شبِ برات پر اللہ پاک ہر شخص کو بخش دیتا ہے سوائے 13 افراد کے

’شعبان المعظم‘‘ اسلامی سال کا آٹھواں قمری مہینہ ہے، یہ رحمت،مغفرت اور جہنم سے نجات کے بابرکت مہینے ’’رمضان المبارک‘‘ کا دیباچہ، سن ہجری کا اہم مرحلہ اور نہایت عظمت اور فضیلت کا حامل ہے۔خاتم الانبیاء، سید المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اس مہینے کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے، اس سلسلے میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’شعبان شھری‘‘(دیلمی) شعبان میرا مہینہ ہے۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ماہِ رجب کے آغاز پر آپﷺ یہ دعا فرماتے تھےاللھم بارک لنا فی رجب و شعبان و بلغنا رمضان۔‘‘(ابن عساکر) اے اللہ ! رجب اور شعبان کے مہینے میں ہمارے لئے برکت پیدا فرما اور (خیروعافیت کے ساتھ) ہمیں رمضان تک پہنچا۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: شعبان کی عظمت اور بزرگی دوسرے مہینوں پر اسی طرح ہے، جس طرح مجھے تمام انبیاء پر عظمت اور فضیلت حاصل ہے۔ (ایضاً ص 362)۔ شعبان المعظم دراصل رمضان المبارک کی تیاری کا مہینہ ہے اور اس ماہ کی پندرہویں شب ، شب برأت‘ شب قدر کی برکات اور اس کے انوار و تجلیات قبول کرنے کے لئے بندوں کو مستعد اور تیار کرتی ہیں۔ چنانچہ شب برأت توبہ و استغفار ، عبادت و مناجات کے ذریعے دل کی زمین کو نرم کرتی ہے تاکہ رمضان المبارک اور شب قدر کے روحانی انوار دل کے ایک ایک رگ و ریشے میں پیوست ہو جائیں۔

شب برأت توبہ و استغفار اور عبادت و مناجات کے قیمتی لمحات اور وہ صبح صادق ہے جو آفتاب روحانیت (نیکیوں کے موسم بہار، رحمت ، مغفرت اور جہنم سے نجات کے بابرکت مہینے) کے طلوع ہونے کی خوش خبری دیتی ہے۔ روحانیت کا آفتاب نزول قرآن کا بابرکت مہینہ رمضان المبارک ہے۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ میں نے سوائے شعبان کے مہینے کے (رمضان کے علاوہ ) کسی اور مہینے میں رسول اللہ ﷺ کو کثرت سے روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپ کو یہ بہت محبوب تھا کہ شعبان کے روزے رکھتے رکھتے رمضان سے ملا دیں۔ (سنن بیہقی)۔ حضرت عثمان بن ابی العاصؓ سے روایت ہے کہ رسالت مآب ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب شعبان کی پندرہویں شب ہوتی ہے. تو اللہ عزو جل کی جانب سے (ایک پکارنے والا) پکارتا ہے۔ کیا کوئی مغفرت کا طلب گار ہے کہ میں اس کی مغفرت کردوں؟ کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ میں اسے عطا کردوں؟ اس وقت پروردگار عالم سے جو مانگتا ہے ، اسے ملتا ہے، سوائے بدکار عورت اور مشرک کے۔ ‘‘ (بیہقی/ شعب الایمان 3/83)۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جب شعبان کی پندرہویں شب ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ سوائے مشرک اور کینہ ور کے سب کی مغفرت فرما دیتا ہے۔
(مجمع الزوائد 8/65) حضرت ابو ثعلبہ خشنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جب شعبان کی پندرہویں شب (شب برأت) ہوتی ہے تو رب ذوالجلال اپنی مخلوق پر نظر ڈال کر اہل ایمان کی مغفرت فرما دیتا ہے، کافروں کو مہلت دیتا ہے، اور کینہ وروں کو ان کے کینے کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہے تا وقت یہ کہ وہ توبہ کرکے، کینہ وری چھوڑ دیں۔‘‘ (بیہقی/شعب الایمان 3/381)۔جب کہ مختلف روایات میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ بے شمار بدنصیب افراد ایسے ہیں کہ وہ اس بابرکت رات کی عظمت و فضیلت اور قدرو منزلت سے دور رہتے اور اللہ عزوجل کی بخشش و رحمت سے محروم رہتے ہیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ کی نظر عنایت نہیں ہوتی۔ وہ بد نصیب افراد یہ ہیں۔ (1) مشرک (2)جادو گر (3)کاہن اور نجومی (4)ناجائز بغض اور کینہ رکھنے والا (5)جلاد (6)ظلم سے ناجائز ٹیکس وصول کرنے والا (7) جوا کھیلنے والا (8)گانے بجانے والا اور اس میں مصروف رہنے والا (9) ٹخنوں سے نیچے شلوار ، پاجامہ تہہ بند وغیرہ رکھنے والا (10) زانی مردوعورت (11)والدین کا نافرمان (12) شراب پینے والا اور اس کا عادی(13) رشتے داروں اور اپنے مسلمان بھائیوں سے ناحق قطع قمع کرنے والا۔

یہ وہ بد قسمت افراد ہیں جن کی اس بابرکت اور قدرو منزلت والی مقدس رات میں بھی بخشش نہیں ہوتی اور وہ بدبختی ، بد اعمالی اور گناہوں کے سبب اللہ کی رحمت اور مغفرت سے محروم رہتے ہیں۔ علماء و محدثین کے مطابق شب برأت کی فضیلت لیلۃ القدر کے بعد ہے، یعنی شب قدر سے کم ہے، تاہم اس کی فضیلت اور قدرو منزلت سے انکار کرنا کسی بھی طرح درست نہیں۔ حضرت عطاء بن یسارؓ فرماتے ہیں: ’’لیلۃ القدر کے بعد شعبان کی پندرہویں شب سے زیادہ کوئی رات افضل نہیں۔‘‘ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا : (اے عائشہؓ) کیا تمہیں معلوم ہے کہ اس رات یعنی شعبان کی (پندرہویں شب) میں کیا ہوتا ہے؟انہوں نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ (اس شب) کیا ہوتا ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اس شب میں یہ ہوتا ہے کہ اس سال میں جتنے بھی پیدا ہونے والے ہیں، ان سب کے متعلق لکھ دیا جاتا ہے اور جتنے اس سال فوت ہونے والے ہیں، ان تمام کے متعلق بھی لکھ دیا جاتا ہے، اس شب تمام بندوں کے (سارے سال کے) اعمال اٹھائے جاتے ہیں اور اسی رات لوگوں کی مقررہ روزی اترتی ہے۔ (مشکوٰۃ، ص 115)۔حضرت عطاء بن یسارؓ فرماتے ہیں کہ جب شعبان کی پندرہویں شب ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک فہرست ملک الموت کو دے دی جاتی ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ جن جن لوگوں کا نام اس فہرست میں درج ہے،ان کی روحوں کو قبض کرنا، (چنانچہ حال یہ ہوتا ہے کہ ) کوئی بندہ تو باغ میں پودا لگارہا ہوتا ہے، کوئی شادی بیاہ میں مصروف ہوتا ہے، کوئی مکان کی تعمیر میں مصروف ہوتا ہے، حالانکہ ان کا نام مردوں کی فہرست میں لکھا جا چکا ہوتا ہے۔ (شیخ عبدالحق محدث دہلوی/ ماثبت بالسنۃ ص 353) ۔یہ مقدس شب رحمت و مغفرت اور قدرو منزلت والی ہے، اس بابرکت رات کی مقدس گھڑیوں میں جو چودہ شعبان کے سورج غروب ہونے سے شروع ہوتی اور پندرہ شعبان کی صبح صادق ہونے تک رہتی ہے۔ بارگاہ رب العزت کی رحمت و مغفرت کا ابر کرم خوب جم کر برستا ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ کی ایک روایت میں ہے کہ رسالت مآب ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’بلاشبہ اللہ تبارک و تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر لوگوں کی مغفرت فرما دیتا ہے۔ (ترمذی 1/156، مسند احمد 6-238)‘‘شب برأت کی عظمت و اہمیت اور فضیلت کے پیش نشر اس میں عبادت و مناجات ، ذکر الٰہی اور تلاوت قرآن کے لئے غسل کرلینا مستحب ہے۔ عشاء اور فجر کی نماز باجماعت ادا کرنے کا پورا اہتمام کیا جائے۔ جتنا سہولت اور آسانی سے ممکن ہو۔ اس مقدس رات کو نوافل اور ذکر و تلاوت میں گزاریں، منکرات سے دامن بچاتے ہوئے قبرستان جاکر زیارت قبور کرنا، صحت و عافیت، رحمت و بخشش اور جملہ مقاصد حسنہ کے لئے دعائوں کا اہتمام کیا جائے۔ پندرہویں شعبان کا روزہ رکھیں۔ جن گناہوں کی نحوست اور وبال اس مبارک رات کی رحمتوں اور برکتوں سے محروم کردیتی ہے۔ ان سے مکمل پرہیز کرتے ہوئے صدق دل سے توبہ کی جائے، شب بے داری کا تقاضا ہے کہ ان بابرکت اور قیمتی لمحات کو توبہ و مناجات، اللہ کے ذکر اور دعائوں میں بسر کیا جائے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.


c99
bahelievler escort antalya escort ili escort esenyurt escort beylikdz escort avclar escort