یہ تین کام کرو اللہ تم سے راضی ہوجائے گا!!! فرماں حضرت علی رضی اللہ عنہ

یہ تین کام کرو اللہ تم سے راضی ہوجائے گا!!! فرماں حضرت علی رضی اللہ عنہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت ایک شخص حاضرہوا اور دست ادب جوڑکر کہنے لگااے علی رضی اللہ عنہ اللہ پاک کے قریب ہونے کا سب سے بہترین عمل کیا ہے۔ بس یہ کہنا تھا کہ امام علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو شخص یہ تین کام کرتاہے۔ وہ اللہ کے قریب سے قریب تر ہوتا چلا جاتاہے۔ تووہ شخص کہنےلگا یاعلی رضی اللہ عنہ وہ تین کام کونسے ہیں۔

امام علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے شخص پہلاکام کہ انسان بعد وقت اپنی خطاؤں کے پشمان ہوتاہے۔اپنے گناہوں کی معافی مانگتاہے۔دوسرا کام اپنا دل اللہ کے مطلوب کےلیے نرم رکھے۔ جتنا ہوسکے لوگوں کو فائدہ دینے کےلیے تیاررہے۔ اور تیسرا کام صدقے کی نیت سے کرے۔ اللہ کی مخلوق کو دیکھ کر اگر مسکرائے تو یہ سوچ کر مسکرائے کہ اس خلقت کو اللہ پاک نےپیداکیا ہے۔ کسی کی مدد کرے تو یہ سوچ کر مدد کرے۔ کہ میرا اس کی مدد کرنا اللہ پاک کے نزدیک مجھے محبوب بنائے۔ اس سے مدد کی امید نہ رکھے۔ اگر دنیا سے محبت کرتاہے۔ یا بھلائی کرتاہے۔تو اس بھلائی کی امید نہ رکھے۔ جس انسان میں نیکی کرنے کافعل صدقے کی نیت سے ہوگا۔اللہ پاک کی مخلوق کے لیے اس کا دل نرم ہوگا۔

اور باربار اپنی خطاؤں کو لے کر پشمان ہوگا۔ تو سمجھ جانا ہےکہ یقیناً وہ انسان ہے۔ جس نے اللہ پا ک کے قریب رہ کر اللہ پاک کو راضی کیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا جو تمہیں خوشی میں یا د آئے تو سمجھو کہ تم اس سے محبت کرتے ہو۔ اور جو تمہیں غم میں یا د آئے تو سمجھو وہ تم سے محبت کرتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ علم کے میدان میں فرمایا کرتے تھے۔ کہ علم مال سے بہتر ہے۔ کیونکہ علم انسان کی حفاظت کرتا ہے۔ جبکہ مال کی حفاظت انسان کو کرنی پڑتی ہے۔ مال خرچ کرنے سے کم ہوجاتاہے۔ جبکہ علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے۔ اور فرماتے ہیں جو شخص مال کے بل بوتے پر عزت حاصل کرتا ہے۔ تو جونہی مال ختم ہوتا ہے۔

اس کی عزت بھی ختم ہو جاتی ہے۔جبکہ جو شخص علم کے بل بوتے پر عزت حاصل کرتا ہے۔ تواس کی عزت ہمیشہ کےلیے رہتی ہے۔ اور فرمایا کہ علم کی وجہ سے انسان دنیا میں بھی نامور رہتا ہےاور مرنے کے بعد بھی اس کےلیے اجر ہے۔ علم حاکم ہے اور مال محکوم۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ علم کو مال پر ترجیح دیں۔ قمیل ابن زیاد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے میر ا ہاتھ پکڑا اور صحر اکی جانب ایک قبرستان چل دیے۔

کافی دو جانے کے بعد فرمایااے قمیل یہ دل ایک برتن ہے۔ اس میں جو چاہے ڈال دو۔ اللہ کے سوا کسی سے کوئی امید نہ رکھنا ۔ کیونکہ انسان کی امیدوں کا سارا انحصار صرف اللہ پاک ہی ہے۔ اللہ کی ذات کے سوا کوئی ذات ایسی نہیں ہے جو تمہاری امیدوں کو پورا کرسکے۔ اور فرمایا کہ اپنے گناہوں کے علاوہ کسی چیز سے نہ ڈرنا۔کہ جب اپنے اللہ کے سامنے جاؤ گے۔ تو اللہ کو کیا منہ دکھاؤ گے۔ اس لیے یہ خوف ہر وقت اپنے دل میں رکھو۔ کہ کوئی گنا ہ تم سے سرزد نہ ہو۔ اور جو گنا ہ تم سے ہوجائے اس کو اللہ سے استغفا ر کرو

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.