اسلام آباد کے نجی کلینک سے فرار کرونا وائرس کا مبینہ مریض آزادکشمیرپولیس کوچکمادیکر اپنے علاقے پہنچ گیا

اسلام آباد کے نجی کلینک سے فرار کروونا وائرس کا مبینہ مریض آزادکشمیرپولیس کوچکمادیکر باغ پہنچ گیا

اسلام آباد( نیوز)کورونا وائرس کی روک تھام کے سلسلہ میں راجہ فاروق حیدر خان کی حکومت کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے جبکہ آزاد کشمیر کو پاکستان سے ملانے والے انٹری پوانٹس پر کورونا سکرینگ اور جانچ پڑتال کرنے والے عملے کی ناقص کارکردگی کا پول بھی کھل گیا ہے۔ سٹیٹ ویوز ذرایع کے مطابق تیمور شاہ ولد محمود شاہ جس کا تعلق باغ‌آزادکشمیر کے نواحی گاؤں ہمہ موہڑہ موہری فرمان شاہ سے ہے۔ اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال سے کورونا کی آئسولیشن وارڈ سے چھپ کر بذریعہ پبلک ٹرانسپورٹ براستہ آزاد پتن اپنے گھر پہنچا اور گھر والوں کو خود بتایا کہ وہ کورونا میں مبتلا رہا ہے۔ جس پر گھر والے خوف زدہ ہو کر گھر سے باہر بھاگ نکلے جس کے بعد تیمور خود بھاگ کر قریبی جنگل میں چھپ گیا۔ گھر والوں نے تھانہ پولیس باغ تک اطلاع پہنچائی۔ جس پر سب انسپکٹر اصغر ہمراہ نفری اسکے پیچھے گئے اور رات تقریبا 2بجے اسے پکڑ کر باغ قرنطینیہ وارڈ میں پہنچایا-
ذرایع کے مطابق تیمور کے خون کے نمونے لے کر دوبارہ اسلام آباد لیبارٹری کو بھجوا دیے گئے ہیں جب کہ دوسری جانب محکمہ صحت آزادکشمیر کے فوکل پرسن ڈاکٹر ندیم نے گذشتہ 24 گھنٹوں‌کے دوران آزادکشمیر بھر سے کورونا وائرس کے شک میں‌ دو نئے کیس موصول ہونے کی تصدیق کی ہے ۔ ڈاکٹر ندیم کے مطابق دونوں مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کے لیے بلڈ حاصل کرکے نیشنل انسٹییوٹ آف ہیلتھ سائنسز اسلام آباد کو بھیج دیے گئے ہیں‌۔ فوکل پرسن کے مطابق ان دو مشتبہ افراد میں سے ایک کا تعلق باغ اور دوسرے کا تعلق میرپور آزادکشمیر سے ہے یہ بھی سنیں

اپنا تبصرہ بھیجیں