میاں بیوی کے عیب

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ایک آدمی کی بڑی دھوم دھام سے شادی ہو رہی تھی، اس آدمی کی دلہن اس کی اپنی پسند سے تھی اور دونوں اپنے عروسی لباس میں بہت ہی جاذب نظر دکھائی دے رہے تھے، سب کے سب لوگ بہت خوش تھے اور ان دونوں کو مبارک باد دے رہے تھے۔

دونوں میاں بیوی کی ایک پرسکون اور خوشگوار ازدواجی زندگی گزر رہی تھی ۔ ایک دن صبح ناشتے کی ٹیبل پر بیوی نے میگزین میں کوئی آرٹیکل پڑھا تو اپنے شوہر کو سنایا کہ میاں بیوی کی زندگی مزید نکھر سکتی ہے اگر وہ کھل کر ایک دوسرے کو اپنی وہ عادتیں بتا دیں جن سے وہ ایک دوسرے سے خفا ہوتے ہیں، دونوں نے ارادہ کیا کہ کل کی صبح ناشتے کی ٹیبل پر ایک دوسرے کو اپنی اپنی لسٹ بنا کر سنائیں گے کہ ایک دوسرے کی کونسی خصلتیں ان کو ناگوار گزرتی تھیں۔اگلی صبح، دونوں ناشتے کی میز پر آئے اور اپنی اپنی لسٹ کھول لی، پہلے میاں نے اپنی لسٹ میں سے کچھ پڑھنا شروع کیا، بیچ میں اس کی نظر اپنی بیوی پر پڑی تو وہ بیچاری رو رہی تھی، اس کو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہوا ہے، اس نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کیا برا لگ رہا ہے تو میں رک جاتا ہوں؟ وہ بولی کہ نہیں پلیز آپ آگے بتائیں۔ اس نے اپنی ساری لسٹ سنا ڈالی۔ پھر بیوی کی باری آئی، اس نے اپنا کاغذ اپنے خاوند کو تھما دیا، اس نے دیکھا تو اس کا کاغذ بالکل ہی کورا تھا۔

اس کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہو گئے۔ اس کی بیوی بولی کہ آپ جو ہیں جیسے ہیں بالکل ایسے ہی مجھے پسند ہیں اور میں آپ میں کچھ بھی تبدیل نہیں کرنا چاہتی۔ آپ کی کوئی بھی عادت مجھے بری نہیں لگتی۔ اور آپ جس بھی حال میں رکھیں گے میں بخوشی رہ لوں گی۔ شوہر کا دل پسیج گیا اور وہ بہت پشیمان ہوا۔ اس نے اپنی بیوی سے معافی مانگی اور دونوں کا رشتہ مزید بہتر ، پائیدار اور مضبوط ہو گیا۔کسی بھی رشتے کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم دوسرے انسان کی خوبیوں پر توجہ دیں نہ کہ اس کی عیب جوئی کریں۔ کبھی کسی میں بھی برائیاں تلاش کرنے سے بہتر ہے کہ اس کی اچھائیاں بھی دیکھیں۔محبت ایک ایسا بے لوث جذبہ ہے کہ ہم کسی کی تمام تر کمزوریوں کے باوجود بھی اس سے عشق کرتے ہیں۔ در حقیقت کسی کی کمزوریوں سے پیار کرنا اور اس کو سہارہ دینا ہی اصلی محبت ہوتا ہے۔ محبت کے لیے دو با لکل پرفیکٹ لوگ نہیں چاہیے ہوتے، ایسے انسان درکار ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کا لباس ہوں اور ایک دوسرے کے عیبوں کی پردہ پوشی کریں۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے۔

کہ وہ آپ سے پیار کرتا ہے اور وہ آپ کو مسلسل حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے تو اس کی زبان پر نہیں اس کے رویے سے اس کو جانچیں اور ایسی زہریلی رشتہ داریوں سے بہتر ہے کہ آپ تنہائی میں وقت بتا دیں۔ زہریلے رشتے انسان کو تھکا دیتے ہیں اور اس کی صحت گر جاتی ہے، وہ جس طرح اپنی اولاد اور بزرگوں کو اہمیت اور وقت دے سکتا تھا،وہ نہیں دے پاتا، ایسے ناتے پہچانیں اور پہلے وقتوں کی طرح پوری زندگی برباد مت کریں، ایسے رشتے سے نکلیں اور اپنی اور اور لوگوں کی زندگی کو خوبصورت بنائیں۔وہ بچوں کے ناول نہیں لکھ سکتیجے کے رولنگ کسی قسم کے تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ وہ بلا شبہ یو کے کی سب سے مشہور و معروف رائٹر ہے۔ ’ہیری پاٹر ‘کے نام سے بچے بڑے سب واقف ہیں۔ جے کے رولنگ کے اس ناول ’ہیری پاٹر‘ کی دنیا بھر میں چار سو ملین کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں اور جے کے رولنگ یو کے کی بارہویں سب سے امیر کبیر خاتون ہے۔ رولنگ نے ساری زندگی اس طرح آسائشوں میں بسر نہیں کی تھی۔ ایک وقت ایسا آیا تھا جب اپنی شادی ٹوٹنے کے بعد وہ اکیلی رہ گئی تھی۔اور اپنی چھوٹی سی بچی کی کفالت اور اس کی پرورش دونوں رولنگ کے ذمہ تھیں۔ جے کے رولنگ کو کلینکل ڈپریشن ہو گیا تھا اور اس نے متعدد بار خود کشی کرنے کی کو شش بھی کی تھی۔یہ 1990 کی بات ہے جب وہ ٹرین کے سفر کے ذریعے مانچیسٹر سے لنڈن جا رہی تھی کہ ٹرین نے اپنی منزل پر پہنچنے میں چار گھنٹے کی تاخیر کر دی اور جے کے رولنگ نے اس دوران ایک جادوگر بچے کی کہانی اپنے دماغ میں ترتیب دے دی۔ اس نے اس کہانی کو لکھنا شروع کیا تو پانچ سال کا عرصہ اس کے مینو سکرپٹ کو مکمل ہونے میں لگ گیا۔1995 میں اس نے اپنی کتاب ہیری پاٹر کا مینو سکرپٹ مکمل کر لیا اور اس کی کتاب اب شائع ہونے کے لیے تیار تھی۔ جے کے رولنگ کی مالی حالات اتنے نازک تھے کہ اس نے اپنے اور اپنی بیٹی کے لیے یو کے کی گورنمنٹ سے امداد طلب کی اور ان کی دی ہوئی امداد پر وہ اور اس کی بیٹی اپنی زندگی بسر کر رہے تھے۔ مینو سکرپٹ مکمل ہوتے ہی جے کے رولنگ نے اسے بارہ مختلف پبلشنگ ہاؤسز میں بھیجا اور کیا آپ یقین کر سکتے ہیں

کہ بارہ کے بارہ پبلشنگ ہاؤسز نے اس کی کہانی چھاپنے سے انکار کر دیا تھا۔اس وقت بلومز بیری کے ایک ایڈیٹر بیری کننگ ہم نے اس کو مشورہ دیا تھا کہ وہ بچوں کے لیے کتابیں نہیں لکھ سکتی اس لیے بہتر یہ ہے کہ وہ کسی عام دفتر میں جاب شروع کر دے۔ اس وقت دنیا یہ نہیں جانتی تھی کہ جب اس کا ہیری پاٹر جیسا عجیب و غریب ناول چھپے گا اور بچوں کی نگا ہ کا مرکز بنے گا تو دنیا کے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے گا۔آج جے کے رولنگ کے تمام اثاثوں کی کل قیمت560 ملین یورو ہے اور وہ یو کے کی بارہویں امیر ترین عورت ہے۔ جس وقت وہ اکیلی رہ گئی تھی اور اس کو ڈاکٹروں نے بھی پاگل قرار دے دیا تھا،اس وقت اس نے ایک پاگلوں والی کہانی سوچی، ترتیب دی اور آج اس کا نام دنیا کے ہر بچے کی زبان پر ہے۔ ہیری پاٹر کے چھے پارٹ ہیں اور اس کے کافی پارٹس پر ہالی ووڈ کی ٹاپ فلمیں بھی بن چکی ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہمارے دور میں بھیہیری پاٹر کے ناول بہت زیادہ مشہور تھے اور اس کے دماغ کی یہ عجیب تخلیق آج کے بچوں میں بھی اتنی ہی مقبول ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.

izmir escort
php shell
sakarya escort adapazarı escort beylikdüzü escort esenyurt escort istanbul escort beylikdüzü escort istanbul escort avcılar escort beylikdüzü escort şişli escort
istanbul escort bayan bilgileri istanbul escort ilanlari istanbul escort profilleri hakkinda istanbul escort sitesi istanbul escort numaralari istanbul escort fotograflari istanbul escort bayanlarin iletisim numaralari istanbul escort aramalari yapilan site istanbul escort istanbul escort