مسجد الحرام کےدروازے بند کر دیئے گئے

مسجد الحرام کےدروازے بند کر دیئے گئے
حکام کے مطابق صرف بڑے دروازے کھُلے رکھے جائیں گے

مکہ مکرمہ ( مارچ 2020ء) کورونا وائرس کے باعث جہاں سعودی مملکت نے اہم ترین فیصلے لیے ہیں وہیں پر مسجد الحرام اور مسجد نبوی کا انتظام سنبھالنے والی حرمین کمیٹی کی جانب سے بھی اہم اقدامات اُٹھائے جا رہے ہیں، جن کے تحت حرمین شریفین میں لوگوں کی تعداد محدود کر دی گئی ہے۔ سعودی میڈیا کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روز حرمین کی انتظامیہ نے ایک اور اہم فیصلہ لیا ہے جس کے تحت مسجد الحرام کے بیشتر دروازے بند کر دیئے گئے ہیں، صرف بڑے دروازے کھُلے رکھے ہیں۔ سعودی سرکاری نیوز ایجنسی ایس پی اے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ حرمین شریف کی انتظامی کمیٹی کے سربراہ شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدید نے سوموار کے روز ایک حکم جاری کروا کر مسجد الحرام کے تمام دروازے بند کروا دیئے ہیں تاہم کچھ بڑے دروازوں کو کھُلا رکھا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مسجد الحرام میں لوگوں کی آمد کو محدود کرنا ہے تاکہ کورونا وائرس کی موذی وبا سے نمازیوں کا تحفظ ہو سکے۔ ڈاکٹر السدیس نے بتایا کہ حرم شریف کے بیشتر دروازوں کی بندش کا فیصلہ محکمہ صحت کے ذمہ داروں کے مشورے کے بعد کیا گیا ہے تاکہ زائرین کی زندگیوں کو کورونا سے لاحق خطرات گھٹائے جا سکیں۔ واضح رہے کہ مسجد الحرام کے 100 سے زائد دروازے ہیں، جن میں سے کچھ دروازے کئی کئی میٹر چوڑے اور اُونچے ہیں ، کچھ درمیانے اور کچھ چھوٹے سائزکے ہیں۔ گزشتہ روز جمعة المبارک سے دونوں مقدس مساجد کے بیرونی صحنوں میں نماز ادا کرنے پر پابندی لگائی گئی ہے ۔ یہ پابندی عارضی نوعیت کی ہے ۔ حرمین شریفین کی انتظامیہ کے ترجمان کی جانب سے ٹویٹر اکاؤنٹ پر آگاہ کیا گیا ہے کہ نمازیوں کو دونوں مساجد کے بیرونی صحنوں میں نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ تمام زائرین اور نمازیوں کو چاہیے کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں، تاکہ کورونا وائرس کی وبا کو موثر طور پر قابو پانے میں مدد مل سکے۔حرمین شریفین کی انتظامیہ نے مسجد نبوی اور مسجد الحرام میں حفاظتی اور احتیاطی اقدامات کی سطح کو مزید بلند کر دیا ہے۔ جراثیم کش مواد کے ساتھ صفائی کا عمل بڑھا دیا گیا ہے۔ جدید ترین آلات اور مشینوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ مسجد الحرام اور مسجد نبوی کو جراثیم سے پاک رکھنے اور ان کی تطہیر کے لیے 3500 اہل کار مامور کیے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں