مسئلہ کشمیر کا حل: یورپی یونین نے ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا

یورپی یونین کا مسئلہ کشمیر 2020 کی ترجیحات میں شامل نہ کرنے کا اعلان

برسلز(این این آئی) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم اور ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ ناانصافیوں جیسے اہم ترین معاملات یورپی یونین کی 2020 کی ترجیحات میں شامل نہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق یورپی یونین (ای یو)کی کونسل آف دی یورپین یونین نے اہم اجلاس کے دوران رواں سال کی اپنی ترجیحات کی فہرست ترتیب دیں۔ یہ کونسل تمام ممبر ممالک کے حکومتی عہدیداروں پر مشتمل ہوتی ہے اور اسے یورپین یونین کے خارجہ پالیسی، تحفظ اور انسانی حقوق سے متعلق فیصلے کرنے کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔مذکورہ فہرست کی رپورٹ کونسل کی جانب سے کیے گئے فیصلوں کے نتائج پر مشتمل ہے جس میں کونسل کی جانب سے رواں سال کیے جانے والے اقدامات کو شامل کیا گیا ہے۔ان اقدامات میں انسانی حقوق کی تعمیل کو یقینی بنانے سمیت جہاں کہیں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی اس کی مذمت کرنے سمیت اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمیشن کی حمایت کرنا شامل ہے۔علاوہ ازیں کونسل کی مذکورہ فہرست میں حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے اقوام متحدہ سے ہر طرح کا غیر مشروط تعاون کریں گے اور وہ اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں کو اپنے علاقوں یہاں تک کے متنازع علاقوں تک بھی رسائی دیں گے۔اس فہرست میں کئی اہم ترجیحات کو شامل کیا گیا ہے جن میں جنسی اور صنفی تشدد، ماحولیاتی تبدیلی، جدید ٹیکنالوجی کے مسائل، انسانی حقوق کی خلاف ورزی، سزائے موت، تشدد، اذیت ناک سزاں اور تضحیک آمیز رویوں پر نظر رکھنا، جمہوریت و قانون کی پاسداری، اظہار رائے کی آزادی، ہر طرح کے امتیازی سلوک، اقلیتوں و بچوں کے حقوق اور دہشت گردی جیسے مسائل پر نظر رکھنے کی ترجیحات بھی شامل ہیں۔ اس فہرست میں اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تحقیقات و عالمی انسانی حقوق کے قوانین کے تحفظ، سمیت مہاجرین و اندرون ملک بے گھر ہونے والے افراد کے مسائل کو دیکھے جانے سمیت اقوام متحدہ کی جانب سے انسانی حقوق اور کاروبار سے متعلق اصولوں کے تحت کام کرنے والے مسائل جیسی ترجیحات شامل ہیں۔مذکورہ رپورٹ میں کونسل کی جانب سے متعدد ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیے جانے سمیت تیسری دنیا کے ممالک میں اس طرح کے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اگرچہ رپورٹ میں کئی ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بات کرنے سمیت انہیں حل کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے اور رپورٹ سے عندیہ ملتا ہے کہ کس طرح کونسل نے اچھا کام کیا ہے تاہم رپورٹ سے بھی یہ واضح ہوتا کہ کونسل نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں پیش پیش بھارت جیسے ممالک کو نظر انداز کردیا ہے۔گزشتہ چند سال میں مودی حکومت کے دوران بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں واضح طور پر اضافہ دیکھا گیا اور متعدد عالمی تنظیموں کی رپورٹس میں بھی اس بات کی نشاندہی کی جا چکی ہے کہ وہاں انسانی حقوق کے کارکنان، سماجی رہنمائوں اور صحافیوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں جہاں بھارتی فوج کئی دہائیوں سے غیر انسانی مظالم میں ملوث ہے اور وہ بغاوت کو کچلنے کے لیے بے دردی سے طاقت کا استعمال اور یہاں تک کہ وہاں پیلٹ گنوں کا بھی استعمال کررہی ہے، وہیں مودی سرکار نے گزشتہ برس 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کیا اور وادی میں 200 سے زائد دنوں سے کرفیو نافذ ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق کمشنر نے گزشتہ برس مسلسل دوسرے سال میں بھی وادی کشمیر میں بھارتی فوج کی انسانی حقوق کی پامالیوں اور مظالم پر تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔