غربت

تم لوگوں نے مکان کا کرایہ نہ دیا تو دو دن میں گھر خالی کرنا ہو گا مکان مالک ہر روز کرایہ لینے آ جاتا تماشہ کرتا پانچ بیٹیوں کی ماں غربت کی ماری ہر روز ایک نیا بہانہ سناتی مکان مالک کو صوفیہ اس کا شوہر اسلم اور ان کی پانچ بیٹیاں غریبی کا یہ حال تھا کوئی

اپنا منہ نہ لگاتا بیٹا کوئی تھا نہیں بیٹیاں تھیں ساس نے صوفیہ کو اور اپنے بیٹے کو دھکے دے کر گھر سے باہر نکال دیا اپنی بیٹیاں لو اور چلے جاو یہاں سے اسلم اپنی بیٹیوں کو بہت چاہتا تھا وہ شکر ادا کرتا تھا اللہ کا بیٹیاں عطا کی ہیں صوفیہ کی لاڈلی سی شہزادیاں ماں کی جان تھیں اسلم نے بیٹیوں کو لیا چل دیا زمانے کی ٹھوکریں کی طرف بھائی سمجھتے تھے بیٹیوں کا بوجھ کہیں ہم۔پہ نہ پڑھ جائے اسلم خود سائیکل پہ پھیری لگاتا یے ۔ایسا نہ ہو اس کی غریبی کہیں ہم۔کو کھا جائے انھوں کے منہ موڑ لیا بیٹیوں کو لیئے وہ گھر کی تلاش کرنے لگا لیکن مہنگائی کے اس دور میں 3 سو روپے کمانے والا شخص بھلا کہاں سے کرائے پہ گھر پہ رہ سکتا تھا گھر کا کرایہ بجلی گیس پانی کا خرچہ پانچ بیٹیاں خود اسلم اور صوفیہ اسلم کا ایک دوست تھا جو کپڑے کی جھوگی بنا کر رہتا تھا ہماری پنجابی زبان میں ان کو چنگڑ کہتے ہیں یوں اسلم کا ایک دوست تھا اس نے کہا چھوڑ کرائے کا گھر ہمارے ساتھ آ جا دو ہزار کا کپڑا ملے گا ایک جھوگی بنا لے وہاں گزارا کر اسلم جانتا تھا اس کے وسائل اتنے ہی ہیں کے وہ مشکل سے روٹی پوری کر سکے گا اسلم نے بیٹیوں کو لیا چلا گیا ایک دور دراز علاقے میں یہاں اس نے ایک کپڑے کا خیمہ بنایا اور بسیرا کیا اس کی غریبی اور بیٹیوں کی وجہ سے سب منہ موڑ گئے

تھے صوفیہ اپنی بیٹیوں کو لیئے اس کپڑے کے مکان میں بیٹھی تھی بڑی بیٹی جو ابھی 10 سال کی تھی اس نے سوال کیا ماما کیا اب ہم یوں ہی ساری زندگی ایسے گھر میں ہی رہیں گے یم چاچو اور دادی لوگوں کی طرح بڑے گھر میں نہیں رہیں گے کیا ماں نے بیٹی کے سر پہ ہاتھ رکھا میری بچیو تم سکول جاؤ گی نا دل لگا کر پڑھو گی اور جب تم بڑی ہو کر ڈاکٹر اور وکیل بن جاو گی نا تو ہم بھی بڑے گھر میں رہیں گے صوفیہ بیٹیوں کو سمجھاتی رہتی تھی اسلم سائیکل پہ جاتا کبھی 2 سو تو کبھی 3 سو کی ڈیہاڑی لگا کر آتا اور کبھی دار دن گھوم کر خالی ہاتھ واپس لوٹ آتا بھوک کے دن تھے برے حالات تھےصوفیہ نے اسلم سے کہا میں چاہتی ہوں میری بیٹیاں سکول جائیں پڑھے لکھیں اسلم نے صوفیہ کی آنکھوں میں دیکھا کہتی تو تم۔ٹھیک ہو لیکن پیسے کہاں سے آئیں گے صوفیہ نے آسمان کی طرف دیکھا اسلم اللہ نے اگر بیٹیاں دی ہیں تو اس نے ان کا رزق بھی ساتھ بیجھا ہے تم ہمت سے کام۔لو بس اسلم راضی ہو گیا بڑی تینوں بیٹیوں کو پاس کے ایک گورنمنٹ سکول میں داخل۔کروایا یونیفارم لے کر دیا کتابیں بیگ لا کر دیئے بیٹیوں کو پڑھنے کا شوق بہت تھا پیدل چل کر جایا کرتی تھی 4 کلو میٹر تک پیدل چلنا پڑتا تھا تھک جاتی تھیں اتنے وسائل کہاں تھے کوئی رکشہ یا گاڑی لگوا لیتے بڑی بیٹی سعدیہ بہت سمجھدار تھی ماں قرآن کی حافظہ تھی اسلیئے وہ اپنی بیٹیوں کو دین کی تعلیم بھی دیا کرتی قرآن پاک خود پڑھاتی بیٹیوں کو شرم حیا اسلام کا

دائرہ بتاتی تھی بیٹیاں سکول جائیں پڑھائی میں تیز تھیں کوئی ٹیوشن نہیں کوئی ایکسٹرا کلاسز نہیں تھیں دل لگا کر پڑھنے لگی وقت گزرتا گیا اسلم نے نے سائیکل سے ایک ریڑی بنا لی گھر میں ایک بھینس رکھ لی صوفیہ بھینس کو چارا ڈالتی اس کا دودھ نکالتی دودھ بیچتی زندگی ایسے مقام پی تھی یہاں شاید کوئی جانور بھی رینا گورا نہ کرتا ہو بارش ہو رہی تھی طوفانی بارش تھی وہ کپڑے کا خیمہ کب تک بارش برداشت کرتا خیمے کے اندر پانی چلا آیا اوپر سے پانی ٹپکنے لگا سب کچھ بھی گیا بیٹیاں بڑے بڑے گھروں کو دیکھ رہی تھیں دل میں ہزاروں سوالات تھے کیوں یا خدا ہمیں ایسی زندگی عطا کی دو دن تک بارش رہی کھانا بنانے کو جگہ نہیں تھی اسلم پھیری لگانے جا نا سکا دو دن تک وہ بھوکے رہے بھینس کا دودھ نکالتے اسے پی کر گزارا کرتے لوگ بڑی بڑی گاڑیوں پہ ان کے خیمے کے پاس سے گزرتے کون جانتا تھا اس خیمے میں رہنے والے لوگ کس حال میں ہیں کچھ لوگ بازاروں کی طرف چل دیئے تھے سموسے پکوڑے کھانے کچھ برگر پیزا کی طرف چل دیئے لوگ بارش انجوائے کر رہے تھے لیکن صوفیہ اور اسلم ان کی بیٹیاں بھوک سے بلک رہے تھے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے بولے یا اللہ رحم کر ہم۔پہ ہم بے سہارا لوگوں کا بھرم رکھ لے ہم پہ ہماری طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈال بارش تھم گئی سب کچھ بھیگ چکا تھا تیسرے سورج کی کرنیں نکلی تھیں صوفیہ نے بھیگتے ہوئے کپڑے باقی چیزیں دھوپ میں نکال کر رکھیں تھیں بھوک سے برا حال تھا صوفیہ

نے دو دن بعد کھانا بنایا سب نے جو بھی روکھا سوکھا تھا کھایا اللہ کا شکر ادا کیا پاس گندگی کا ڈھیر تھا جس جگہ پہ ان کا خیمہ لگا ہوا تھا لوگ کسی غریب کو کپڑے کا خیمہ بھی کہاں لگانے دیتے ہیں صوفیہ حالات سے لڑ رہی تھی وہ بہادری سے زمانے کی ٹھوکریں کھا رہی تھی وہ اپنے شوہر اسلم کی ہمت تھی وہ جانتی تھی اگر کمزور پڑ گئی تو اسلم ہار جائے گا اس نے پھٹے کپڑے پہنے ہوئے ٹوٹی جوتی پہنی ہوئی وہ اسلم کے کندھے سے کندھا ملا کر چلتی رہی لوگ ان کو فقیر کہا کرتے تھےہر آنے جانے والا ان کو فقیر کہتا گاوں میں فقیر سے پہچانے جاتے تھے ۔بیٹیاں بہت خوبصورت تھیں ان کی سکول میں پڑھائی جاری رہی جب بڑی بیٹی سعدیہ دسویں میں تھی تو اسلم نے سوچا کیوں بہ بڑی بیٹی کو سکول چھڑوا کر بیاہ دوں لیکن صوفیہ نے اسلم سے وعدہ لیا جب تک بیٹیاں کچھ بن نا جائیں ان کی شادی کی بات نہیں کریں گے اسلم بھی تو یہی چاہتا تھا بیٹیاں کل کو بیٹی پیدا کرنے گھر سے نکالی نہ جائیں اگر نکالی بھی جائیں تو وہ ہماری طرح جانوروں جیسی زندگی نہ گزاریں سعدیہ میٹرک میں تھی اس سے چھوٹی شافیہ نویں اور چھوٹی ساتویں میں اس سے چھوٹی پانچویں میں سب سے چھوٹی سوم کلاس میں سب بیٹیاں پڑھ رہی تھیں اسلم جیسے بھی کر کے اپنی بیٹیوں کو پڑھا رہا تھا صوفیہ نے دو بھینسں اور رکھ لیں ان کا دودھ بیچتی گزارہ کرتی کبھی کھانے کے پیسے ہوتے کبھی بھوکے سو جاتے اسلم کے سگے بہن بھائی دس سال گزر گئے انھوں نے کبھی حال تک نہ پوچھا تھا کہاں گیا اسلم بیٹیوں کو لیکر کہاں دھکے کھا رہا ہے ذندہ ہے بھی یا مر گیا حقیقت بھی تو یہی ہے بھلا کسی غریب کا بھی کوئی بنتا ہے اسلم کو گاوں والوں نے کہا

تم۔گاوں کی نالیاں صاف کر دیا کرو ہم۔تم۔کو مہنے کا دس ہزار دیا کریں گے ہائے فارس باپ کی محبت پہ قربان جائے اسلم بہت خوش ہوا اس نے کہا ٹھیک میں پورے گاوں کی نالیاں صاف کیا کروں گا آپ مجھے دس ہزار دے دیا کرنا بیٹیوں کی محبت میں ہاتھ میں جھاڑو اور کویے کا پھاوڑا لیئے وہ گندگی سے بھری نالیاں صاف کرتا پھیری پہ بھی جاتا چند پیسے آنے لگے وہ تھک ہار جاتا تھا لیکن صوفیہ اس کی ہمت نہ ٹوٹنے دیتی تھی گاوں والوں نے ان کو ایک گھر دیا یہاں وہ مفت میں رہ سکتے تھے اسلم کپڑے کے گھر سے نکلا ایک پکے گھر میں چلا گیا بیٹیاں جوان ہو رہی تھیں زمانے کی گندی نگاہیں بھی تھیں اب اسلم جیسے پورے گاوں کا نوکر تھا کسی کا کوئی کام ہوتا اسلم کو بلوا لیتے وہ اسلم سے خاک ہو گیا مٹی میں مل گیا بس چاہتا تھا بیٹیاں کچھ بن جائیں یہاں آج کے زمانے میں لڑکیاں عشق محبت میں مبتلا تھیں یہاں لڑکیاں ٹک ٹاک پی ناچ رہی تھیں یہاں گھر سے بھاگ کر شادی کر رہی تھیں وہاں اسلم کی پانچوں بیٹیاں اسلام کی سچی بیٹیاں بن کر ابھر رہی تھیں ان کئ آنکھوں میں حیا تھی غریب تھی لیکن نماز کی پابند تھیں سب بہین فجر کی نماز میں اٹھ جاتی تھیں نماز ادا کرتی تھیں پھر سب بہنیں قرآن کی تلاوت کرتی ماں کے ساتھ ناشتہ تیار کرواتی پھر سکول کی تیاری کرتیں تھیں بڑی بیٹی سعدیہ کالج میں جاتی تھی گاوں سے دوسری لڑکیاں بھی جایا کرتی تھیں سعدیہ بھی ساتھ چلی جاتی چھوٹی بیٹی بھی دسویں میں تھی وہ بھی اگلے سال کالج جانے کا سوچ رہی تھی اسلم بہت خوش تھا اس کی بیٹیاں اس کا غرور ہیں رات کو بیٹھی پڑھائی کر رہی تھیں سب سے چھوٹی

بہن ام کلثوم بڑی بہن کے پاس آکر بیٹھ گئی آپی ٹیچر کہہ رہی تھی سائینس میں ایڈمیشن لینا ہے آپ کو ٹیچر بلا رہی تھی سکول سعدیہ نے کہا ٹھیک ہے میں کل کالج سے چھٹی کر کے تمہارے سکول اور گئ سعدیہ سکول گئی ٹیچرز بہت خوش تھیں بتا رہی تھیں آپ کی بہن پڑھائی میں بہت اچھی ہے ہم۔چاہتی ہیں یہ بیالوجی میں ایڈمیشن لے لیکن اس کو ٹیوشن پڑھانا ہو گئ اگر آپ گھر پ پڑھائیں تو ٹھیک نہیں سکول میں کسی ٹیچر سے پڑھ سکتی ہے سعدیہ خود گھر میں ٹیوشن پڑھاتی محلے کے کافی بچے بھی ٹیوشن پڑھنے آ جاتے وہاں سے بھی کچھ پیسے مل جاتے سعدیہ کو بابا کی داڑھی اب سفید ہو چکی تھی باپ بوڑھا ہو چکا تھا لیکن ابھی سفر لمبا تھا ماں صوفیہ اب کمزور ہو چکی تھی سعدیہ نے بی ایڈ کیا اللہ کا کرنا ایسا ہوا سعدیہ نے گورنمنٹ ٹیچر کے لیئے اپلائی کیا اللہ کے کرم سے سعدیہ ٹیچر بھرتی ہو گئی ماں بہت خوش تھی گاوں والے تعریف کرنے لگے اسلم فقیر کی بیٹی سکول میں ٹیچر بھرتی ہو گئی ماں اللہ کو یاد کر رونے لگی اللہ نے کرم کیا اسلم بوڑھا باپ سعدیہ کو سینے لگا رونے لگا میری بچی میری جان اللہ تمہارے نصیب اچھے کرے سعدیہ کی تنخواہ 50 ہزار لگی تھی اللہ نے کرم کیا چھوٹی بہن شافیہ پولیس بھرتی آئی اس میں اپلائی کیا وہ بھی پولیس میں بھرتی ہو گئی اسلم فقیر کی دوسری بیٹی پولیس میں چلی گئی اس کی تنخواہ 30 ہزار تھی اسلم فقیر کو گاوں والے شاباش دیتے بہت اچھی بیٹیاں ہیں تمہاری سعدیہ سکول ٹیچر تھی چھوٹی شافیہ پولیس میں ماں باپ بہت خوش تھے تیسری چھوٹی بہن نے سعدیہ سے کہا آپی مجھے وکالت کا کورس کرنا ہے مجھے ایڈمیشن لے کر دو سعدیہ نے پہلے کہا وکالت بہت مہنگا کورس یے کچھ اور کر لو لیکن ماریہ کی ضد تھی وہ وکیل ہی بنے گی سعدیہ نے ماں بابا سے بات کر کے ماریہ کو وکالت میں داخلہ کروا دیا ماریہ وکالت پڑھنے لگی

باپ اب بہت بوڑھا ہو چکا تھا عینک لگ چکی تھی نظر کافی کمزور ہو چکی تھی ماریہ سے چھوٹی آرمی میں بھرتی ہوئی اس سے چھوٹی ام کلثوم میڈیکل میں ڈاکٹر بن رہی تھی وقت گزرتا گیا ایک وقت آیا اسلم فقیر کی بڑی بیٹی ٹیچر چھوٹی پولیس میں اس سے چھوٹی وکیل اس سے چھوٹی آرمی میں سب سے چھوٹی ڈاکٹر بن گئی تھی مہینے میں لاکھوں روپے کمانے لگے گاوں چھوڑا شہر میں جا کر ایک بنگلہ خریدا اسلم فقیر کے گھر کے باہر تختی لگی تھی چوہدری اسلم ہاوس ماں اپنی بیٹیوں کے لیئے دعا کرتی بیٹیاں بیت محنتی تھیں شرم حیا والی تھیں انھوں نے گھر سے بھاگ جانا محبت کے نام سے گوارہ نہ کیا انھوں نے ٹک ٹاک پہ ناچنا اچھا نا سمجھا سعدیہ کی شادی ایک پروفیسر سے ہوئی جو ایک یونیورسٹی میں لیکچرار تھا چھوٹی بیٹی کی شادی ایک انسپکٹر ہو سے ہوئی چھوٹی وکالت کے بعد ایک جج کی بیوی بنی اس سے چھوٹی برگیڈیئر کی ہمسفر اور سب سے چھوٹی ایک ڈاکٹر کی ہمسفر۔۔۔اب بیٹیاں بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتی تھیں بڑے بڑے گھر تھے ہاں جب اسلم کے بھائی بہنوں کو پتا چلا تھا اسلم کی بیٹیاں پڑھ لکھ کر ایک مقام پہ پہنچ گئی ہیں تو اسلم کے بھائی آئے تھے ہاتھ مانگنے اپنے بشیر اپنے افضل کے لیئے اسلم کی بیٹیاں کا ہاتھ مانگنے اس وقت اسلم نے کہا تھا بھائی یہاں میری بیٹیاں چاہیں گی وہی شادی کروں گا بھائی اسلم کا اتنا بڑا گھر دیکھ کر نظریں جھکائے شرم سے اہنا سا منہ لیئے چلے گئے بوڑھی صوفیہ اور اسلم نے ایک مثال قائم کی تھی بیٹیاں بوجھ تو نہیں ہوتی ہیں بیٹیاں بیٹوں سے کم نہیں ہوتی بیٹیاں ہی تو ہیں جنہوں نے کپڑے کے خیمے دے طوفانی بارش میں بھوک کاٹی 4 کلو میٹر پیدل سفر کیا سکول تک اور پھر اسلم فقیر سے اپنے بابا کا نام روشن کیا اسلم سے چوہدری اسلم بنا دیا جو بھائی بہن اسلم کو ٹھوکر مار کر گھر سے دھکے دے کر نکال گئے تھے وہ سر جھکائے بیٹیوں کی محنت سے قدموں پہ آ گئے

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.


asp shell
bahelievler escort antalya escort ili escort esenyurt escort beylikdz escort avclar escort