زیادہ اچھے نمبروں کی دوڑ میں بچوں کو مریض مت بنائیے

وہ ویسے ہی سہما ہوا تھا، ہونٹوں پر پپڑی جمی ہوئی تھی، بلب کی روشنی میں اس کا رنگ مزید پیلا لگ رہا تھا، آنکھیں بُجھی بُجھی سی تھیں، کندھوں پر ایک وزنی بستہ تھا۔ تھکاوٹ سے چور اس بچے نے مجھ سے ہلکا سا ہاتھ ملایا اور چپ کر کے چارپائی پر بیٹھ گیا۔ میں نے اپنے رشتہ داروں سے فورا پوچھا کہ یہ عشاء کے وقت کہاں سے آ رہا ہے؟ بچے کی امی جی نے فورا جواب دیا ماشا اللہ ٹیوشن سے ابھی واپس آیا ہے، سارا دن پڑھتا ہے، کھیل کی طرف بھی کم ہی دھیان جاتا

ہے، ماشا اللہ سے لائق ہے۔ سبھی کو یہ فکر تھی کہ فلاں کا بیٹا یا بیٹی اتنے اچھے نمبروں سے پاس ہوا ہے، ہمارا کیوں نہ ہو؟ تقریباً سبھی نے بس زیادہ نمبروں کو معیار بنا رکھا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ والدین کی اس خواہش کے پیچھے بچوں کے چہروں کی رونقیں اُجڑ چکی ہیں، وہ بچے کم اور اسٹریس کے مریض زیادہ لگنے شروع ہو گئے ہیں۔ یہی حال اسکولوں کا ہے۔ وہاں بھی زیادہ سے زیادہ نمبروں کی ایک عجیب و غریب قسم کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ کوئی دن میں دس گھنٹے تعلیم دینے پر تلا ہوا ہے تو کوئی بارہ گھنٹے کی سروس فراہم کر رہا ہے۔ اس اسٹریس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ بچے تھکاوٹ سے چور چور ہو چکے ہوتے ہیں، انہیں سر درد کا مسئلہ رہتا ہے، بھوک نہیں لگتی، سونے کے مسائل پیدا ہونا شروع ہو گئے ہیں، ان کی صحت متاثر ہو رہی ہے اور سب سے بڑھ کر بچوں کی خوشیاں ختم ہوتی جا رہی ہیں

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.

izmir escort
php shell
sakarya escort adapazarı escort beylikdüzü escort esenyurt escort istanbul escort beylikdüzü escort istanbul escort avcılar escort beylikdüzü escort şişli escort
istanbul escort bayan bilgileri istanbul escort ilanlari istanbul escort profilleri hakkinda istanbul escort sitesi istanbul escort numaralari istanbul escort fotograflari istanbul escort bayanlarin iletisim numaralari istanbul escort aramalari yapilan site istanbul escort istanbul escort