موٹرسائیکلوں کی قیمتوں میں ہوشربااضافہ، کون سی موٹر سائیکل کتنے کی ہے؟ قیمت جاننے کیلئے یہاں کلک کریں

موٹرسائیکلوں کی قیمتوں میں ہوشربااضافہ، کون سی موٹر سائیکل کتنے کی ہے؟ قیمت جاننے کیلئے یہاں کلک کریں اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاک سوزوکی اور یونائیٹڈ آٹو انڈسٹریز نے بھی موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں 4 ہزار روپے تک اضافہ کردیا۔ اس سے قبل اٹلس ہونڈا کی جانب سے موٹر سائیکلیں مہنگی کی جاچکی ہیں۔پاک سوزوکی نے اپنی موٹر سائیکلوں کی قیمت 4 ہزار روپے تک بڑھادی، جس کے بعد سوزوکی جی آر 150 دو لاکھ 90 ہزار، جی ایس 150 ایک لاکھ 97 ہزار اور جی ایس 150 ایس ای دو لاکھ 14 ہزار روپے پر پہنچ گئیں۔اس سے قبل نے بھی اپنی موٹر سائیکلوں کی

قیمتوں میں 2400 روپے تک اضافہ کردیا تھا، جس کے باعث ہونڈا سی ڈی 70 کی قیمت 81 ہزار 900 روپے ہوگئی تھی۔ اٹل ہونڈا اور سوزوکی موٹر سائیکلوں کی نئی قیمتوں کا اطلاع یکم فروری سے ہوگیا۔یونائیٹڈ موٹر سائیکل نے 125 سی سی کی قیمت 2 ہزار روپے اور 70 سی سی ایک ہزار روپے مہنگی کردی۔اس سے قبل یاماہا اور چینی بائیک مینوفیکچررز سپر پاور، ہائی اسپیڈ اور یونیک بھی اپنی موٹر سائیکلیں 500 روپے سے 10 ہزار روپے تک مہنگی کرچکے
ہیں۔کرونا وائرس کے باعث لگنے والے لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد سے ملک میں موٹر سائیکلوں کی طلب میں حیرت انگیز اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، غیر معمولی طلب کے باعث موٹر سائیکل سیکٹر کو 20 سالوں میں پہلی مرتبہ گاڑیوں کی بروقت فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔بیشتر ڈیلر وقت پر موٹر سائیکل ڈیلیور کرنے قاصر تھے اور موٹرسائیکلیں کراچی میں مشہور اکبر روڈ جیسی کھلی منڈی میں ’اون منی‘ پر فروخت ہو رہی ہیں۔اون منی آٹو سیکٹر کی اصطلاح ہے مگر بنیادی طور پر یہ گاڑی جلد حاصل کرنے کیلئے اصل قیمت سے زیادہ رقم ادا کرنے کو کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ عام طور پر کار خریدنا چاہتے ہیں تو آپ کچھ قیمت کا کچھ
حصہ دے کر بکنگ کرتے ہیں، پھر کار کی ڈیلیوری تک 3 ماہ تک کا وقت لگتا ہے۔ اس دوران آپ باقی رقم بھی ادا کرتے ہیں اور گاڑی ملتے ہی آپ پوری قیمت ادا کرچکے ہوتے ہیں مگر ’اون منی‘ میں آپ اصل قیمت سے زیادہ پیسے دے کر فوری طور پر گاڑی حاصل کرلیتے ہیں۔صابر شیخ نے کہا کہ صنعت کو سپلائی کا مسئلہ درپیش ہے۔ کرونا وائرس کے آغاز سے ہی اسپیئر پارٹس اور خام مال کی سپلائی متاثر ہوچکی ہے۔انہوں نے کہا

کہ پہلے نومبر 2019 میں چین میں موٹر سائیکل کی پیداوار بند ہوگئی اور پھر مارچ، اپریل اور مئی کے دوران پاکستان میں صعنت بند ہوگئی۔ جون کے بعد سے موٹرسائیکل کی فروخت میں غیر معمولی اور غیر متوقع اضافہ ہوا ۔چین پاکستان میں خام مال اور موٹرسائیکلوں کے بنیادی پارٹس سپلائی کرتا ہے۔ صابر شیخ کے مطابق یہاں تک کہ وہ لوگ جن کے پاس تین ماہ کا اضافی اسٹاک ہوتا تھا، اب وہ بھی خالی ہاتھ بیٹھے ہیں۔ اب چینی موٹرسائیکلیں جیسے کہ یونیک اور سپر بھی ’اون منی‘ پر فروخت ہو رہی ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.

boztepe escort
trabzon escort
göynücek escort
burdur escort
hendek escort
keşan escort
amasya escort
zonguldak escort
çorlu escort
escort ısparta