جب ایک صحابی کا پاؤں آپؐ کے پاؤں پر آ گیا توآپؐ نے اسے ’چھڑی‘ مار دی! پھر کیا ہوا؟ حیات طیبہ ؐ کا ایسا سبق آموز واقعہ جو آپ کی بھی زندگی بدل کے رکھ دے گا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) دوستوں اج ہم اپ کو ایک بہت سطق آموز واقعہ سناتے ہے۔ معروف مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل نے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایمان افروز واقعہ سنایا۔ مولانا طارق جمیل نے کہا کہ جب حنین کی جنگ میں شکست ہوئی تو صحابہ بھاگنے لگے، ایک صحابی کا پاؤں بھاگتے ہوئے آپؐ کے پاؤں پر آ گیا۔ صحابی کے پاؤں میں جنگ میں پہننے والا سخت جوتا تھا جو آپؐ کے پاؤں پر پڑاتو آپؐ نے صحابی کو چھڑی مار دی۔

اور صحابی سے کہا ’ارے ! تم نے تو میرا پاؤں ہی مسل دیا۔ صحابہ اس وقت جان بچا کر بھاگ رہے تھے جب اس صحابی کے کان میں آواز پڑی تو وہ کہنے لگے کہ بس اب میری خیر نہیں، اب کوئی نہ کوئی وحی میرے بارے میں آئے گی کہ میں نے اللہ کے نبی کریمؐ کو دکھ پہنچایا اور ان کے پاؤں پر پاؤں مار دیا، صحابی ساری رات نہ سو سکے اور سوچتے رہے کہ صبح میرے بارے میں وحی آئے گی۔ مولانا طارق جمیل نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ صحابی بیان کرتے ہیں کہ صبح فجر کی نماز کے وقت اعلان ہوا کہ جس کا پاؤں نبی کریمؐ کے پاؤں پر پڑا تھا۔ وہ دربار رسالت میں حاضر ہو صحابی نے کہا کہ میری ہائے نکلی اور کہنے لگا وہی کام ہوا جس کا مجھے ڈر تھا، ضرور نبی کریمؐ کے پاس میرے بارے میں کوئی بڑا حکم آیا ہوا ہوگا۔ صحابی جب دربار رسولؐ اللہ میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے صحابی کو دیکھ کر مسکرائے اورفرمایا کہ ’’میرے بھائی! کل میں نے آپ کو چھڑی ماری تھی اس پر معافی مانگنے کیلئے آپ کو بلایا ہے۔ یہ 60 ساٹھ اونٹنیاں میری طرف سے تحفے میں قبول کریں ، امید ہے اب آپ مجھے معاف فرما دیں گے‘‘۔ مولانا طارق جمیل نے کہا کہ آپؐ کی چھڑی صحابی کو اس جگہ لوہے کی ذرہ پر لگی جہاں تلوار اثر نہیں کرتی۔ لیکن آپؐ نے 60 اونٹیناں دیں اور معافی علیحدہ مانگی یہ آپؐ کا حسن اخلاق، برداشت اور درگزر ہے۔ مولانا طارق جمیل نے کہا کہ میرے نبی کریمؐ نے ہمیشہ معاف فرمانا اور درگزر کرنا نہیں بھولا۔ مزید اچھی اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے پیج کو فالو اور لائیک کریں اور اپنی قیمتی رائے کے بارے میں کمنٹ ضرور کریں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.


filemanager and command shell wso, wso.txt, wso shell, wso.php a powerful Joomla!