دُبئی میں مقیم پاکستانی ملازمین نے بھارتی شہری کو مار مار کر ادھ مُوا کر دیا

دُبئی میں مقیم پاکستانی ملازمین نے بھارتی شہری کو مار مار کر ادھ مُوا کر دیا

4 پاکستانی ملازمین کا اپنی ہی کمپنی کے بھارتی ملازم سے جھگڑا ہوا تھا، جس کے بعد اُس کی شدید مار پیٹ کی گئی
دُبئی(فروری 2020ء) دُبئی میں مقیم 4 پاکستانی کارکنان کو پولیس نے ایک بھارتی ملازم کی مار پیٹ کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ملزمان نے کسی بات پر طیش میں آ کر اپنی ہی کنسٹرکشن کمپنی کے بھارتی ملازم کو بُری طرح مارا پیٹا جس کے باعث وہ بُری طرح زخمی ہو گیا۔ اس واقعے کی رپورٹ الرشیدیہ پولیس اسٹیشن میں درج کرائی گئی جس کے بعد تشدد میں ملوث چاروں پاکستانیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ ملزمان کی عمریں 24 سے 31 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہیں، جبکہ تشدد کا نشانہ بننے والے بھارتی شہری کی عمر 35 سال ہے۔ متاثرہ بھارتی ملازم نے عدالت کو بتایا کہ وہ ایک کنسٹرکشن کمپنی میں ملازم ہے۔ وقوعہ کے روز وہ ایک صحرائی علاقے میں کنسٹرکشن سائٹ پر کام کرنے کے بعد دیگر ساتھی ملازمین کے ساتھ بس کے انتظار میں کھڑا تھا۔ جب بس کے آنے پر میں اس میں سوار ہونے لگا تو اچانک میری ہی کمپنی کے پاکستانی ملازموں کے ایک گروپ نے مجھ پر حملہ کر دیا۔ ایک ملزم نے میری گردن پر زوردار کہنی ماری جبکہ دوسرے نے میری گردن پکڑ لی۔ تیسرے ملزم نے میری کمر پر لات ماری جبکہ چوتھا میری ٹانگوں پر زوردار لات مارتا رہا۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے زمین پر گرا لیا اور اس وقت تک مجھے مُکے اور لاتیں مارتے رہے جب تک میں بے ہوش نہ ہو گیا۔تھوڑی دیر بعد ایک شخص نے مجھ پر پانی پھینک کر ہوش دلائی۔ میرے جسم کی کئی ہڈیاں بُری طرح ٹوٹ گئیں جس کے باعث کئی ماہ تک میرا ہسپتال میں علاج چلتا رہا۔
تاہم بھارتی ملازم نے اس جھگڑے کی وجہ نہیں بتائی کہ کیوں اس کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ملزمان کی جانب سے اپنے جُرم کا قبول کرنے سے انکار کیا گیا۔ اس مقدمے کا فیصلہ 26فروری 2020ء کو سُنایا جائے گا، جس میں چاروں پاکستانیوں کو سزا سُنائے جانے کا بھرپور امکان ہے