بینک سے سود پر قرض لینا پھراسی پیسے سے کاروبار کرنا حلال ہے ؟

اکثر بہن بھائی بینک سے قرض لیتے ہیں اور پریشان ہوتے ہیں اور طرح طرح کے وسوسے آتے ہیں۔کہ ہم نے جو کاروبار کیا ہے وہ حرام ہے۔ اکثر لوگ اس کو ناجائز اور حرام قرار دیتے ہیں۔ یا جو لوگ بینک سے سود پر قرض لیتے ہیں چونکہ بینک میں مختلف لوگوں کی رقم رکھی ہوتی ہے۔ اور مختلف لوگوں کی رقم رکھی ہوتی ہے۔ وہ مختلف لوگوں کی رقم آپ کے حوالے کر دیتے ہیں۔ یہ جو رقم آپ نے بینک سے لی یہ بالکل حلال ہے۔ جس نے اس رقم سے دکان کھولی ہے یا کاروبار کیا ہے۔ سب حلال ہے۔

آپ اپنے ذہن کو صاف کرلیں۔ سب حلال ہے جائز ہے جو کچھ بھی آپ نے کاروبار، بزنس یا گھر بنوایا ہے وہ حلال ہے۔ جائز ہے۔ اب بات کرتے ہیں سودی رقم کی۔ سودی رقم وہ ہے جو اضافی پیسہ پانچ فیصد یا دس فیصد جمع کروائیں گے۔ وہ سود ہے۔ اور اگر البتہ جو سودی معاملہ کیا ہے یہ بہت بڑا گنا ہ ہے۔ مسلم اور بخاری شریف کی روایت ہے۔ “کہ اللہ تعالیٰ لعنت فرماتے ہیں۔ چار لوگوں پر ۔سود لینے والے پر، سود دینے والے پر، سودی معاملہ کرنے پر اور سودی معاملہ پر جو گواہ بنتے ہیں اس پر بھی اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوتی ہیے”۔ آپ توبہ اور استغفار کریں اور اللہ تعالیٰ سے گڑ گڑ ا کر معافی مانگیں اور بینک والے معاملے سے جلد از جلد خود کو چھڑائیں۔ ان کا جو لین دین ہے اس سے بری الذمہ ہوجائیں۔ ان کو وہ ادا کریں۔ اس کے بعد جو کاروبار چلار ہے ہیں ، دکان ہے یا بزنس ہے یاجو کچھ بھی ہےیہ سب حلال ہےجائز ہے۔ لہٰذا اپنے ذہن کو صاف کریں۔ لوگوں کی باتوںمیں مت آئیں۔ اور اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ توبہ واستغفار کرتے رہیں۔آمین۔
سود کی حرمت قرآن وحدیث سے واضح طور پر ثابت ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَاَحَلَّ اللّٰہ ُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا(سورہٴ البقرہ ۲۷۵) اللہ تعالیٰ نے خریدوفروخت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبَا وَیُرْبِی الصَّدَقَاتِ (سورہٴ البقرہ ۲۷۶) اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ جب سود کی حرمت کاحکم نازل ہوا تو لوگوں کا دوسروں پر جو کچھ بھی سود کا بقایا تھا، اس کو بھی لینے سے منع فرمادیاگیا: وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبَا اِنْ کُنْتُمْ مْوٴمِنِیْنَ (سورہٴ البقرہ ۲۷۸) یعنی سود کا بقایا بھی چھوڑدو اگر تم ایمان والے ہو۔

سود کو قرآنِ کریم میں اتنا بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے کہ شراب نوشی، خنزیر کھانے اور زنا کاری کے لیے قرآن کریم میں وہ لفظ استعمال نہیں کیے گئے جو سود کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے استعمال کیے ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: یَا اَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰوا اِنْ کُنْتُمْ مُوٴمِنِیْنَ۔ فَاِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَاْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ (سورہٴ البقرہ ۲۷۸ ۔ ۲۷۹) اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑدو، اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو۔ اور اگر ایسا نہیں کرتے تو تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے لڑنے کے لیے تیار ہوجاوٴ! سود کھانے والوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ ہے اور یہ ایسی سخت وعید ہے جو کسی اور بڑے گناہ، مثلاً زنا کرنے، شراب پینے کے ارتکاب پر نہیں دی گئی۔ مشہور صحابیِ رسول حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو شخص سود چھوڑنے پر تیار نہ ہو تو خلیفہٴ وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سے توبہ کرائے اور باز نہ آنے کی صورت میں اس کی گردن اڑادے۔ (تفسیر ابن کثیر

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.

boztepe escort
trabzon escort
göynücek escort
burdur escort
hendek escort
keşan escort
amasya escort
zonguldak escort
çorlu escort
escort ısparta