میں نے برقع پہنا نہیں تھا مجھے پہنایا گیا تھا ۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) سنہ 2007 میں اسلام آباد میں موجود لال مسجد پر کیے جانے والے فوجی آپریشن کو 13 سال گزر چکے ہیں لیکن آج بھی یہ معاملہ پوری طرح حل نہیں ہوا۔آج بھی اس دھوئیں سے کبھی کبھی چنگاری نکلتی ہے جو کسی بھی وقت کسی بڑے افسوسناک واقعہ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

نامور صحافی شہزاد ملک بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اس آپریشن کے بارے میں محتلف وجوہات پیش کی جاتی ہیں۔ کچھ لوگ اس آپریشن کے حق میں بات کرتے ہیں تو کچھ لوگ اس معاملے کو کسی تادیبی کارروائی کے بغیر حل کرنے کا گلہ کرتے ہیں۔ہارون غازی کے بقول اس آپریشن کے دوران وہاں پر تعینات گارڈز کے پاس 14 لائسنس یافتہ ہتھیار موجود تھے ۔اُنھوں نے کہا کہ لال مسجد میں موجود ایک طالب علم نے واکی ٹاکی کے ذریعے اطلاع دی کہ اندر ہتھیار ختم ہو چکے ہیں تاہم مولانا عبدالرشید غازی نے واکی ٹاکی کے ذریعے اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی تاکہ کہیں آپریشن میں تیزی نہ آجائے۔ہارون غازی کہتے ہیں کہ اس آپریشن کے دوران جب کرفیو میں نرمی کی گئی تو اس موقع پر ان گھروں میں مقید دونوں بھائیوں کی فیملی جن میں خواتین بھی شامل تھیں، وہاں سے نکلیں اور وہ یعنی ہارون غازی بھی اپنی والدہ کے ساتھ وہاں سے نکل گئے۔اُنھوں نے کہا کہ اگر ضلعی انتظامیہ کو اس بات کا علم ہوتا تو وہ اُنھیں فوری گرفتار کرلیتے کیونکہ ان کے اور ان کی والدہ کے خلاف بھی مقدمات درج تھے۔اُنھوں نے کہا کہ جس روز ان کے والد اس آپریشن میں ہلاک ہوئے تو اس سے پہلے بھی وہ اپنے بچوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔مولانا عبدالرشید غازی جس روز جان سے گئے تو اس وقت اسامہ بن لادن کا ایک پیغام بھی آیا تھا جس میں اُنھوں نے عبدالرشید غازی

کو اسلام کا ہیرو قرار دینے کے ساتھ ساتھ پاکستانی افواج کے خلاف لڑائی کا اعلان بھی کیا ۔ لال مسجد آپریشن کے مرکزی کردار مولانا عبدالعزیز نے مدارس کے طالب علموں کی طرف سے دین اسلام کی ترویج اور فحاشی کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کو آپریشن کی وجہ قرار نہیں دیا بلکہ ان کے بقول ان کے خلاف آپریشن افغان جہاد کی حمایت کرنے کی بنا پر کیا گیا۔اُنھوں نے کہا کہ لال مسجد آپریشن کے دوران اُنھیں مسجد کے باہر سے گرفتار کیا گیا اور وہاں پر موجود فورسز نے وہاں پر ایک برقعہ منگوایا اور اُنھیں برقعہ پہننے پر مجبور کیا گیا۔ان سے پوچھا گیا کہ گرفتاری کے بعد جب وہ سرکاری ٹی وی پر انٹرویو دے رہے تھے تو اس وقت اُنھوں نے برقعہ کیوں نہیں اتارا تو اس سوال پر مولانا عبدالعزیز خاموش رہے۔مولانا عبدالعزیز کے دعوے کے برعکس اس وقت اسلام آباد پولیس کے حکام کا کہنا تھا کہ مولانا عبدالعزیز کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ برقعہ پہن کر جامعہ حفصہ کی ان طالبات کے ساتھ جانے کی کوشش کرر ہے تھے جنھیں فورسز کی طرف سے جانے کی اجازت دی گئی تھی۔پولیس حکام کے مطابق جب مولانا عبدالعزیز خواتین کے لیے بنائے گئے واک تھرو گیٹ سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے اور وہاں پر تعینات ایک لیڈی کانسٹیبل نے مشکوک جانتے ہوئے اس کی اطلاع وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں کو دی جنھوں نے جب برقعہ اتارا تو اندر خاتون کی بجائے مولانا عبدالعزیز تھے۔(بشکریہ

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.

izmir escort
php shell
sakarya escort adapazarı escort beylikdüzü escort esenyurt escort istanbul escort beylikdüzü escort istanbul escort avcılar escort beylikdüzü escort şişli escort
istanbul escort bayan bilgileri istanbul escort ilanlari istanbul escort profilleri hakkinda istanbul escort sitesi istanbul escort numaralari istanbul escort fotograflari istanbul escort bayanlarin iletisim numaralari istanbul escort aramalari yapilan site istanbul escort istanbul escort
ısparta escort bayan profilleri bilecik escort ilanları edirne escort kadınlarının profilleri bolu escort numaraları kırşehir escort fotoğrafları burdur escort bayanların telefon numaraları ayvalık escort bayan ilanları amasya escort profilleri adapazarı escort bayan numaraları çorlu escort sitesi hakkında rize escort zonguldak escort ilanları trabzon escort bayan ilanları ve profilleri edirne escort