مردوں کیلئے دوسری شادی کیوں ضروری ہے؟؟؟

مردوں کیلئے دوسری شادی کیوں ضروری ہے؟؟؟؟
میں نے دو ماہ کی کوشش سے اپنے ایک دوست کے ذریعےشہر میں جسم فروشی کا دھندہ کرنے والی خواتین سے ملاقاتیں کی.

ملاقات کے بعد جو رپورٹ تیار کی ( جس میں ہمارے صحافی دوست کی مدد بھی شامل ھے) اس کو مناسب انداز میں لکھنے کی کوشش کرتا ھوں. تاکہ بات سمجھ آسکے…. کہ ھم مردوں کی دوسری تیسری شادی کو عام کرنے کی محنت کیوں کر رھے ہیں. پاگلوں کی طرح دعوت دے رہیں ہیں خدارا جہنم سے بچ جاو دین پر آجاو. اور جو چیز اسلام نے جائز رکھی ھے اس پر آو. یہ ہی خواتین کو سمجھاتے ہیں مردوں کی دوسری شادی میں رکاوٹ بن کر گناہ گار نہ بنیں رپورٹ کو مختلف اینگل سے تیار کیا گیا.. جس میں ایسے سوالات کیے گیے جس سے پتہ چلے جو مرد ان خواتین کو استعمال کرتے ہیں وہ کون ھوتے ہیں؟؟ ان کی عمریں کیا ہیں،؟؟ شادی شدہ ہیں؟؟ مالی طور پر کیسے ہیں؟ کس فیملی سے تعلق رکھتے ہیں؟؟؟؟دین دار ہیں؟؟؟ نمازیں پڑھتے ہیں.؟؟؟؟؟ وغیرہ وغیرہ تقریباً تمام خواتین جن سے ملاقات کی گئی سب کا ایک ہی المیہ تھا.. غربت…. پیسوں کی ضرورت گھر بار چلانا. کسی کا والد بیمار شوہر بیمار.. بے روزگار. گھر کے اخراجات مکان کا کرایہ وغیرہ….ان خواتین نے آٹھ سے دس مرد رکھے ھوتے ہیں جو مختلف اوقات میں ان خواتین کو بلاتے ہیں.. اکثریت مردوں کی شادی شدہ.. اور چالیس سال کے لگ بھگ…. جی غور سے پڑھیں اس لفظ کو “چالیس سال” ……. اچھی فیملی کے لوگ بھی شامل…… اعلی تعلیم بھی….. کاروباری بھی… مڈل کلاس بھی… بچوں والے بھی… ان خواتین نے بتایا شادی شدہ مرد شوق سے بلاتے ہیں. اپنے ہی گھر میں.. یا کسی ھوٹل… یا کہی اور… شادی شدہ مردوں سے مسلے مثائل نہیں ھوتے… وہ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں. نوجوانوں کی نسبت بہتر ھوتا ھے…. نوجوان جذباتی بے وقوف اور بعد میں تنگ کرتا ھے.. بے روز گار ھوتا ھے تو پیسے ہی نہیں ھوتے جیب میں تو کیا فایدہ.
اتنی تفصیل لکھنا کافی ھے..

زنا کس قدر عام ھورہا ھے. اب زنا کے اڈے نہیں ھوتے ہر گلی محلے میں یہ سہولت موجود ھے. جس نے غلط کام کی طرف جانا ھے اسے کوئی نہیں روک سکتا ھم جب بات کرتے ہیں دوسری تیسری شادی کو عام کیا جائے تو اکثر خواتین پر یہ کسی کفریہ نظریہ سے کم نہیں ھوتا.. خواتین کو کیا پتہ باہر کیا ھوتا ھے برای کتنی کس انداز سے ہماری رگوں میں شامل ھوگئی ھے. یہ خواتین تو ہندوؤں کے کلچر سے نکل ہی نہیں رہی وہی سوتن وہی رسومات ذہنی غلامی دقیانوسی سوچ سے جڑی ہیں.. جو تھوڑی بہت قائل ھوتی ہیں تو اتنے سخت قسم کی شرائط لگا دیتی ہیں جس کا اسلام سے تعلق نہیں..پھر جب کچھ نہیں سمجھ آتا تو کہتی ہیں ہمت ھے تو کر لو کس نے روکا ھے…میں انتہائی زمہ داری سے کہتا ھوں جس مرد نے برائی کی طرف جانا ھے ان کی بیویوں کو ھوا بھی نہیں لگتی.. لاکھ جاسوسی کر لیں لاکھ اپنے دماغ کے فتنے کھول لیں مگر نہیں… ناکام ھونگی… جو نیک نظر آتے ہیں پردے کے پیچھے کیا ھے صرف اللہ جانتا ھے. الزام تراشی نہیں زمہ داری سے کہتا ھوں.. بہت کچھ دیکھا ھے..

بھوک کا اعلاج روٹی ھے. اور بھوک گناہ گار کو بھی لگتی ھے نیک انسان کو بھی. اسی طرح شہوت گناہ گار کو بھی ھے نیک انسان کو بھی… شہوت کا اعلاج نکاح ھے اللہ نے نکاح ہی بتایا ھے ایک کرو دو کرو تین کرو… چار کرو.. اور پھر اس دور میں جہاں بے راہ روی فحاشی عریانیت عام ھے.حدیثیں وعیدیں سنا کر جنت دوزخ کے فیصلے سنا دینا آسان ھے مگر جو حل. عمل بتا دیا اللہ نے اس پر عمل نا کرنا…. ایسے ہی باتیں کرتے رھے تو ہمارا معاشرہ زانی ھوجائے گا.. نکاح بوجھ ھوجائے گا زنا عام زندگی میں شامل ھوجائے گا….اسلام.فطرت کے عین مطابق دین ھے. فطرت کے اصول میں جب جہاں انسان نے مداخلت کی بگاڑ پیدا ھوا ھے.میرا تاریخی جملہ یاد رکھنا….” مرد ایک عورت کے لیے بنا ہی نہیں ھے”

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

izmir escort
php shell
sakarya escort adapazarı escort beylikdüzü escort esenyurt escort istanbul escort beylikdüzü escort istanbul escort avcılar escort beylikdüzü escort şişli escort
istanbul escort bayan bilgileri istanbul escort ilanlari istanbul escort profilleri hakkinda istanbul escort sitesi istanbul escort numaralari istanbul escort fotograflari istanbul escort bayanlarin iletisim numaralari istanbul escort aramalari yapilan site istanbul escort istanbul escort