سچی کہانی

جانا ہوتا ، وہ سرکاری آفیسر تھے ارور گرمیوں میں ہمیں مری کی سیر کراتے تھے ۔ پنڈی میں ملتان کی نسبت زیادہ گرمی پڑتی تھی ، تب مری جانے کی چاہت میں ماموں کے ہاں جانے کی تدبیریں کرنا حق بجانب تھا ، اب کی بار گرمیوں کی چھٹیوں میں میں اپنے بھائی کے ہمرا ہ ماموں کے گھر گئی ۔ ان کا گھر بہت کشادہ اور ہوا دار تھا

۔ ماموں کی بیٹی سحر سے میری بہت اچھی دوستی تھی ۔ جبکہ ماموں کا بیٹا اشر میرے بھائی کا بہت اچھا دوست تھا ۔ اشر ان دنوں فرتھ ایئر کا سٹوڈنٹ تھا ۔ ماموں کے پڑوس میں ایک خاتون بیوہ تھیں جو پڑھی لکھی تھیں اور ہسپتال میں ملازمت کرتی تھیں ۔ ان کی بیٹی سارا دن گھر میں اکیلی ہوتی تو چھت پر آجاتی ، اس کا نام فردوس تھا اور وہ بہت خوبصورت تھی ۔ ایک دن میں میں سحر کیساتھ چھت پر گئی تو وہ بھی اپنی چھت پر موجود تھی ۔ میں نے کچھ دیر فردوس سے بات کی تو وہ مجھتے بہت اچھی لگی ، دل کیا کہ اسے اپنی بھابھی بنا لوں ۔ میں نے گھر آکر امی کو بتا یا کہ ممانی کے پڑوس میں ایک بہت خوبصورت لڑکی روہتی ہے ، کیوں نہ اسے بھابھی بنا لیں ۔ اگلی گرمیاں امی ماموں کے گھر گئیں ۔ واپس آئیں تو میں نے پوچھا کہ آپ اس لڑکی سے ملیں ۔ امی خاموش ہو گئیں ۔ اگلے روز پھر میں نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس دنیا میں نہیں رہی ٟ. میرے تو جیسے حواس ہی قابو میں نہ رہے ۔ میں نے امی سے بہت پوچھا مگر انہوں نے خاموشی اختیار کر لی ۔ خیر اس سے اگلی گرمیاں میرے ماموں کے گھر والوں کا میرے گھر آنا ہوا ۔ میں نے اپنی کزن سے پوچھا کہ کہ فردوس کا کیا بنا ؟ کزن بولی کہ یوں ہوا کہ ایک دن میں نے اپنی دالگرہ پر فردوس کو اپنے گھر بلایا ۔ بھائی نہ جانے کیسے فردوس کی محبت میں مبتلا ہو گیا ۔ دونوں میں بات چیت ہونے لگی ۔ ایک رات فردوس اور اشر کی ماں نے دونوں کو ایک دوسرے سے ملتے دیکھ لیا ۔ خیر دونوں ملتے رہے ۔ اشر کی ماں نے اپنے خاوند سے بات کی تو انہوں نے بیٹے کو سعودی عرب بلا لیا ۔ اشر چاچو کی بیٹی میں مشغول ہو گیا اور آہستہ آہستہ اشر چاچو کی بیٹی کے عشق میں مبتلا ہو گیا ۔ زندگی گزرنے لگی ۔ ایک دن یوں ہوا کہ فردوس کچن میں کام کر رہی تھی کہ اس نے ماں کو بتا یا کہ امی کچن کے دروازے اور کھڑکیاں کھول دیں میرا دم گھٹ رہا ہے

۔ فردوس کی ماں نے دیکھا کہ اسکی حالت شدید خراب ہے اور وہ موت کے منہ میں جانے لگی ہے تو اس نے اپنی لیڈی ڈاکٹر دوست کو کال کی ۔ وہ آئی تو اس نے کہا کہ فردوس سے کوئی غلطی ہوئی ہے جس کا اس نے خود سد باب کرنے کی کوشش کی ہے ۔ تم دیکھو ۔ فردوس کی ماں اس کے کمرے کی تلاشی لینے لگی تو اسے کمرےسے پریگننسی روکنے والی گولیاں ملیں ۔ ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ۔ خیر فردوس اس روز انتقال کر گئی ۔ سحر بتانے لگی کہ مجھے اپنے بھائی سے نفرت ہو گئی ہے کہ وہ محبت کا بھرم تک نہ رکھ سکا اور اسیک لڑکی کو اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر اسے یوں بے بس اور لاچار چھوڑدیا ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.