تو اپنی دانائی کم کر لے تاکہ بدبختی کم ہو جائے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ایک دیہاتی اونٹ پر گندم کا بورا لے کر جا رہا تها- وزن دونوں طرف برابر رکهنے کے لیے اس نے ایک طرف گندم کا بورا اور دوسری طرف ریت کا بورا رکها ہوا تها- اونٹ وزن زیادہ ہونےکی وجہ سے تهک گیا- ایک سوال کرنے والے نے اس سے پوچها تم نے کیا بهرا ہوا ہے؟

وہ بولا: ایک بورے میں گندم اور وزن برابر کرنے کے لیے دوسرے بورے میں ریت ہے- عقل مند نے کہا: بجائے ریت بهرنے کے گندم کو ہی آدها آدها بهر لیتے- دیہاتی کی عقل میں یہ تجویز نہ آئی تهی- وہ بہت خوش ہوا- اس نے پوچها: اے دانش مند! اپنا احوال بتا؟ تو بادشاہ ہے یا وزیر ہے؟ تو کتنا امیر ہے؟ تو بہت عقل مند ہے ‘ تیرے پاس تو خزانے ہوں گے- اس نے کہا: میرے پاس کچھ نہیں ہے- روٹی کی امید پر مارا مارا پهرتا ہوں – دیہاتی نے کہا اتنی عقل کے ہوتے ہوئے اتنی غربت ‘ تنگی اور افلاس بدبختی کی علامت اور دلیل ہے- تیرا ساتھ میرے لیے بہتر نہیں- میری بےوقوفی تیری عقل سے بہتر ہے- تو اپنی عقل اور دانائی کو کم کر لے تاکہ بدبختی کم ہو جائے۔ دوسری جانب اگرچہ اسلام میں بلی حلال نہیں ہے لیکن اس کو پاکیزہ اورطاہر حیوانات میں شمار کیا جاتا ہے۔۔۔ جو بلیاں کسی کی ملکیت نہ ہوں اِنہیں پالنے میں کوئی حرج نہیں ۔۔۔ جیسا کہ حدیث میں ہےسیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب ہوا، اس نے بلی کو قید کر کے رکھا یہاں تک کہ وہ مر گئی، پھر اسی بلی کی وجہ سے وہ جہنم میں گئی۔

جب اس نے بلی کو قید میں رکھا تو نہ کھانا دیا، نہ پانی اورنہ ہی اسے آزاد کیا تاکہ وہ خود کیڑے مکوڑے کھا کر گزارا کر لیتی (یعنی اس نے بلی کو تڑپا تڑپا کر مارا تھا اس لئے وہ جہنم میں گئی)۔(صحیح بخاری حدیث نمبر۲۳۶۵)۔ایک سائنسی اندازے کے مطابق، اِنسان نے بلی کودس ہزار سال پہلے سدھایا یا پالتو بنایاتھا۔۔۔ بلی آج کے دور میں سب سے عام پالتو جانوروں میں سے ایک ہے، افریقی جنگلی بلیوں کی کئی اقسام کو پالتو بلی کے آباؤاجداد سمجھا جاتا ہے۔۔۔بلیوں کو پہلے پہل شاید اس وجہ سے سدھایا گیا کہ یہ چوہے کھاتی تھیں اور اکثر اوقات جہاں اناج محفوظ کیا جاتا ہےوہاں انہیںپالاجاتا تھالیکن بعد ازاں ان کو انسان کے دوست اور پالتو جانور کے طور پر بھی پالاجانے لگا۔۔۔پالتو بلیوں کے جسم پر لمبے یا چھوٹے بال ہو تے ہیں، جن کی بنیاد پر ان کی اقسام اور نسلوں کا تعین کیا جاتا ہے۔۔۔آئیے آپ کو وہ حدیث بتاتے ہیں جس میں بلی کے متعلق ذکر کیا گیا ہے، دوستو!روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ بلی اگر کھانے میں سے کچھ کھا جائے یا پانى پى جائے تو وہ پلید اور نجس نہیں ہو جاتا، کیونکہ (مشکوۃ شریف، جلد اول، حدیث ۴۵۳) کی حدیث مبارکہ ہےکہ:ایک عورت نے عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا کو ہریسہ بھیجا تو وہ نماز پڑھ رہى تھیں، اس عورت نے ہریسہ وہیں رکھ دیا، تو بلى آئى اور آکر اس میں سے کھا گئى، عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا نے نماز کے بعد اسى جگہ سے ہریسہ کھایا جہاں سے بلى نے کھایا تھا۔اور فرمایا:بلا شبہ رسول کریمﷺ کا فرمان ہے :یہ ( بلى ) پلید اور نجس نہیں، بلکہ یہ تو تم پر آنے جانے والیاں ہیں، حضرت عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بیان کرتى ہیںمیں نے رسول کریم صلى اللہ علیہ وسلم کو بلى کے بچے ہوئے پانى سے وضوء کرتے ہوئے دیکھا ہے اسی طرح ایک اور روایت میں ہے :کبشہ بنت کعب بن مالک جو ابو قتادہؓ کى بہو ہیں وہ بیان کرتى ہیں کہ ابو قتادہ رضى اللہ تعالى عنہ ہمارے گھر آئے تو میں نے ان کے وضوء کے لیے پانى برتن میں ڈالاتو بلى آئى اور اس سے پینے لگى، تو انہوں نے اس کے لیے برتن ٹیڑھا کر دیا حتى کہ اس نے پانى پى لیا،کبشہ بیان کرتى ہیں کہ انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں ان کى طرف دیکھے جارہى ہوں تو وہ فرمانے لگے :کیا تم تعجب کر رہى ہو؟ تو میں نے جواب دیا:جى ہاں، تو وہ کہنے لگے :نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے :یہ نجس اور پلید نہیں، بلکہ یہ تو تم پر گھومنے پھرنے والیاں ہیں ۔۔۔(سنن ابوداؤد، جلد اول، حدیث ۷۴)۔۔۔دوستو! جہاں تک گھر میں بلی پالنے کاسوال ہےتو فقہا ء کا کہنا ہےگھر میں بلی پالی جا سکتی ہے،ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں،کیونکہ بلی نہ ہی موذی جانور ہے اور نہ ہی نجس ہے،ہر شخص کو معلوم ہے اس میں کوئی نقصان نہیں،بلکہ بلی گھر میں رکھنا فائدہ مند ہے، یہ گھر میں پیدا ہونے والے کیڑے مکوڑے،اور چوہے وغیرہ کھا جاتی ہے۔۔۔بلیوں کو قدیم دور کے بعد مشرق قریب میں عقیدت دی گئی،اور اسلام نے اس روایت کو اپنے بہترین انداز میں اپنا لیا،۔

جو اس عقیدت سے بالکل ہٹ کر ہے جو دیگر قدیم مذاہب میں بلی کو دی گئی،کچھ مزاہب میں بلی کو ناپاک سمجھا جاتا ہے تو کچھ مذاہب میں اسے حلال جان کر کھایا بھی جا تا ہے جب کہ اسلام نےایک طرف ان کا گوشت کھانے سے منع کیااور دوسری طرف ان کے ساتھ پیارو محبت اور حسن سلوک کرنے کی تلقین بھی کی۔۔۔جیسے ایک صحابی کی کنیت ہی ابو ہریرہ (یعنی بلیوں والا) پڑگئی تھی ۔۔۔حضرت ابوہریرہ ؓکے نام کے بارے میں مورخین میں اختلاف ہے، کچھ نے لکھا ہے کہ آپؓ کا نام اسلام لانے سے قبل عبد الشمس تھا اور اسلام لانے کے بعد عبد الرحمن رکھا گیا، کسی نے عمر بن عامر لکھا تو کسی نے عبد اللہ بن عامر لیکن آپ ؓکا اصل نام راجح قول کے مطابق عبد الرحمن ہے ابوہریرہ آپ کی کنیت ہے اورابوہریرہ، کنیت رکھنے کی و جہ یہ ہے کہ آپ کے پاس ایک بلی تھی جس کو آپؓ اپنے ساتھ رکھا کرتے تھے اسی لیے آپؓ کی کنیت ابوہریرہ پڑگئی، یہاں( لفظ ابو ہریرہ) سے ایک بات واضح کردیتےہیں کہ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں ابو ہریرہ کا مطلب بلی کا باپ ہےحالانکہ یہ معنی لینا بالکل غلط ہے،عربی میں ایک لفظ کے کئی کئی معنی ہو سکتے ہیںتو جس طرح اَبْ کے معنی باپ کے آتے ہیں اسی طرح اَب کے معنی ،والے یا والاکے بھی آتے ہیں اس اعتبار سے ابوہریرہ کا مطلب ہوا ،بلی والا، ایک دن ابو ہریرہؓ نے دیکھا کے گرمی کی شدت سے ایک بلی دیوار کے ساتھ چمٹی ہوئی ہے، تو انہوں نے اسے اٹھا کر گرمی سے بچانے کے لیے اپنی آستین میں چھپا لیا۔

دوستو! یہ روایات ثابت کرتی ہیں کہ گھر میں بلیاں پالی جا سکتی ہیں اگر کسی کو شوق ہے تو وہ ضرور پورا کرے مگر ان کے کھانے ،اور پینے کا پوراخیا ل رکھا جائے اور اسے کوئی تکلیف اور ایذا نہ دی جائے۔۔۔ سائنسی اعتبار سے بھی گھر میں بلی پالنے کا ایک بڑا فائدہ ہے ۔۔۔وہ یہ کہ بلیوں کو انسانی لمس بے حد پسند ہوتا ہے اور انسان بھی اس سے محضوظ ہوتا ہے،ماہرین کے مطابق بلی کے لمس میں اللہ نے ڈپریشن کے مرض کا علاج رکھا ہے، اس کے بالوں میں خاص قسم کے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں، انسانی جسم میں ڈپریشن کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں چنانچہ پالتو بلی کو اپنے ساتھ لپٹا کر بٹھایا اور سلایا جائے، یہ نہ صرف آپ کی بلی کو خوش کرے گا بلکہ آپ کو ڈپریشن سے بھی نجات دلائے گا، اب ہم آپکو بلیوں کے بارے میں کچھ مزید معلومات بتاتے ہیں جوماہرین کے تجربات کے بعد سامنے آئیں ۔۔۔ ویسے تویہ معلومات سب کیلئے دلچسپ اور حیرت انگیز ہیںلیکن جنہوں نے بلیاں پال رکھی ہیں ان کےلئے انتہائی فائدہ مند بھی ہیں ۔۔۔ماہرین کے مطابق بلیوں کی اوسط عمر 13سے 17سال ہوتی ہے مگر اکثر بلیاں 20سال کی عمر تک پہنچ جاتی ہیں۔۔۔دو بلیاں آپس میں کبھی بھی(میاؤں) کر کے بات نہیں کرتیں، جب بھی آپ کی بلی میاؤں کرے جان لیں کہ وہ آپ سے مخاطب ہے ۔۔۔اس کے علاوہ بلیوں کی مونچھوں کے متعلق ایک عام تاثر پایا جاتا ہے کہ ان مونچھوں کے ذریعے بلیاں اپنا توازن برقرار رکھتی ہیں۔

بالکل اسی طرح جیسے اکثر سینگوں والے جانوروں کے سینگوں کے متعلق یہی تاثر پایا جاتا ہے۔۔۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تاثر سراسر غلط ہے،بلی کی مونچھوں کا اس کے جسمانی توازن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔۔۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بلیوں کی مونچھیں دراصل ایک سینسر کا کام کرتی ہیں،یہ فاصلے، جگہ اور مختلف اشیاء کے سائز کا پتہ لگا تی ہیں اور بلی کو اس سے آگاہ کرتی ہیں، حتیٰ کہ اندھیرے میں بھی بلی اپنی مونچھوں کے ذریعے کسی بھی فاصلے یا کسی بھی چیز کے سائز کا پتا چلا لیتی ہے۔۔۔رپورٹ کے مطابق بلی کی مونچھیں تنگ جگہوں، یعنی چوہوں کے بل وغیرہ کے سوراخ کی چوڑائی کا بھی اندازہ لگاتی ہیں، بلی اندھیرے میں بھی اپنی مونچھوں کے ذریعے کسی بل کا پتا چلا لیتی ہے کہ وہ کتنا چوڑا ہے۔۔۔اگر بلی کسی تنگ جگہ میں جانا چاہتی ہے تو یہ اس کی مونچھیں ہی ہیں جو اسے بتاتی ہیں کہ وہ اس تنگ جگہ میں جا سکتی ہے یا نہیں اور کہیں اندر پھنس تو نہیں جائے گی۔۔۔ماہرین کے مطابق بلی کی مونچھوں کی مختلف حالتیں اس کے موڈز کے بارے میں بتاتی ہیں۔۔۔ اگر بلی کی مونچھیں پرسکون حالت میں نیچے کی طرف جھکی ہوئی ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ بلی بھی پرسکون حالت میں ہے اور آرام کر رہی ہے۔۔۔اگر بلی کی مونچھیں دونوں اطراف میں تنی ہوئی ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ بلی دفاعی پوزیشن میں ہے، وہ بہت غصے میں ہے یا کسی چیز سے ڈری ہوئی ہے اور اگر بلی کی مونچھیں آگے کی طرف تنی ہوئی ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ بلی کسی تجسس میں مبتلا ہے۔

وہ کسی چیز کے شکار میں ہے یا کھیلنے کے موڈ میں ہے۔۔۔ماہرین کا کہنا تھا کہ بلی کی مونچھیں چونکہ ایک باقاعدہ عضو ہیں جو ان کیلئے سنسر کا کام کرتا ہے چنانچہ کبھی بھی اس کی مونچھیں کاٹنی نہیں چاہئیں،یہ بالکل ایسے ہی ہو گا جیسے آپ نے بلی کی آنکھیں نکال دی ہوں۔۔۔آخر میں ایک سوال کا جواب دیتے ہیں جو ایک بھائی نےنقصان دینے والی بلیوں کے متعلق پوچھا کہ ہمارے گھر میں ایک بلی آتی ہے اور گھر میں رکھے ہوئے چوزوں کو کھا جاتی ہے، کیا ایسی بلی کو قتل کرنا جائز ہے، کیونکہ یہ تکلیف کا باعث ہے۔۔۔بلی کو کسی بھی صورت ایذاء دینا شرع جائز نہیں ہے۔۔۔بلی ایک پالتو جانور ہے،جیسا کہ پہلے احادیث مبارکہ میں بیان کر چکے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا کہ یہ پلید نہیں بلکہ یہ تو گھر میں چکر لگانے والوں میں سے ہے۔۔۔توبلی کی تمام تر قباحتوں کے باوجود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ نرمی کا اظہار فرمایا ہے، ہمیں بھی آپ ﷺ کی پیروی میں اس کے ساتھ نرمی کرنی چاہیے، یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی اشیاء کی خود حفاظت کریں، بلی پر ظلم و ستم کرنے کی راہیں تلاش نہ کریں،جس طرح اس پر ظلم کی پاداش میں ایک عورت کو جہنم میں داخل کر دیا گیا۔۔۔ہاں اگر کوئی بلی خون خوار ہے اور گھر کا نقصان کرتی ہے تو اسے مارنے کے بجائے پکڑ کر کسی دور دراز علاقہ میں چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ اپنا ٹھکانہ بدل لے لیکن اسے قتل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.

izmir escort
php shell
sakarya escort adapazarı escort beylikdüzü escort esenyurt escort istanbul escort beylikdüzü escort istanbul escort avcılar escort beylikdüzü escort şişli escort
istanbul escort bayan bilgileri istanbul escort ilanlari istanbul escort profilleri hakkinda istanbul escort sitesi istanbul escort numaralari istanbul escort fotograflari istanbul escort bayanlarin iletisim numaralari istanbul escort aramalari yapilan site istanbul escort istanbul escort
ısparta escort bayan profilleri bilecik escort ilanları edirne escort kadınlarının profilleri bolu escort numaraları kırşehir escort fotoğrafları burdur escort bayanların telefon numaraları ayvalık escort bayan ilanları amasya escort profilleri adapazarı escort bayan numaraları çorlu escort sitesi hakkında rize escort zonguldak escort ilanları trabzon escort bayan ilanları ve profilleri edirne escort