ہماری محبت فیس بک سے شروع ہوئی پھرملے مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ہم کچھ غلط تو نہیں کررہے نا

موسلا دھار بارش کے ساتھ زویا کی آنکھیں پورے آب وتاب سے بہہ رہی تھیں۔ وہ اپنے ہوش میں نہ تھی آوارہ بارش کا تھپڑ گال پر پڑا تو خیال آیا وہ چھت سے کپڑے اتارنے آئی تھی ۔ تیز دھڑکتے دل کے ساتھ ساکن جسم کو جھنجھوڑ کر کپڑوں کو رسی سے اتارنے بھاگی ۔ وہ پوری طرح بھیگ چکی تھی کوئی دیکھ کر بھی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ اسے بارش نے بھگویا ہے یا آنکھ کے آبشار نے ۔ تیز تیز قدموں سے سیڑیاں اترتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی کمرے میں ایک طرف کپڑے پھیلا دیے اور پلنگ پر جا لیٹی۔کپ سے کال کررہا ہوں کہاں ہو تم مانی بتایا تو تھا آپ کو امی کے ساتھ ہسپتال جانا تھا اس لیے کال نہیں اٹھا سکی ابھی واپس آئی ہوں اور آتے ہی آپ کو کال کی زویا اپنی تفصیل یوں بیان کررہی تھی

جیسے بے گناہ کو بغیر صفائی سنائے سزا دے دی جائیگی اوکے بابا میں بھو ل گیا تھا اب تم اتنی تہمید تو نہ باندھو چلو جلدی سے ہنس دو شاباش ۔ آپ بھی نامانی مجھے ڈرا ہی دیتے ہیں اک پل کو لگا آپ مجھ پر شک کررہے ہیں زویا نے بلاوجہ ہنستے ہوئے ہمیشہ کی طرح مانی یہ خواہش بھی پوری کردی ۔ چپ پاگل میں تم پر کبھی شک نہیں کرسکتا ۔ خود سے زیادہ تم پر بھروسا ہے ۔ مانی کا ایسا اعتماد دیکھ کر زویا تو ہواؤں میں اڑنے لگتی تھی کئی گھنٹے باتوں کا یہ سلسلہ چلتا رہا اور وقت کا پتا ہی نہ چلا کب دوپہر شام میں ڈھل گئی ۔ اچھا سنو جان پھر بات کروں گا امی کی کال آرہی ہے یہ کہہ کر مانی نے باتوں کا سلسلہ منقطع کردیا ۔ لیکن زویا ابھی بھی مانی کی شوخ باتوں کی گرفت سے نکل نہ سکی تھی ۔ مانی اور زویا دو جسم ایک جان تھے ایک درد ہوتا دوسرا اپنے آپ ت۔ڑپ اٹھتا ۔ نہ کبھی دیکھا نہ کبھی ملے یہ رشتہ اندھی محبت کی پٹی باندھے چلا جارہا تھا وہ ایک دوجے کیلئے کھلی کتاب تھے ۔ا یک لفظ کا بھی اضافہ یا کمی ہوتی تو دونوں کو اس کا علم ہوتا ۔ مانی دوستانہ شوخ مزاج ہر ایک سے بے تکلفانہ انداز سے ملتا تھا ۔ دوسری طرف زویا خوابوں کو حقیقت ماننے والی لڑکی تھی ۔زویا کے سمارٹ فون کی محرومی نے انہیں اب تک ایک دوسرے کی صورتوں سے بھی ناآشنا رکھا ۔

مانی ایک بات بتائیں گے اپنا سستا سا موبائل مضبوطی تھامے پراسرار لہجے میں پوچھنے لگی ہاں میری جان پوچھا کیا پوچھنا چاہتی ہو ۔ آپ کی زندگی میں میرے علاوہ بھی کوئی لڑکی ہے کیا اس نے ڈرتے ڈرتے آج ہمت پکڑی اور ایک سانس میں پوچھ لیا ۔ہاہاہا لڑکی زیادہ نہیں بس دس پندرہ ہیں۔ وہ بھی صرف وقت گزاری اور مستی کیلئے کیونکہ پیار تو میں صرف اپنی جان زویا سے کرتا ہوں ناکیا مانی خداکا واسطے پلیز سچ بتائیں ا س نے تیز دھڑکتے دل کے ساتھ التجا کی ۔پگلی یہ تم مجھ سے پوچھ رہی ہو اپنے دل پر ہاتھ رکھ کے پوچھے جواب مل جائیگا۔ مانی نے اپنی محبوبہ کا موڈ ٹھیک کرنے کی کوشش کی ۔ آج عجیب سا خوف اسے اندر ہی اندر ڈس رہا تھا ۔ جس میں مانی دوسری لڑکی بانہوں میں تھا اور زویا اکیلی بنجر صحرا میں کھڑی تھی اس نے اپنا خواب مانی کو بتاناچاہا ۔ زویا میری جان آج تمہیں ہوا کیا ہے ؟مجھے نہیں پتا کیا ہوگا اور کیا نہیں میں اتنا جانتا ہوں تم صرف میری ہو ۔ دوبارہ بکواس کی تو میرا مرا منہ دیکھو گی ۔ پلیز مانی ایسے نہ بولیں ۔ ابھی اس نے اپنی بات مکمل بھی نہ کی تھی ۔اوہو یار اب تم رونا بند کرو ۔ پلیز اچھا میری جان سوری آئندہ ایسا کچھ بھی نہیں کہوں گا۔

اچھا سنو میں اگلے ہفتے کراچی آرہا ہوں اب تم سے ملے بنا قرار نہیں پڑتا ۔آخر وہ دن بھی آپہنچا جب ساحل کے کنارے دونوں ہاتھوں میں ہاتھ لیے ننگے پاؤں ریت میں اپنے مستقبل کے خواب سجارہے تھے ۔ جان مجھ پر بھروسا کرتی ہو نا تو آج ہمارے درمیان حائل اس دور کو مٹ جانے دو لیکن نکاح کیے بغیر کیسے مانی ۔ ارے پگلی آج کل سب ایسے ہی کرتے ہیں اور ہم جلد نکاح کرلیں گے ۔ سمندر کے قریب ہی ہوٹل کے ایک ایسے کمرے میں پہنچے ۔ مانی نے زور سے زویا کا ہاتھ پکڑ کے اپنے قریب کیا تاکہ اپنی بانہوں کے آغوش میں لے سکے ۔ مانی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ہم کچھ غلط تو نہیں کررہے نا۔ نہیں میری جان ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ میں ہوں نا۔پلک جھپکتے ہی دونوں ہمبستر ہوئے ۔ رات ڈھلی اور چڑھتے سورج کے ساتھ مانی اسلام آباد روانہ ہوگیا ۔ آپ نے امی سے ہمارے رشتے کی بات کی کب آرہے ہیں۔ یار کیا تم ہر وقت ایک ہی بات کرتی ہو کبھی تو رومینٹنگ ہوجایا کرو ۔ مانی نے بیزاری سے جواب دیا ۔ مانی آپ کیوں نہیں سمجھ رہے مجھے آپ کا نام چاہیے ۔ تنگ آگیا ہوں اب تمہارے اس روز روز کے رونے سے اچھا سنو بعد میں بات کرتا ہوں ۔ کتنی دیر سے آپ کا نمبر مصروف جارہا ہے کس سے بات کررہے تھے مانی ؟

وہ سب چھوڑو اس وقت کال کیوں کی ہے مجھے بہت نیند آرہی ہے ۔ کیا ہوا ہے مانی مجھ سے دل بھر گیا ہے آپ کا ؟پھر بکواس شروع کردی اسی لیے میں تم سے بات کرنا نہیں چاہتا ۔ جلدی بتاکیوں کال کی ہے ؟ہم نکاح کب کریں گے ۔ مجھے معاف کردو ۔ لاکھ کوشش کے باوجود بھی امی نے منع کردیا ۔ میں تمہارا مجرم ہوں۔ مانی نے یہ کہہ کر کال رکھی بھی نہ تھی کہ زویا کے کانوں سے آواز آٹکرائی آخر مانی تو کتنی لڑکیوں کے مزے لوٹے گا؟ہاہاہا تو تو جانتا ہے اپنا سٹائل ۔زویا کے ہاتھ سے موبائل زمین پر جاگرا ۔ وہ بلبلا کرروتی رہی لیکن دوسری طرف اس کی آواز سننے والا کوئی نہ تھا ۔ وہ روتی بلکتی جائے نماز پر جابیٹھی اور سجدے میں سرجھکائے اپنے اللہ سے معافی مانگنے لگی روتی روتی وہیں سوگئی ۔اگر عورت خود کو مضبوط بنا لے تو کتنی بھی بڑی مشکل آجائے وہ تنہا سب سے مقابلہ کرسکتی ہے پھر کتنے بھی مانی جیسے اس کی زندگی میں آجائیں وہ ان کا منہ نوچ کر اپنی منزل کو پانا جانتی ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

boztepe escort
trabzon escort
göynücek escort
burdur escort
hendek escort
keşan escort
amasya escort
zonguldak escort
çorlu escort
escort ısparta