عزیر بلوچ اور پیپلز پارٹی کے تعلقات۔۔۔۔۔ ارشاد بھٹی کے تہلکہ خیز انکشافات اور چند سوالات

لاہور (ویب ڈیسک) سوال یہ سندھ حکومت کی جے آئی ٹی رپورٹ اصلی یا علی زیدی کی پیش کردہ جے آئی ٹی رپورٹ، سوال یہ بھی تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) نے عزیر بلوچ کو اپنی پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت کیوں دی، سوال یہ بھی عزیر بلوچ پی پی کا لاڈلا،

چہیتا کیوں تھا، سوال یہ بھی ذوالفقار مرزا نے بحیثیت وزیر داخلہ ریوڑیوں کی طرح ہتھیاروں کے لائسنس کیوں بانٹے، سوال یہ بھی مرزا صاحب نے ایم کیو ایم حقیقی کے آفاق احمد کو قید خانے میں جا کر 30لاکھ، بعد میں ہتھیار کیوں دیے۔سوال یہ بھی لیاری گینگز سے ایم کیو ایم کا توڑ مطلب برائی کا توڑ برائی سے، سندھ حکومت کی یہ پالیسی کیوں تھی، سوال یہ بھی 198افراد کی جان لینے والا عزیر بلوچ مسلسل یہ کام کرتا رہا، سندھ حکومت، ادارے سوئے رہے کیوں، سوال یہ بھی 198مرڈر کرنے والے عزیر بلوچ کو 2012میں امن ایوارڈ دیا گیا کیوں، سوال یہ بھی 198افراد کے کلر عزیر بلوچ سے فریال تالپور کی ملاقاتیں، تحفہ لینا، کیوں، سوال یہ بھی 198افراد کی جان لینے والے عزیر بلوچ کے نامزد کردہ لوگوں کو پی پی نے ٹکٹ دیے کیوں۔ سوال یہ بھی 198افراد کی جان لینے والے کے جیتے امیدواروں کے عشائیے میں وزیراعلیٰ قائم علی شاہ، فریال تالپور، کراچی کے بڑوں کی شرکت کیوں، سوال یہ بھی عزیر بلوچ بھتے لیتا رہا، قبضے کرتا، چھڑواتا رہا، بھتے کی رقمیں دبئی جاتی رہیں، کسی کو خبر نہ ہوئی، کیوں، سوال یہ بھی عزیر بلوچ نے سب کچھ خود کیا یا کروایا گیا۔سوال یہ بھی کیا یہ سچ کہ عزیر بلوچ نے زرداری صاحب کو 40گھروں کا قبضہ لےکر دیا، سوال یہ بھی کیا یہ سچ کہ عزیر بلوچ نے زرداری صاحب کو 14شوگر ملوں کا قبضہ لے کردیا، سوال یہ بھی عزیر بلوچ کے سر کی قیمت کس نے ختم کرائی، سوال یہ بھی 198افراد کی جان لینے والا عزیر بلوچ جس پر 56مقدمات وہ وزیروں، مشیروں سے کیسے ملتا رہا۔

سرکاری دفتروں میں کیسے آتا جاتا رہا، اپنی مرضی کے پولیس افسران کیسے لگواتا رہا، سوال یہ بھی کیا یہ سچ کہ 198افراد کی زندگی کی شمع بجھانے والا عزیر بلوچ فریال تالپور، قادر پٹیل، اویس ٹپی، شرجیل میمن، سینیٹر یوسف بلوچ سے ملاقاتیں کرتا رہا، سوال یہ بھی حبیب جان کا یہ الزام سچایا جھوٹا کہ پیپلز پارٹی نے روٹھے عزیر بلوچ کو منانے کیلئے 5کروڑ دیے، سوال یہ بھی حبیب جان کا یہ الزام سچا یا جھوٹا کہ عزیر بلوچ زرداری صاحب سے ملا۔ ملاقات ایجنڈا تھا زرداری صاحب کا اپنے منہ بولے بھائی اویس مظفر ٹپی کو لیاری سے الیکشن لڑوانا، سوال یہ بھی کراچی میں آپریشن شروع ہوا تو کیا واقعی عزیر بلوچ فریال تالپور کے کہنے پر ایران گیا، سوال یہ بھی کیا واقعی عزیر بلوچ اتنا طاقتور تھا کہ وہ مبینہ طور پر پولیس کی گاڑیوں میں بندے اٹھا لے جاتا ۔ سوال یہ بھی وہ موٹر سائیکل سوار کون جو علی زیدی کے گھر آکر گارڈ کو لفافہ دے گیا، جس میں عزیر بلوچ جے آئی ٹی رپورٹ، سوال یہ بھی علی زیدی کو جنوری، فروری 2017میں جے آئی ٹی والا لفافہ ملا، وہ 3سال خاموش کیوں رہے، سوال یہ بھی سندھ حکومت کو اگر کسی چیز کا ڈر نہیں تھا تو عزیر بلوچ، نثار مورائی، بلدیہ فیکٹری جے آئی ٹی رپورٹیں پبلک کرنے میں اتنی دیر کیوں، اتنے حیلے بہانے کیوں، سوال یہ بھی چار جے آئی ٹی ارکان کے سندھ حکومت رپورٹ، علی زیدی رپورٹ مطلب دونوں رپورٹوں پر دستخط، کیوں؟۔ یہ مبینہ سوالات، یہ مبینہ الزامات اور بہت کچھ جو چھپا ہوا، جو پردے کے پیچھے، سب ظاہر ہونا چاہئے،

سچ، جھوٹ کا پتا چلنا چاہئے، ذمہ دار وگناہ گار کون ماسٹر مائنڈ، سب کچھ کیوں، کیسے ہوا، سب پتا چلنا چاہئے اور یہ سب کچھ تب ہی سامنے آئے گا جب یہ معاملہ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ جائے گا، اب عدالت ہی جو اصل حقائق سامنے لا سکے، ورنہ وفاقی حکومت بمقابلہ سندھ حکومت، روز نئے الزامات، نئی لڑائیاں، یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو ایک دن عزیر بلوچ، نثار مورائی، بلدیہ فیکٹری جے آئی ٹی رپورٹیں کہیں پیچھے رہ جائیں گی، سندھ، وفاق لڑتے لڑتے کہیں سے کہیں نکل جائیں گے۔ یہ عدالت ہی جو یہ معلوم کرسکے کہ ڈسپنسری کا ڈاکٹر نثار مورائی کروڑوں، اربوں کا مالک کیسے بنا، 20کروڑ بھتہ نہ دینے پر 250غریبوں کو جلانے والے رحمان بھولا، حماد صدیقی مگر ماسٹر مائنڈ کون، آپ کو یاد ہوگا، سانحہ بلدیہ فیکٹری ہوا، ابتدائی تفتیش کے بعد فیکٹری مالکان کو ہی قصوروار ٹھہرا دیا گیا، کہا گیا کسی نے آگ نہیں لگائی، آگ بجلی کا سرکٹ شارٹ ہونے یا کسی اور وجہ سے خود ہی لگی اور لوگ اس لئے جل گئے کہ ایمرجنسی کی صورت میں فیکٹری سے نکلنے کیلئے کوئی راستہ نہیں تھا، یہ عدالت ہی جو یہ سامنے لا سکے کہ چھا لئے، گٹکے، ایرانی تیل کا سندھ کے کس کس بڑے کا کاروبار، سندھ پولیس کے کتنے افسران جو کروڑ، ارب پتی،جو سندھ سے پنجاب تک پٹرول پمپوں کے مالک۔ آج سندھ حکومت سب کچھ ذوالفقار مرزا پرڈال رہی، ذوالفقار مرز ا کو حساب دینا چاہئے مگر دوسال کا، وہ صرف 2سال سندھ کے وزیرداخلہ رہے، اس سے پہلے اور بعد کا حساب پیپلزپارٹی کو دینا ہوگا، میں یہ بھی سوچوں کہ ذوالفقار مرزا نے ایک ہی دن میں تو ایک لاکھ یا 3لاکھ لائسنس نہیں دیدیے، جب وہ لائسنس دے رہے تھے تب پیپلز پارٹی والے سب کہاں تھے۔ جب مرزا صاحب عزیر بلوچ اینڈ کمپنی کو ایم کیو ایم سے لڑا رہے تھے تب کیا پی پی کے سب کرتا دھرتا کسی ایسے جزیرے پرتھے کہ جہاں اخبار تھا نہ ٹیلی فون کی سہولت، اس لئے کسی کو ذوالفقار مرزا کی سرگرمیوں کا علم ہی نہ ہو سکا، ذوالفقار مرزا ایک وزیر تھے۔ سندھ کے وزیراعلیٰ نہیں، وہ پیپلز پارٹی کے عہدیدار تھے، پیپلز پارٹی کے سربراہ نہیں کہ وہ جو بھی کرتے رہے، کسی کوجوابدہ نہ تھے، باقی اس کہانی پر کوئی یقین نہیں کرے گا کہ عزیر بلوچ کا پیپلز پارٹی سے کوئی تعلق ہی نہیں، یہ توایسے ہی جیسے کہہ دیا جائے عزیر بلوچ تو کوئٹہ کا رہنے والا، وہ تو کبھی کراچی آیا ہی نہیں،یا یہ توا یسے جیسے کہہ دیا جائے کون ذوالفقار مرزا، زرداری صاحب تو ذوالفقار مرزا کو جانتے ہی نہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.

izmir escort
php shell
sakarya escort adapazarı escort beylikdüzü escort esenyurt escort istanbul escort beylikdüzü escort istanbul escort avcılar escort beylikdüzü escort şişli escort
istanbul escort bayan bilgileri istanbul escort ilanlari istanbul escort profilleri hakkinda istanbul escort sitesi istanbul escort numaralari istanbul escort fotograflari istanbul escort bayanlarin iletisim numaralari istanbul escort aramalari yapilan site istanbul escort istanbul escort
ısparta escort bayan profilleri bilecik escort ilanları edirne escort kadınlarının profilleri bolu escort numaraları kırşehir escort fotoğrafları burdur escort bayanların telefon numaraları ayvalık escort bayan ilanları amasya escort profilleri adapazarı escort bayan numaraları çorlu escort sitesi hakkında rize escort zonguldak escort ilanları trabzon escort bayan ilanları ve profilleri edirne escort