا جا سکے۔واضح رہے کہ چند روز قبل سوشل میڈیا پر یہ افواہیں گردش کرتی رہی تھیں کہ سعودی حکومت کی جانب سے سال 2020ء کے لیے فیملی فیس میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جس کے بعد اہلِ خانہ سمیت مقیم تارکین وطن مزید مالی بوجھ کا شکار ہو جائیں گے۔ تاہم اقتصادی و توانائی کمیٹی کے فیصلے کے بعد یہ سب خبریں دم توڑ گئی تھیں اور تارکین وطن نے سْکھ کا سانس لیا ہے۔

[X]

اپنا تبصرہ بھیجیں