بھنویں بنوانے والی عورت کے لئے شرعیت میں کیا حکم ہے؟

بہن نے پوچھا ہے کہ آبروئیں بنانے کی ذرا بھر گنجائش ہے کہ نہیں؟ اگر نہیں ہے تو جو لڑکیاں ماں، باپ، بہن بھائی وغیرہ کی بات نہ مان کر آبروئیں بنوالیتی ہیں تو ان بارے کیا حکم ہے؟ اور کیا ان کو والدین، بھائی یا خاوند روک سکتے ہیں؟ جواب:بہن! آبروئیں بنانے کی ذرا بھر بھی گنجائش نہیں ہے۔ اور جو لڑکیاں ایسا کرلیتی ہیں وہ ایک لعنتی کام کا ارتکاب کرتی ہیں۔ والدین، بھائی یا خاوند کو چاہیے کہ وہ سختی سے روکیں۔ کیونکہ عورت کے لیے

محض زیب وزینت کے لیے بھنویں بنانا بالکل بھی جائز نہیں اور یہ حکم سب عورتوں کے لے ہے، جو عورت شرعی پردہ کرے،۔ اس کے لیے بھی یہی حکم ہے، اور جو نہ کرے اس کے لئے بھی یہی حکم ہے۔ خاوند اجازت دے یا نہ دے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بہرحال عورت کے لیے بھنویں بنانا جائز نہیں۔ عورت پر خاوند کے لیے چہرے کا بناؤ سنگھار شرعی حدود میں رہتے ہوئے ضروری ہے، لیکن زیب وزینت میں خلاف شرع کام کی اجازت نہیں۔حدیث شریف میں ہے کہ ایسی عورت پر الله تعالیٰ لعنت بھیجتے ہیں ۔ یعنی حضور نے فرمایا کہ ایسی عورت پر الله پاک نے لعنت فرمائی ہے جو خلاف شرح کم کرتی یعنی بھنویں بناتی ہے.يلعن المتنمصات والمتفلجات والموتشمات اللاتي يغيرن خلق الله عز وجل (سنن نسائی:٥١٠٨) لعنت کی گئی ہے چہرے کے بالوں کو اکھاڑنے والیوں پر ، دانتوں کو رگڑنے والیوں پر اور گوندنے والیوں پر جو اللہ کی خلق کو بدل دیتی ہیں۔ہاں البتہ چہرے پر اگر زائد بال اُگ آئے ہوں، جیسا کہ مونچھوں کا آجانا، گالوں پربال اگ آنا، یا اسی طرح چاہے وہ آبروئیں سے اوپریا نیچے یا پھر طرفین میں ہی کیوں نہ ہوں، اور جو بدصورتی کا سبب بن رہے ہوں تو ان بالوں کو صاف کرسکتی ہے ۔ کیونکہ وہ ایک مجبوری ہے۔ اس میں بھی شرط یہ ہے کہ وہ زائد بال ہوں۔واللہ اعلم بالصواب. الله پاک ہم سب کو عمل کی توفیق نصیب فرماے

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.


asp shell
bahelievler escort antalya escort ili escort esenyurt escort beylikdz escort avclar escort