خاموشی بہت کچھ کہتی ہے ، کان لگا کر نہیں ، دل لگا کر سنو

سلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) خاموشی کیا ہے؟خاموشی ایک زبان ہے جسے ہر کوئی اپنے ڈھنگ سے بولتا ہے۔ خاموشی بولتی ہی نہیں ، چیختی بھی ہے ، پکارتی بھی ہے اور لتاڑتی بھی ہے۔والدین خاموش رہیں تو مجبوری ۔۔۔ ! اولاد خاموش رہے تو سعادت مندی۔ انسان خاموش رہے تو بےبسی ۔۔۔ انسانیت خاموش رہے تو بےحسی ۔قوم خاموش رہے تو مظلومیت اور حکمراں خاموش رہے تو سیاست !یہ خاموشی سکہ رائج الوقت ہے۔ جب بھی رائج ہو جاتی ہے

تو کسی کو خرید لیتی ہے یا کسی کو بیچ دیتی ہے ، لیکن ۔۔۔ یہ ہمیشہ رائج بھی نہیں رہتی۔ خاص موقعے اور خاص وقت پر استعمال کی جاتی ہے۔ اسلئے کم بولنے اور زیادہ سننے والوں کو عقل مند کہا جاتا ہے۔خاموشی ایک نعمت ہے جو انسان کو خود سے آشنا کرواتی ہے، خاموشی کی وجہ سے انسان اپنے بارے میں سوچنے لگتا ہے اکثر خاموشی میں انسان یہ سوچتا ہے کہ میں کیا ہوں اور مجھے کیا ہونا چاہئے؟ دوسرا سوال انسان کو اس کی کمزوریوں سے روشناس کرواتا ہے اوروہ ایک نئی امنگ لے کر خود کو اس راہ پر لے جانے کی کوشش کرتا ہے جو اسے واقعی طور پر اشرف المخلوقات کے ذمرے میں شامل کردے جیسا کہ اس کا حق ہے، خاموشی انسان کے علم کو اس کے عمل میں بدلنے کا ایک خوبصورت راستہ ہے۔ اگر ہم زبان کی پھیلائی ہوئی مصیبتوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ خاموشی میں کتنی راحت ہے زیادہ بولنے والا مجبور ہوتا ہے کہ وہ سچ اور جھوٹ ملا کر بولے، اکثر انسان بولتا رہتا ہے اور خاموش نہیں ریتا کیونکہ خاموشی میں اسے اپنے روبرو ہونا پڑتا ہے اور وہ اپنے رو برو ہونا نہیں چاہتا۔ اگر لوگوں کو خاموشی کے فائدے معلوم ہو جائے تو لوگ بولنے سے گریز کریں گے، خاموشی کے لاتعداد فوائد ہیں مگر اس کے نقصانات بھی بہت ہیں، کم گو ہونا اچھی بات ہے لیکن وقت پر بولنا عقلمندی کی علامت ہے۔ خاموشی کے بارے میں کچھ حدیثیں۔۔ ۱۔ رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) خاموشی کے بارے میں فرماتے ہیں: زبان کی حفاظت میں مؤمن کی نجات ہے۔۔لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا : اے بیٹے اگر تم یہ گمان کرتے ہوکہ کلام چاندی ہے تو بے شک خاموشی سونا ہے۔۔ ایک شخص رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا کہ مجھے اسلام کے بارے میں ایسی چیز بتائیے کہ میں آپ کے بعد اس کے بارے میں کسی سے سوال نہ کروں ۔رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا: کہو میں اللہ پر ایمان لاتا ہو اور اس کے بعد اپنی اس بات پر قائم رہو۔ پھر اس نے سوال کیا کہ میں کن کن چیزوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھوں؟ رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے زبان کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: اپنی زبان سے ڈرو اور اس کو اپنے اختیار میں رکھو۔

امام صادق(علیہ السلام) خاموشی کے بارے میں فرمارہے ہیں کہ خاموش لوگ بابصیرت ہوتے ہیں اور دنیا کو اس کی حقیقی نظر سے دیکھتے ہیں، جو گذشتہ زمانوں کے بارے میں غور و فکر کرتے ہیں اور ایسی چیزوں کو کشف کرتے جن کو کسی قلم نے نہ لکھا اس کے بعد آپ نے خاموشی فائدوں کو اس طرح بیان کیا:۱- خاموشی دنیا اور آخرت کے سکون کی چابی ہے۔۲- خدا کی رضامندی کا سبب ہے۔- قیامت کے دن انسان کے حساب میں کمی کا سبب ہے۔۴- غلطیوں سے بچنے کا ایک ذریعہ ہے۔۵- جاہل کے لئے حجاب اور عالم کے لئے زینت ہے۔۶- نفسانی خواہشوں کے ختم ہونے کا سبب ہے۔۷- نفس کی ریاضت کا سبب ہے۔۸- اس کے ذریعہ عبادت اور مناجات میں لذت حاصل ہوتی ہے۔۹- قساوت اور دل کے سختی اس کے ذریعہ دور ہوتی ہے۔۱۰۔ حیاء اور پرہیزگاری کا ایک سبب ہے۔ ۱۱- زیادہ غور اور فکر کرنے کے لئے ایک ذریعہ ہے۔۱۲- انسان کے ذہین بننے کا سبب ہے۔ اس کے بعد امام(علیہ السلام) نے فرمایا: اب جبکہ تم خاموشی کے فائدوں سے واقف ہوگئے ہو تو اپنی زبان کو بند کردو اور اس کو اس وقت تک مت کھولو جب تک کہ تم اس کو کھولنے پر مجبور نہ ہوجاؤ، خصوصا اس وقت جب تک تم کو کوئی ایسا شخص نہ مل جائے جو تم سے خدا اور اس کے راستے کے بارے میں گفتگو کرے۔ نتیجہ: خاموشی کے فائدوں میں سے یہ کچھ فوائد ہے جس کے ذریعہ انسان اپنے آپ کو تکال اور بلندیوں کے راستوں تک پہونچا سکتا ہے، خاموشی کا سب سے بڑ فائدہ یہ ہے کہ انسان اس کی وجہ سے خداوند متعال کی قربت کو حاصل کر سکتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.