میری ماں کی بھی شادی ہوسکتی ہے کیا ؟

موبا ئل فون کی گھنٹی بجی ، اسکرین پر ہمارے دوست کا نام ظاہر ہوا اور ہم نے بہ سرعت فون ریسیو کرلیا ۔ علیک سلیک کے بعد ہماری باتیں شادی کے موضوع پر گھوم گئیں اور گدگدی پیدا کرتی ہوئی آگے بڑھتی رہیں ۔ اسی بیچ دوست رفیع نے ایک ایسی بات کہی کہ میں بالکل اچھل ہی گیا ۔ رفیع : سلیم بھائی ، ایک بات اور بھی دلچسپ ہے ۔۔۔ میں : ہاں

، یار جلد بتائیے ۔رفیع : میں اس چھٹی پر گھر گیا تھا تو میں نے الحمد للہ ابو کا نکاح ثانی کرادیا ۔ میں : گریٹ یار ، سچ میں ؟ دیکھو مذاق مت کرنا پلیز !! رفیع : کیا یار سلیم بھائی ، میں آپ سے جھوٹ کیوں بولوں گا ، کافی سوچ وچار کے بعد یہی مناسب لگا کہ ان کی شادی ہوہی جانی چاہیے ، امی کے انتقال کے بعد ہم سب بھائی اپنی اپنی دنیا میں مست ہیں ، آخر انہیں بھی تو کوئی ساتھی چاہیے تھا ۔ میں : اور کیاسب لوگ آسانیوں سے تیار ہوگئے ؟ رفیع : ارے عزم و ہمت ہو تو دیواریں گر ہی جاتی ہیں ، شروع شروع میں سب پھڑ پھڑائے اور پھر اوقات میں آگئے ۔ میں بالکل اڑ گيا اور ما شاءاللہ شادی ہوکر رہی ۔میں : یار رفیع ، آج تمہارا نیک ہونا میرے اوپر ثابت ہوگيا ۔ اللہ تیری نیکی قبول کرے ۔ دل سے سلام ۔ میں نے فون رکھ دیا اور ملنے والی اس خبر کی خوشی میں کچھ دیر جھولتا رہا ۔ میرے روم پارٹنر اس بیچ ترکاری پکانے میں مصروف تھے لیکن وہ ہماری باتیں بھی سن رہے تھے ۔ کچھ دیر بعد وہ میرے پاس آئے اور سلسلہ کلام کچھ یوں آگے بڑھا ۔ اسماعیل : سلیم بھائی ، مرد کی بیوی اگر مر جائے تو
اس کی شادی ہونی چاہیے ، یہ دیکھیے رفیع بھائی نے نیک کام کیا اور اپنے والد کا نکاح کروادیا ۔ ۔۔میں : ہاں اسماعیل بھائی ، بالکل ۔ رفیع بھائی تو کتنے نیک نکلے ، تب سے میں یہی سوچ رہا ہوں ۔ اسماعیل : سلیم بھائی ، لیکن اگر عورت کا شوہر انتقال کرجائے تو اس کی شادی ہونی چاہیے یا نہیں ؟ میں : کیوں نہیں ، بالکل ہونی چاہیے ، بلکہ مردوں سے کہیں زیادہ ضروری ہے کہ عورتوں کی شادی ہو ۔ اسماعیل : سلیم بھائی ، لیکن کبھی کیا آپ نے

یہ سنا ہے کہ بیٹوں نے یا بیٹیوں نے مل کر ماں کی شادی کی ہو ؟ میں : اسماعیل بھائی ، آج تک تو ایسا نہیں سنا ہے ، اصل میں سماج بھی ایسا بنا ہوا ہے کہ اگر کسی خاتون کے پاس ایک دو اولاد ہوگئی تو اس کی دوسری شادی کے بارے میں سوچا ہی نہیں جاتا ۔ مرد کے بارے میں تو پھر بھی تھوڑی کشادگی پائی جاتی ہے ۔ اسماعیل : لیکن یہ سماج بنایا کس نے ہے ؟ کیا یہ سماج ہم نے نہیں بنایا ہے ۔ آپ کو کیا لگتا ہے؟ یہ شادی کی ضرورت صرف مردوں کو ہوتی ہے یا مساوی طور پر عورتوں کو بھی ہوتی ہے ، آپ سمجھتے ہیں کہ اگر شادی نہ ہو تو ذہنی ، جسمانی اور روحانی کتنے اور کیسے کیسے اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟ اسماعیل کے لہجے میں درد اور غصہ دونوں شامل تھا ۔میں : اسماعیل بھائی ، یہ بات تو بالکل صحیح کہ رہے ہیں لیکن عام حالات میں خود خاتون بھی تو شادی کے لیے تیار نہیں ہوتیں۔ اسماعیل : سلیم بھائی ، آپ غلط جارہے ہیں ، آپ نے ہم نے سماج ایسا بنایا ہے کہ کوئی عورت یہ جرات کرہی نہیں سکتی ، وہ اپنے سارے ارمان ، اپنی ساری شخصیت اور سارا وجود تج دیتی ہے ۔ اس کے شوہر کی ایک موت ہوتی ہے اور اسے کئی کئی موت سے گزرنا پڑتا ہے لیکن ہم بے حس لوگوں پر کچھ اثر نہیں پڑتا ۔ میں : اسماعیل بھائی ، بات تو آپ بالکل درست کہ رہے ہیں لیکن ۔۔۔۔ اسماعیل : جنا ب ، شاہ اسماعیل دہلوی اور سید احمد بریلوی کےزمانے میں بھی تو سماج تھا لیکن انہوں نے کوشش کی تھی یا نہیں ۔ ہم سب نے سماج کے آگے سپر ڈالا ہوا ہے اور اس چکر میں کتنی زندگیاں مرجارہی ہیں ، ہمیں بالکل احساس نہیں ۔میں محسوس کررہا تھا کہ اسماعیل بھائی کے لہجے میں درد کی ایک دوسری ہی لہر ہے، کسی دوسرے موضوع پر وہ اتنے حساس کبھی نہیں ہوئے تھے ۔میں نے انہیں تھوڑا کریدنا چاہا ۔ میں : اسماعیل بھائی ،

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اس مسئلے سےآپ کا کچھ ۔۔۔۔۔۔ اسماعیل : سلیم بھائی ، میں پندرہ سال کا تھا جب میرے والد کا انتقال ہوگیا ، امی سے ان کی شادی جب ہوئی تھی ، اس وقت امی کی عمر یہی کوئی سولہ برس تھی ، میں شادی کے ایک سال بعد ہی پیدا ہوگيا تھا ، مجھ سے چھوٹی ایک بہن ہے ۔ ابو جان کی جب موت ہوئی اس وقت امی کی عمر یہی کوئی تینتیس سال چونتیس سال تھی ۔ٹھیک ہے کہ ہم دو ان کی اولاد بھی تھے لیکن ابھی ان کی تو پوری زندگی باقی تھی نا ۔ کسی نے لمحے بھر کے لیے نہیں سوچا کہ ان کی بھی ایک زندگی ہے ۔میرے نانا صاحب حیثيت آدمی تھے ،ماموں لوگ سب ما شاءاللہ اچھے ہیں ، کسی کے خیال میں نہیں آیا کہ ایک چونتیس سال کی عمر کی لڑکی یہ پوری زندگی ایسے کیسے گزارے گی ۔ سلیم بھائی ، کچھ خواتین کی تو تینتیس سال میں شادی ہوتی ہے اور تینتیس سال کی عمر میں میری ماں کو لباس بیوگی پہناکر ان سے زندگی کی ساری رعنائی چھین لی گئی ۔ ابو جان کے انتقال کے وقت میرا شعور بھی کچھ بہت بالید ہ نہیں تھا لیکن جب آگے بڑھا تو یہ احساس کانٹے کی طرح میرے اندر چبھتا رہتا ہے ، میری ماں نہایت صابر و شاکر خاتون ہے لیکن جب ان کی سہیلیوں کو دیکھتا ہوں تو دل میں ہوک سی اٹھتی ہے ۔آج جب میں پچیس سال کا ہورہا ہوں تو مجھے بہن کی شادی کی فکر ہے ، اپنی شادی کرنی ہے !! میں :اسماعیل بھائی ، تو کیا آپ نے کبھی اپنی ماں سے اس سلسلے میں بات کی ؟ اسماعیل : آج سے دو سال قبل میں نے ماموں کےسامنے بات رکھی تھی ، اس کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ امی نے مجھ سے ہفتوں بات نہیں کی ، انہیں نہ جانے کیوں یہ محسوس ہونے لگا کہ

میں ان کے بارےمیں کچھ شک میں گرفتار ہو ں ۔میں نے جب پوری بات ان کے سامنے رکھی تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے ، انہوں نے میرے ماتھے کو چوما ، دعائیں دیں اور کہا تو اتنا کہا : اسماعیل ، اب تم لوگ ہی میری کائنات ہو ، تمہارے ابو کی یادیں ہی میری زندگی ہیں ، اللہ کے لیے اس قسم کی باتیں نہ کیا کرو ، ورنہ لوگ تمہاری ماں کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کرنے لگیں گے ۔ ایک بیوہ کو ایسے بھی بہت سنبھل کر رہنا پڑتا ہے۔۔میں : اسماعیل بھائی ، آپ کی ماں نے آپ سے صحیح کہا ۔ یہی صورت حال ۔۔۔۔۔۔۔ اسماعیل : سلیم بھائی ، لیکن یار ۔۔۔۔۔۔( دیر تک وہ کچھ کہے بغیر روتے رہے ، آنسو رک ہی نہیں رہے تھے ) ہم سب ظالم ہیں ، ہم بہت مطلبی اور خود غرض لوگ ہیں ، جھوٹی شان میں جیتے ہیں ۔ ۔۔۔ ہمیں ۔۔۔( ایک بار پھر ان کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے ) میں نے کچھ کہنا چاہا ، الفاظ ابھی ٹھیک سے نکلے بھی نہیں تھے کہ وہ میرے گلے لگ گئے اور بچوں کی مانند رونے لگے ۔دیر تک روتے رہے اور پھر کہا : سلیم بھائی ، میری ماں کی تو شادی نہیں ہوسکتی لیکن کیا ہم اور بیوہ خاتون کے لیے کچھ نہیں کرسکتے ۔ اتنا کہ کر جب انہوں نے میری جانب دیکھا تو ان کے آنسو ایک بار پھر بہنے لگے کہ خود میری آنکھیں بھی بھیگی ہوئی تھیں ۔۔ نیویارک کی ایک سڑک کے فٹ پاتھ سے ٹکرا کر ایک بوڑھا آدمی گر پڑا۔ ایمبولینس آئی اور اسے اٹھا کر ہسپتال لے گئی۔ راستے میں نرس نے اس بوڑھے کی جیب سے بٹوا نکال کر تلاشی لی تو اسے ایک نام اور پتہ ملا جو شاید اس کے بیٹے کا تھا۔ نرس نے اسے پیغام بھیجا جلدی پہنچو اور یہ نوجوان فوراً ہی ہسپتال پہنچ گیا۔ نرس

نے بوڑھے سے جس کے منہ پر آکسیجن ماسک لگا ہوا تھا سے کہا تمہارا بیٹا تم سے ملنے آیا ہے۔ تیز اثر دواوں کے زیر اثر ہوش میں آئے nہوئے بوڑھے نے ہاتھ بڑھایا اور نوجوان نے بڑھ کر تھام لیا۔یہ نوجوان مسلسل چار گھنٹے تک اس بوڑھے کے پاس رہا اور شفقت سے بوڑھے کا ہاتھ تھامے بار بار گلے لگاتا اور بوڑھے کی تیمار داری اور حوصلہ افزائی کرتا رہا۔ نرس نے اس دوران کئی بار نوجوان سے آرام کرنے یا ادھر ادھر چل پھر لینے کو بھی کہا مگر اس نے انکار کیا اور بوڑھے کے پاس موجود رہا۔صبح کے وقت اس بوڑھے کی وفات ہو گئی۔ اس نوجوان نے نرس سے پوچھا؛ یہ بوڑھا آدمی کون تھا؟ نرس نے حیرت سے کہا؛ کیا یہ تیرا باپ نہیں تھا؟
اس نے کہا؛ نہیں، مگر میں نے محسوس کیا تھا کہ اسے اپنے بیٹے کی اشد ضرورت تھی جو اس کے قریب رہ کر اس کی تیمار داری کرے اور اسکی محرومیوں کا ازالہ کرے اس لیے میں اس کے پاس رہا۔محتاج اور ضرورتمند کے ساتھ اچھائی ضرور کیجیئے، یہ اچھائی ایک دن آپ کے پاس ایسی جگہ سے واپس لوٹ کر آئے گی جو آپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگی۔ دن کی بہتر ین پوسٹ پڑھنے کے لئے لائف ٹپس کے فیس بک پیج پر سینڈ میسج بٹن پر کلک کریں

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


asp shell
bahelievler escort antalya escort ili escort esenyurt escort beylikdz escort avclar escort