جس کے بعد ہر ناممکن ممکن ہوجاتا ہے

یک بد کار عوت سے کسی سادہ لوح شخص کا نکاح ہو گیا۔ وہ عورت چھ ماہ سے پہلے ہی امید سے تھی۔ چنانچہ نکاح کے بعد تین مہینے گزرئے تو بچہ پیدا ہو گیا۔ سادہ لوح شہری بڑا خوش ہو کر اللہ نے بڑی اچھی بیوی دی جس کے باعث مجھ پر اللہ نے بڑی جلدی کرم فرما دیا اور مجھے فٹا فٹ باپ بنا دیا۔ بازار میں نکلا تو لوگ مذاق کرنے لگے وہ بہت گھبرایا کہ لوگ مباک بارد کی جگہ مذاق کرنے لگے ہیں۔ وہ لوگوں سے پوچھنے لگا کہ تمہارے مذا ق کی کیا وجہ کیا ہے ؟ سب نے کہا کہ بھلے آدمی ! بچہ تو خالص حرامی ہے تم خواہ مخواہ اس کے

ابا بن رہے ہو۔ اس نے پوچھا کہ بچہ حرامی کیسے ہو گیا ؟ لوگوں نے بتایا اس لئے کہ وہ تین مہینے کے بعد ہی پیدا ہو گیا ہے۔اگر تمہارا ہوتا تو پورے نو ماہ کے بعد ہوتا۔ وہ سادہ لوح لوگوں کی یہ بات سن کر غصہ میں گھر آیا اور اپنی بیوی سے کہنے لگا کہ تم نے یہ کیا غضب کیا کچھ ماہ پہلے ہی بچہ جن دیا۔ بچہ تو پورے نو ماہ کے بعد پیوتا ہوتا ہے لوگوں میں تم نے میری ناک کاٹ ڈالی۔ چالاک عورت بولی۔ آپ بھی بڑے بھولے ہیں خواہ مخواہ لوگوں کی باتوں میں آ گئے ہیں میں نے پورے نو ماہ کے بعد ہی بچہ جنا ہے۔ یقین نہ آئے تو حساب کر لیں بتائیے آپ کو مجھ سے نکاح کئے ہوئے کتنا عرصہ گزرا؟ اس نے کہا تین ماہ بولی ! اور مجھے آپ سے نکاح کئے ہوئے کتنا عرصہ گزرا؟ وہ شخص بولا تین ماہ بولی اور بچہ کتنے ماہ کے بعد پیدا ہوا۔ بولا تین ماہ کے بعد کہنے لگی : تو تین ماہ آپ کے تین میرے اور تین بچے کے پورے نو ماہ ہو گئے

پھر اعتراض کیسا ؟ سادہ لوح شوہر مطمئن ہو گیا اور کہنے لگا بالکل ٹھیک ہے لوگوں کا کیا ہے ؟ وہ جل کر ایسا کہہ رہے ہیں۔اللہ رب العزت کی تخلیق میں انسان کو بہت اہمیت حاصل ہے یقینا ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا فرمایا(قرآنی مفہوم)۔ اور اس میں عورت کی پیدائش کا ذکر پہلے فرمایا۔ارشاد ربانی ہے’’اللہ ہی کیلئے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت ،پیدا کرتا ہے جو چاہے، جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے یا دونوں ملادے ،بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اور جسے چاہے بانجھ کردے ،بے شک وہ علم و قدرت والا ہے۔‘‘(الشوریٰ50,49)۔اللہ تعالیٰ نے آیت مبارکہ میں پیدائش کے ذکر میں بیٹی کا ذکر پہلے فرمایا ۔ اس سے معلوم ہو اکہ بیٹی جو آگے عورت کا روپ دھارن کرتی ہے اور پھر ماں اللہ کے نزدیک بھی اہمیت کی حامل ہے۔

ماں کا روپ اللہ تبارک اللہ کی طرف سے وہ خوبصورت عطیہ ہے جس میں اللہ نے اپنی رحمت ، فضل و کرم ، برکت، راحت اور عظمت کی آمیزش شامل فرماکرعرش سے فرش پر اتارا اور اس کی عظمتوں کو چار چاند لگا دیا ۔قدموں تلے جنت دے کر ماں کو مقدس اور اعلیٰ مرتبہ پر فائز کر دیا ۔ ممتا کے جذبے سے سرشار اور وفا کا پیکر اور پر خلوص دعاؤں کے اس روپ کی خوبیوںکو بیان کرنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔ماں اللہ رب العزت کا ایسا عطیہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں جو اللہ تعالیٰ کے بعد اپنی اولاد کے دل کا حال بہت جلد جان لیتی ہے۔ اولاد کے دل میں کیا چل رہا ہے ماں سے زیادہ بہتر کوئی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میںبہت سی جگہوں پر والدین کاذکر اپنے ذکر کے ساتھ فرمایاہے:وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِی اِسْرَائِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰہَ وَبِاالْوَالِدَیْنِ اِحْسَاناً۔’’اور یاد کرو جب لیا تھا ہم نے پختہ وعدہ بنی اسرائیل سے (اس بات کا کہ) نہ عبادت کرنا بجز اللہ کے اور ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا۔‘‘(البقرہ83)

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.

boztepe escort
trabzon escort
göynücek escort
burdur escort
hendek escort
keşan escort
amasya escort
zonguldak escort
çorlu escort
escort ısparta