ویزہ جرمانے معاف کروانے والوں پر امارات دوبارہ آنے پر کوئی...

ویزہ جرمانے معاف کروانے والوں پر امارات دوبارہ آنے پر کوئی پابندی نہیں

ویزہ جرمانے معاف کروانے والوں پر امارات دوبارہ آنے پر کوئی پابندی نہیں ہو گی

جن لوگوں کے اقامے یکم مارچ 2020ء سے پہلے ایکسپائر ہوئے ہیں، اگر وہ 18 مئی سے پہلے امارات چھوڑ دیں توان سے جرمانے وصول نہیں کیے جائیں گے
دُبئی( 15مئی 2020ء) اماراتی محکمہ برائے ویزہ و شہریت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ جن افراد کے ویزہ خلاف ورزیوں پر جرمانے معاف کیے گئے ہیں ، اگر وہ 18 مئی سے پہلے امارات چھوڑ دیں تو ان کے دوبارہ امارات میں داخلے پر کوئی پابندی نہیں ہو گی۔ گزشتہ بُدھ کو متحدہ عرب امارات کے سربراہ شیخ خلیفہ بن زاید النہیان نے تمام ویزہ جرمانوں کی مکمل معافی کا اعلان کیا تھا۔
جبکہ ایسے غیر مُلکی جن کے اقامے یکم مارچ 2020ء سے قبل ایکسپائر ہو گئے تھے، یا جن کی انٹری یکم مارچ سے قبل ہوئی ہے، اگر وہ 18 مئی کے بعد امارات سے چلے جائیں تو انہیں بھی جرمانے ادا نہیں کرنے ہوں گے۔ تارکین وطن کو مملکت چھوڑنے کے لیے تین ماہ کی رعایتی مُدت دی گئی ہے۔ محکمہ برائے ویزہ و شہریت کے ترجمان بریگیڈیئر خامسی الکعبی نے بتایا ہے کہ جو لوگ نئی سکیم سے فائدہ اُٹھا کر اپنے وطن واپس لوٹ جائیں گے، انہیں دوبارہ بھی امارات آنے کی اجازت ہو گی۔
البتہ انہیں کچھ شرائط پوری کرنا ہوں گی۔اماراتی قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی تارک وطن بغیر کارآمد رہائشی ویزہ کے مملکت میں مقیم ہے یا انٹری پرمٹ کی مُدت ختم ہو جانے کے بعد غیر قانونی طور پر مقیم ہے، دونوں صورت میں اسے ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔ متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ یکم مارچ سے قبل ایکسپائر ہو جانے والے انٹری اور رہائشی پرمٹ رکھنے والے غیر ملکیوں کو وطن واپسی پر کسی قسم کا جرمانہ ادا نہیں کرنا ہوگا، ایکسپائر شناختی کارڈ اور ورک پرمٹ پر بھی کوئی جرمانہ نہیں ہو گا۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النہیان کے حکم پر ویزہ قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار دیے گئے تمام غیر ملکیوں پر عائد جرمانے معاف کر دیئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امارات میں موجود ایسے تمام غیر ملکی جن کے انٹری اور رہائشی پرمٹ یکم مارچ سے قبل ایکسپائر ہوگئے تھے، یا جن کے اماراتی شناختی کارڈ یا ورک پرمٹ بھی ایکسپائر ہو چکے ہیں ان کیلئے خوشخبری ہے کہ ان پر کسی قسم کا جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا۔