بادشاہ کا فیصلہ

السلام علیکم دوستو کیسے ہو امید ہے، کہ آپ سب ٹھیک ٹھاک ہونگے کہتے ہے۔ کہ کسی جنگل میں ایک غریب آدمی کا گدھا کیچڑ میں پھنس گیا۔ ایک تو جنگل، دوسرا موسم بہت خراب، سردی کے موسم میں تیز ہوا چل رہی تھی اور بارش ہو رہی تھی۔ اس مصیبت نے غریب آدمی کو سخت مشتعل کر دیا تھا، اور جھنجلاہٹ کے عالم میں گدھے سے لے کر ملک کے بادشاہ تک، سب کو برا بھلا کہہ رہا تھا۔

اتفاق ایسا ہوا کہ بادشاہ اپنے لاؤلشکر کے ساتھ اس طرف سے گزرا، اور اس نے یہ بدکلامی اپنے کانوں سے سن لی۔ وہ وہیں رک گیا اور اس خیال سے اپنے لشکریوں کی طرف دیکھا، کہ وہ اس معاملے میں اپنی رائے دیں۔ ایک صاحب نے بادشاہ کی منشا سے آگاہ ہوکر کہا، یہ گستاخ واجب القتل ہے۔ اس نے حضور کی شان میں گستاخی کی ہے۔ بادشاہ یہ سن کر مسکرایا اور تحمل سے بولا، بے شک اس نے گستاخی کی ہے۔ لیکن دراصل اس مصیبت نے اسے حواس باختہ کر دیا ہے جس میں پھنسا ہوا ہے۔ اسے سزا دینے کے مقابلے میں مناسب یہ ہو گا کہ اسے مصیبت سے نکالا جائے اور اس کے ساتھ احسان کیا جائے۔ یہ کہہ کر بادشاہ نے نہ صرف اس کا گدھا کیچڑ سے نکلوا دیا بلکہ اسے سواری کیلئے گھوڑا، پوشین اور نقدی بھی عطا کی۔ انعام عطا کرنے کے بعد بادشاہ آگے بڑھ گیا تو ایک شخص نے گدھے والا سے کہا، تو نے اپنے ہلاکت میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ اسے خدا کا خاص انعام خیال کر کہ تیری جان بچ گئی، وہ بولا بھائی! میں اپنی حالت کے مطابق بک بک کر رہا تھا اور بادشاہ نے اپنی شان کے مطابق مجھ پر کرم کیا۔ سچ تو یہ ہے کہ برائی کے بدلے بھلائی کرنا ہی جوان مردوں کا شیوہ ہے۔دوستوں کچھ قصے عارضی ہوتے ہے۔ لیکن اس کے پیچھے بہت بڑا سبق ہوتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں آپ کی آج کی تحریر آپ کو پسند آئی ہوگی مزید اچھی اچھی تحریروں کیلئے ہمارے پیج کو ضرور لائک کریں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.


asp shell
bahelievler escort antalya escort ili escort esenyurt escort beylikdz escort avclar escort