دُبئی میں مقیم پاکستانی خاتون نے لاکھوں درہم کا فراڈ کر ڈالا

دُبئی میں مقیم پاکستانی خاتون نے لاکھوں درہم کا فراڈ کر ڈالا
ملازم خاتون نے فرضی گاہکوں کے نام سے سمارٹ فونز اور سِم کارڈز کا اجراء کروا کر14 لاکھ درہم کا فراڈ کیا

دُبئی( فروری 2020ء) دُبئی میں مقیم ایک پاکستانی خاتون نے اپنی کمپنی کو 14 لاکھ درہم کا ٹیکا لگا دیا جو پاکستانی روپوں میں کروڑوں روپے کی رقم بنتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق 31 سالہ پاکستانی خاتون ایک ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی میں ملازم تھی جو اپنے گاہکوں کو قسطوں پر اسمارٹ فونز اور سِمز کی سہولت فراہم کرتی تھی۔ ملازم خاتون نے بڑی ہوشیاری سے جعلی گاہکوں کے نام سے پونے دو سال کی مُدت میں 496 اسمارٹ موبائل فونز قسطوں پر حاصل کر کے بیچ ڈالے اور اس طرح کمپنی کو 14 لاکھ درہم کا بھاری نقصان پہنچایا۔ کمپنی کے ذمہ داران خاتون ملازم کی ہوشیاری کی وجہ سے معاملے سے بے خبر رہے۔ تاہم جب کچھ عرصہ قبل کمپنی کی جانب سے آڈٹ کیا گیا تو لاکھوں درہم کا خسارہ ظاہر ہوا ۔ جس کے بعد تحقیقات کی گئیں تو پتا چلا کہ کئی سو افراد نے اپنی مہینہ وار اقساط جمع نہیں کرائی تھیں، جس کے باعث کمپنی کو بھاری نقصان اُٹھانا پڑ رہا تھا۔ مزید جانچ پڑتال کیے جانے پر پتا چلا کہ یہ سب پاکستانی ملازمہ کی کارستانی ہے۔ کیونکہ جن سینکڑوں گاہکوں کے نام سے قسطوں پر اسمارٹ فونز اور سِمز نکلوائی گئی تھیں، اُن کا درحقیقت کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ خاتون نے ان فرضی گاہکوں کے جعلی کوائف اپنی جانب سے درج کیے تھے اور پھر اپنے اکاؤنٹ کی مدد سے ہی ابتدائی رقم ادا کر کے اسمارٹ فونز حاصل کیے تھے۔ بعد میں ان اسمارٹ فونز کے بدلے کوئی اقساط جمع نہیں کرائی جاتی تھیں۔ ملازمہ کا یہ فراڈ سامنے آنے کے بعد اسے گرفتار کر لیا۔ پاکستانی خاتون کے خلاف مقدمہ بھی چلایا جا رہے جس میں اُسے اپنی کمپنی کے ساتھ دھوکا دہی ثابت ہونے کی صورت کئی سال قید کی سزا بھی بھُگتنا پڑ سکتی ہے۔مقدمے کی اگلی سماعت 11 مارچ 2020ء کو ہو گی۔ واضح رہے کہ چند روز قبل دُبئی میں ہی ٹیلی کام سیکٹر کے ایک پاکستانی ملازم کوایک خلافِ ضابطہ کام کرنے کے بدلے میں رشوت می وصول کرنے پر گرفتار کر لیا گیاہے۔ پاکستانی ملازم پر الزام ہے کہ اس نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے 65 ہزار درہم کی بھاری رقم وصول کی تھی، جسے پولیس نے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔

[X]

اپنا تبصرہ بھیجیں