غسل جنابت کا طریقہ

جب رات کو میاں بیوی ازدواجی فرائض تو صبح کی نماز فجر سے پہلے پہلے اور اگر دن میں یہ عمل ہو تو اگلی نماز سے پہلے پہلے مردوعورت دونوں کو غسل کرنا ضروری ہے اس غسل کو غسل جنابت اور غسل نہ کرنے تک ناپاکی کی حالت میں رہنے کو حالت جنابت یا جنبی ہونا کہتے ہیں ۔ غسل جنابت میں بہت اہتمام کی ضرورت ہے مرد وعورت دونوں ہی اپنے اعضاء کی صفائی میں احتیاط سے کام لیں۔ مرد اپنے عضو کو اچھی طرح دھوئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کھال میں منی جمی رہ جائے اور اسی طرح عورت بھی اپنی اعضاء کی اچھی طرح

صفائی کرلے غسل سے پہلے حاجت کر لینا بھی بہتر ومناسب ہے۔ ان مقامات ناپاکی کو دھونے کے بعد وضوکرلے پھر تمام بدن پر پانی ڈال کر ہاتھوں سے اچھی طرح ملے تاکہ کوئی حصہ جسم خشک نہ رہ جائے بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچ جائے ۔ بغلیں ‘ناف اور کان کے سوراخ تک باہر کا حصہ پانی سے تر ہو جائے اس کے بعد سارے جسم پر پانی بہائے ۔ غسل میں تین فرض ہیں۔ ایک ایک بار 1۔ منہ بھر کر کلی یا غرارہ کرنا۔2۔ ناک کے نرم حصہ تک پانی پہنچانا۔ اور 3۔ پورے بدن پر ایک بار اس طرح پانی بہانا کہ بال برابر حصہ بھی خشک نہ ہو رہے اور یہ تینوں عمل تین تین بار کرنا سنت ہے۔ سوتے وقت احت۔لام ہو جائے یا جاگنے کی حالت میں بغیر کچھ کیے انزال ہو جائے ۔ یا محض بوس وکنار کی حالت میں ہی پانی خارج ہو جائے ۔
تو بھی غسل فرض ہو جاتا ہے ۔ عورت کی فرج میں مرد کی سپاری داخل ہونے پر خواہ انزال نہ ہو دونوں پر غسل فرض ہوگیا۔ جو عورتیں یا مرد نماز پنجگانہ کے عادی نہیں ہیں محض کاہلی یا جھوٹی شرم و حیا سے غسل جنابت کئےبغیر کئی کئی دن گزار دیتے ہیں یہ بڑی نحوست اور بے برکتی کی بات ہے جنبی کے گھر سے رحمت کے فرشتے بھی دور رہتے ہیں

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

boztepe escort
trabzon escort
göynücek escort
burdur escort
hendek escort
keşan escort
amasya escort
zonguldak escort
çorlu escort
escort ısparta