اللہ تعالیٰ نے عمران خان کی انگلی تھام لی ، مثبت خبریں آنا شروع ۔۔۔۔۔۔ٹائیگروں کے سر فخر سے بلند کردینے والی خبر

لاہور (ویب ڈیسک) جون میں ختم ہونے والے مالی سال میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری اڑھائی ارب ڈالر سے زیادہ رہی جو اس سے پہلے آنے والے سال میںسوا ارب ڈالر سے کچھ زیا دہ تھی۔ یعنی اس میں تقریباًنوّے فیصد اضافہ ہوگیا۔ دوسرے الفاظ میں بیرون ملک سے سرمایہ کاری کرنے والوں کا

نوجوان کالم نگار عدنان عادل اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان پر اعتماد میں اضافہ ہوا۔ حالانکہ ہمارا میڈیا ملکی معیشت کی اتنی تاریک تصویر پیش کررہا تھا کہ لگتا تھا کہ اس ملک میں کچھ بھی اچھا نہیں۔اسٹاک مارکیٹ بھی گزشتہ تین ہفتوں سے مسلسل آگے بڑھتی جارہی ہے۔ اسکی ترقی کی رفتار حالیہ برسوں میںایک ریکارڈ ہے۔گزشتہ ایک ماہ میں چار ہزار پوائنٹس کا اضافہ ہوچکا ہے۔ ملک میں مندی کا تاثر بھی پوری طرح درست نہیں۔ عید کے موقع پر عوام نے وبا کے باوجود کھُل کر خریداری کی۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ اس جون میں پاکستان نے بیرون ملک سے تین گنا زیادہ مالیت کے موبائل فون درآمد کیے ہیں۔ موبائل فون بنیادی ضرورت کی شے نہیں۔ اسکی خریداری اور درآمد میں زبردست اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ ملک کا متوسط طبقہ اچھی حالت میںہے اور پہلے کی طرح شاپنگ کی طرف مائل ہے۔چار ماہ سے کورونا وبا کے باعث ملک میں کاروبار جزوی طور پر بند ہیں لیکن غریب لوگ بھوک سے دوچار نہیں ہوئے۔ حکومت نے تقریبا ڈیڑھ سو ارب روپے سوا کروڑ سے زیادہ خاندانوں میں تقسیم کرکے انکو روٹی پانی سے محروم نہیں ہونے دیا۔ اگرچہ بارہ ہزار فی خاندان کی رقم بہت کم ہے لیکن حکومت کے محدود وسائل دیکھتے ہوئے یہ بھی جرات مندانہ اقدام تھا۔ حکومت نئے مالی سال میں دو سو ارب روپے بانٹنے کااعلان کرچکی ہے۔سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جارہی ہیں۔ اسٹیٹ بنک نے بنیادی شرح سود کو پونے چودہ سے کم کرکے سات فیصد کردیا ہےتاکہ بزنس میں آسانی ہو۔ مکان خریدنے کے لیے حکومت نے قرضوں کو آسان بنادیا ہے۔ عوام صرف پانچ سے سات فیصد شرح سود پر قرض لیکر مکان خرید سکتے ہیں۔ اگر اس شعبہ میں حکومت نے اپنی پالیسی میں مستقل مزاجی کا ثبوت دیا تو روزگار پیدا ہوگا اور مکانات میں کمی کا مسئلہ بھی حل ہوگا۔ سب سے اہم‘ وفاقی حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار پر ایکسی لیٹر دبا دیا ہے۔ دیامیر بھاشا ڈیم کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔ وزیراعظم کے ساتھ آرمی چیف کا سنگ بنیاد کی تقریب میں شریک ہونا ایک بڑا اِشارہ ہے کہ ریاست اپنے تمام وسائل کے ساتھ اس منصوبہ کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا چاہتی ہے۔ سکھر سے حیدرآباد موٹر وے کا منصوبہ وفاقی حکومت نے منظورکرلیا ہے جس پر کام شروع ہونے جارہا ہے۔ چین کے تعاون سے کراچی سے پشاور تک نئے ‘ جدید ریلوے ٹریک کا منصوبہ جسے ایم ایل ون کہا جاتا ہے منظوری کے حتمی مراحل میں ہے ۔ فیصل آباد میں قائداعظم معاشی زون کا قیام ملک میں صنعتی عمل کو تیز کرنے کی جانب ایک انقلابی اقدام ہے۔ اس صنعتی شہر میںلگنے والی صنعتوں کو دس سال کے لیے متعدد ٹیکسوں سے چھوٹ ہوگی۔ پنجاب حکومت بہاولپور سمیت متعدد شہروں میںنئے انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ اگر یہ کام سست رفتاری کا شکار نہ ہوا تو ملک میں پائیدار معاشی ترقی کا راستہ کوئی روک نہیں سکتا۔ یوں لگتا ہے کہ حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کی عائد کردہ بندشوں کو توڑتے ہوئے چین کے ساتھ شراکت داری میں سی پیک منصوبے تیزی سے آگے بڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ پاکستان ٹیک آف کی پوزیشن میں آچکا ہے ۔اگر شورش پسند سیاستدان قوم کو سکون کا سانس لینے دیں تو ملک کے تیزی سے آگے کی طرف بڑھنے میں کوئی رُکاوٹ نہیں ہے۔(ش س م)

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.

izmir escort
php shell
sakarya escort adapazarı escort beylikdüzü escort esenyurt escort istanbul escort beylikdüzü escort istanbul escort avcılar escort beylikdüzü escort şişli escort
istanbul escort bayan bilgileri istanbul escort ilanlari istanbul escort profilleri hakkinda istanbul escort sitesi istanbul escort numaralari istanbul escort fotograflari istanbul escort bayanlarin iletisim numaralari istanbul escort aramalari yapilan site istanbul escort istanbul escort