امارات سے پاکستان واپس جانے والوں کا ریپڈ کوروناٹیسٹ شروع ہو گیا

امارات سے پاکستان واپس جانے والوں کا ریپڈ کوروناٹیسٹ شروع ہو گیا

امارات سے پاکستان واپس جانے والوں کا ریپڈ کوروناٹیسٹ شروع ہو گیا

گزشتہ روز جن پاکستانیوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آ یا، انہیں جہاز میں سوار ہونے سے روک دیا گیا
دُبئی( 15مئی 2020ء) متحدہ عرب امارات میں اس وقت 60 ہزار سے زائد پاکستانی فوری طور پر وطن واپسی کے لیے پاکستانی سفارت خانے میں اپنی رجسٹریشن کروا چکے ہیں۔ ہر پاکستانی جلد از جلد وطن واپس جانا چاہتا ہے، تاہم سفارت خانے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اگر کسی پاکستانی کو خصوصی پروازوں میں سفر کے لیے منتخب کر بھی لیا جاتا ہے، تو اسے پرواز میں سوار ہونے سے قبل ریپڈ کورونا ٹیسٹ کروانا ہو گا۔
اگر کسی مسافر کا ٹیسٹ مثبت آ گیا تو اسے پرواز میں سوار نہیں کیا جائے گا۔ پاکستانی قونصل جنرل نے بتایا ہے کہ دُبئی ہیلتھ اتھارٹی کی جانب سے پاکستان جانے کے خواہش مندوں کے کورونا ٹیسٹ لیے جا رہے ہیں۔ 15 مئی سے لے کر 21 مئی تک وطن واپسی کے لیے پی آئی اے اور اماراتی لائنز کی جانب سے 7 پروازیں شیڈول ہیں۔
گزشتہ روز بھی دُبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر فیصل آباد کے لیے شیڈول پرواز کی روانگی سے قبل مسافروں کے کورونا ٹیسٹ لیے گئے، جن مسافروں کے ٹیسٹ پازیٹو آئے، انہیں جہاز میں سوار ہونے سے روک دیا گیا۔
اس موقع پر پاکستانی قونصل جنرل احمد امجد علی بھی ایئرپورٹ پر موجود تھے۔
جنہوں نے مسافروں کے کورونا ٹیسٹ کے عمل کا جائزہ لیا۔ پاکستانی قونصل خانے کے مطابق اب تک 5,883 پاکستانیوں کو پی آئی اے کی 26 خصوصی پروازوں کے ذریعے پاکستان بھجوا دیا گیا ہے۔ اسی ہفتے کے دوران مزید سات پروازیں پاکستان کو روانہ ہو رہی ہیں۔ اس وقت 63 ہزار پاکستانیوں نے وطن واپسی کے لیے اپنی رجسٹریشن کروا رکھی ہے، تاہم انہیں انتظار کرنا ہو گا۔
ترجیحی فہرست کے مطابق ہی پاکستانیوں کو واپس بھیجا جائے گا۔گیارہ ہزارسے زائد پاکستانی ایسے ہیں جو ملازمتوں کی تلاش میں امارات آئے مگر کورونا وبا کے باعث یہیں پر محصور ہو کر رہ گئے۔ انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) کی جانب سے بھی دُنیا بھی کی سول ایوی ایشنز سے کہا گیا ہے کہ لوگوں کوپروازوں سے اُترنے کے بعد قرنطینہ نہ کیا جائے بلکہ ان کے پروازوں میں سوار ہونے سے قبل ان کے کورونا ٹیسٹ لیے جائیں۔ کیونکہ ارائیول کے بعد مسافروں کو قرنطینہ کرنے سے انٹرنیشنل پروازوں کی مکمل بحالی میں بڑی رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔