زیادہ پانی پینے سے صحت پر کیا اثر ہوتا ہے جانئے اس رپورٹ میں

تمام ماہرین صحت اس بات پر متفق ہے کہ انسان کی جسم کے لئے پانی سے بہتر کوئی بھی چیز نہیں اس لئے کہا جاتا ہے کہ روزانہ کم سے کم 8 گلاس پانی پیا جائے اس سے جسم میں نمی برقرار رہتی ہے اور اس کے ساتھ گردوں کو بھی فعال رکھا جاتا ہے ۔ مگر اس کا بہت زیادہ استعمال بھی سنگین امراض کا باعث بن سکتا ہے۔تو یہ اچھا خیال ہے کہ پانی کی مقدار کو جسمانی ضروریات کے مطابق محدود کردیا جائے۔

مگر کچھ کام یا چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کے دوران پانی پینے سے گریز کرنا بہتر ہوتا ہے۔سونے سے قبل پانی پینے سے گریز کرنے کی 2 وجوہات ہیں، ایک تو یہ کہ بستر پر جانے سے قبل اس یسال کا استعمال نیند کو متاثر کرسکتا ہے، اس عادت کے نتیجے میں رات کو پ یشاب کے لیے اٹھنا پڑ سکتا ہے جبکہ سونے میں بھی معمول سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ اسی طرح دوسری وجہ کا تعلق گردوں سے ہے۔ جیسا آپ کو علم ہوگا کہ دن کے مقابلے میں رات کو گردے اپنے افعال سست روی سے سرانجام دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کچھ افراد کو صبح اٹھنے پر چہرے اور ہاتھ پیر سوجنے کی شکایت کا سامنا ہوتا ہے۔ رات کو سونے سے قبل پانی پینا ایسے افراد میں یہ مسئلہ بڑھا سکتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ورزش کے دوران پانی پینا منفی اثرات کا باعث بن سکتا ہے، ورزش کے دوران جسمانی درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے جس سے گرمی کا احساس ہوتا ہے، مگر خود کو ٹھنڈا کرنے کے لیے زیادہ پانی پینا مختلف اثرات جیسے سردرد، متلی، سرچکرانے وغیرہ کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی طرح امراض قلب کے شکار افراد اگر ورزش کے دوران پانی استعمال کریں تو دل پر بوجھ بڑھنے کا امکان ہوتا ہے، اسی لیے ڈاکٹر ورزش کے بعد ہی پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں۔ پ یشاب کی رنگت ختم ہوجانا بے رنگ پیشاب اس بات کی نشانی ہے کہ جسم میں پانی کی مقدار زیادہ بڑھ چکی ہے، اس کی وجہ دن بھر میں زیادہ پانی پینا ہوتا ہے۔ ایسا ہونے سے جسم میں سوڈیم کی سطح کم ہوتی ہے جو کہ مختلف طبی مسائل بشمول ہارٹ اٹیک کا خطرہ بن سکتی ہے۔جس طرح یہ جاننا ضروری ہے کہ پانی پینے کے کیا فوائد ہے ایسے ہی یہ جاننا بھی ضروری ہوتا ہے کہ کون سے وقت میں پانی پینا چاہئے اور کون سے قت میں پانی ینے سے پرہیز کرنا چاہئے ۔ تا کہ ہم کسی بھی قسم کے خطرہ سے بچ سکیں۔

انیسویں صدی کے آغاز تک زیادہ پانی پینا بری بات سمجھا جاتا تھا۔ سماج کے اونچے طبقے کے افراد زیادہ پانی پینا اپنی توہین سمجھتے تھے۔ انہیں لگتا تھا کہ پیٹ کو پانی سے بھرنا تو غریبوں کا کام ہے۔ وہ ایسا کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔تاہم آج کل دنیا بھر میں خوب پانی پیا جاتا ہے۔ امریکہ میں بوتل بند پانی کی مانگ سوڈے سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ پاکستان اور انڈیا میں بھی لوگ خوب پانی پی رہے ہیں۔ ایسا اس لیے بھی ہو رہا ہے کہ دن رات لوگوں کو خوب پانی پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ زیادہ پانی پینے کو اچھی صحت کا راز اور خوبصورت جلد کی وجہ بتایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ پانی پی کر کینسر اور وزن سے چھٹکارے کے نسخے بھی عام ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہر روز آٹھ گلاس پانی پینے کا رواج شروع کہاں سے ہوا؟ کیوں کہ کبھی کسی ریسرچ نے یا کسی سائنسدان نے تو یہ دعویٰ کیا نہیں۔سنہ 1945 میں امریکہ میں فوڈ اینڈ نیوٹریشن بورڈ آف نیشنل ریسرچ کونسل نے بڑوں کو مشورہ دیا کہ انہیں ہر کیلوری کو ہضم کرنے کے لیے ایک ملی لیٹر پانی پینا چاہیے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر آپ دن میں دو ہزار کیلوری لینے والی خاتون ہیں تو آپ کو دو لیٹر پانی پینا چاہیے۔ ڈھائی ہزار کیلوری لینے والے مردوں کو دو لیٹر سے زیادہ پانی پینا چاہیے۔ اس میں صرف سادہ پانی شامل نہیں ہے۔ بلکہ پھلوں، سبزیوں اور دوسری پینے کی چیزوں سے ملنے والا پانی بھی شامل ہے۔ پھلوں اور سبزیوں میں 98 فیصد تک پانی ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پانی جسم کے لیے بہت ضروری ہے۔ ہمارے جسم کے کل وزن کا دو تہائی حصہ پانی ہی ہوتا ہے۔

پانی جسم سے خراب عناصر کو باہر نکالنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ہمارے جسم کا درجہ حرارت درست رکھنے کے لیے، جوڑوں کو برقرار رکھنے کے لیے اس کے علاوہ بھی پانی کئی اہم کام کرتا ہے۔ جسم کے اندر ہونے والی کیمیائی تبدیلیاں بھی پانی کے بغیر ممکن نہیں۔ہم پسینے، پ یشاب اور سانسوں کے ذریعہ پانی جسم سے خارج کرتے رہتے ہیں۔ ایسے میں بے حد ضروری ہے کہ ہم جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

boztepe escort
trabzon escort
göynücek escort
burdur escort
hendek escort
keşan escort
amasya escort
zonguldak escort
çorlu escort
escort ısparta