رزق کا دروازہ کیوں بند ہوتا ہے ؟

حضرت علی ؓ کی خدمت میں ایک شخص آکر کہنے لگا یا علی ؓ ایسا لگتا ہے گھر سے رزق کے فرشتے ہی روٹھ گئے اسباب بنتے ہی نہیں تنگدستی ختم ہوتی ہی نہیں بس یہ کہنا تھا تو امام علی ؓ نے فرمایا اے شخص تمہارا چہرہ بتارہا ہے کہ تمہارے ایک بد عمل سے تمہارے رزق کے دروازے بند ہورہے ہیں وہ کہنے لگا یاعلی ؓ وہ کونسا عمل ہے جس سے میرے رزق کے دروازے بند ہورہے ہیں امام علی ؓ نے فرمایا وہ عمل غیبت کرنا ہے یاد رکھنا جوانسان اللہ کی مخلوقات

کی غیبت کرتا ہے دوسرے انسانوں کے نزدیک کسی انسان کی برائی کرتا ہے تو اللہ کی طرف سے رزق کے دروازے اس کے لئے بند ہونے لگتے ہیں اور یوں وہ مفلسی تنگدستی اور غربت میں تباہ ہوجاتا ہے اے شخص تم اپنے آپ کو اس عمل سے دور کر دو اللہ کے فضل و کرم سے تمہارے رزق کے دروازے تمہارے لئے کھل جائیں گے۔غیبت یہ ہے کہ کسی شخص کے برے وصف کو اس کی عدم موجودگی میں اس طرح بیان کریں کہ اگر وہ سن لے تو برا مانے خواہ زبان سے بیان کرے یا بذریعہ اعضاء یا بذریعہ قلم یا کسی اور طریقے سے عیب جوئی کی جائے اگر وہ عیب اس میں موجود نہیں تو یہ تہمت اور بہتان ہے۔ اسلام میں غیبت کرنے کی سخت وعید آئی ہے۔قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے :اے ایمان والو۔ زیادہ تر گمانوں سے بچا کرو بیشک بعض گمان (ایسے) گناہ ہوتے ہیں (جن پر اُخروی سزا واجب ہوتی ہے) اور (کسی کے غیبوں اور رازوں کی) جستجو نہ کیا کرو اور نہ پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی کیا کرو، کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرے گا کہ وہ اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھائے، سو تم اس سے نفرت کرتے ہو۔ اور (اِن تمام معاملات میں) اﷲ سے ڈرو بیشک اﷲ توبہ کو بہت قبول فرمانے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :غیبت گناہ میں بدکاری سے بڑھ کر ہے۔غیبت ایک ایسا گناہ ہے جس کے مرتکب کو اللہ تعالیٰ باوجود ندامت اور توبہ کے اس وقت تک معاف نہیں کرتا جب تک کہ وہ شخص معاف نہ کردے جس کی غیبت کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت میں غیبت کو تمام کبائر سے زیادہ مہلک اور سنگین گناہ قرار دیا گیا ہے۔ اکثر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک شخص غیبت کرتا ہے اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ غیبت نہ کرو تو وہ کہتا ہے میں تو اس شخص کا صحیح عیب بیان کر رہا ہوں

یہ غیبت نہیں ہے۔ حالانکہ غیبت کے بارے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہیں معلوم ہے غیبت کیا چیز ہے؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کا بہتر علم ہے۔ ارشاد فرمایا : غیبت یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کے بارے میں ایسی بات کہے جو اسے بری لگے کسی نے عرض کیا اگر میرے بھائی میں وہ برائی موجود ہو تو کیا اس کو بھی غیبت کہا جائے گا؟ فرمایا جو کچھ تم کہتے ہو اگر اس میں موجود ہو تو جبھی تو غیبت ہے اور اگر تم ایسی بات کہو جو اس میں موجود نہ ہو تو یہ تو بہتان ہے

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

boztepe escort
trabzon escort
göynücek escort
burdur escort
hendek escort
keşan escort
amasya escort
zonguldak escort
çorlu escort
escort ısparta