جوان بیٹی کی شادی

کراچی سے لاہور بس جا رہی تھی۔ بس سٹاپ سے ابھی بس نکلنے والی تھی۔ ہم سب اپنی سیٹ پر بیٹھ گئے اور بس چلنے کا انتظار کر رہی تھے۔ جب سب سیٹوں پر
مسافر بیٹھ گئے ڈرائیور نے گاڑی سٹارٹ کر کے روانہ کر دی۔ جیسی ہی گاڑی بس سٹاپ سے نکلی۔ فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ایک بزرگ صاحب کھڑے ہوئی۔ سب مسافروں کو متوجہ کرتے ہوئے کہاں۔ میری بہنو اور بھائیو میں کوئی

بھی بھکاری اور گداگر نہیں ہوں۔اللہ تعالی نے مجھے بہت سے نعمتوں سے نوازا ہے لیکن میری بیوی موزی مرض کی وجہ سے انتقال کر گئی ہے۔ پھر اس کی کچھ ہی دن بعد میرے فیکٹری میں آگ لگ گئی میں درآمدات اور برآمدات کا کام کرتا ہوں۔ میرے سر افطاری جل کر خاکستر ہو گئی۔ پھر اس کی کچھ ہی مدت بعد دورہ پڑ گیا۔ یہ سن کر رشتے داروں نے مجھ سے منہ موڑ لیا۔ کے اس کے اب برے دن آگئے۔ اور عرصہ نے بھی کم عرصہ دے دیا۔ میری خواہش ہے کہ میری جوان بیٹی کی شادی میرے آنکھوں کے سامنے ہو جائیں۔ کیونکہ میرے جانے کے بعد اس کا کوئی نہ ہوگا اور ایسا نہ ہو کہ اس کی کوئی عظمت تار تار کر دے۔۔ اور اس شخص کی ہچکیاں بند ہوگی وہ جوان لڑکی اپنے باپ کو سہارا دے کر سیٹ پر بٹھا دیا گیا۔ بس کی پچھلی سیٹ میں ایک آدمی کھڑا ہو گیا اور اس نے کہا کہ میرے دو بیٹے ہیں۔ میرا ایک بیٹا ڈاکٹر ہے جس کی شادی ہو چکی ہیں اور میرا دوسرا بیٹا یہ جو آگے سیٹ میں بیٹھا ہوا ہے یہ انجینئر ہے۔اس کے لیے لڑکی ڈھونڈ رہا ہوں۔ میں اس بزرگ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنی بیٹی کا ہاتھ میرے بیٹی کیلئے دے۔ اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ اس کو باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دوں گا لڑکا کھڑا ہو گیا اور کہا کہ مجھے یہ رشتہ قبول ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.


c99
bahelievler escort antalya escort ili escort esenyurt escort beylikdz escort avclar escort