پائی نیٹ ورک کیا ہے، وقار ذکا نے حقیقت بیان کر دی

پائی نیٹ ورک کیا ہے، وقار ذکا نے حقیقت بیان کر دی
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) اس وقت ملک بھر کے نوجوان اپنے موبائل فونز پر ایک پائی نیٹ ورک نامی کرپٹو کرنسی پر مائننگ کررہے ہیں لیکن کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے۔ اس کی کتنی ویلیو لگنے والی ہے۔ کچھ لوگ یہ خواب سجا کر بھی بیٹھے ہیں کہ اس کی قیمت 100ڈالر لگ جائے گی اور تب تک سب کے جمع شدہ کوائنز دھڑا دھڑابکنا شروع ہوجائیں گے اورلوگ صرف اس پائی نیٹ ورک کے ذریعے امیر ہوجائیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے

کہ ایسے لوگوں میں نوے فیصد وہ نوجوان طبقہ ہے جو پہلےسے کسی آن لائن کرنسی کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا ۔ لیکن لالچ اور تجسس ایسی چیز ہوتی ہے جسے آسانی سے چھوڑا نہیں جا سکتا ۔خاص طور پر ایک کچا ذہن لالچ اور تجسس کا سب سے محفوظ ٹھکانہ ہوتا ہے۔اصل جاننے کی بات یہ ہے کہ پائی نیٹ ورک کیا سچ مچ میں کوئی جینوئن کام ہے اوراس سے کسی کےہاتھ کچھ آنے والا ہے یا نہیں۔اس حوالے سے تھوڑی بہت سوجھ بوجھ رکھنے والے لوگ معروف فری لانسراورٹیکنالوجی

ایکسپرٹ وقارذکا رپر نظریں جمائے بیٹھے تھے کہ وہ اس حوالے سے اپنے رائے دیں۔ملک کے سب سے مشہور بٹ کوائن انٹر پرینییور وقارذکارنے فیس بک لائیو سٹریمنگ میں اس کی حقیقت بیان کر دی ہے۔ انھوںنے کہا ہے کہ ایسی چیز جو آج لوگ مفت میں جمع کر رہے ہیں۔کل اس کے کروڑوں اربوں کوائنز جمع ہوجائیں گے تو اسے خریدے گا کون ۔ اس کی ویلیو کہاں ہوگی۔ ویلیو ایسی چیز کی ہوتی ہے جو نایاب ہو۔کم ہو۔لیکن یہاں تو ہر کس و ناکس اس چیز کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ انھوںنے کہاکہ جب آپ پیسے خرچ کرنے کی بجائے مفت کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو لوگوں سے کل اس پر پیسے خرچ کرنے کی توقع کیوں کررہے ہیں۔ انھوںنے بتایا کہ یہ ایک منظم

گینگ ہے جو لوگوں کو بے وقوف بنا کر بار بار مائننگ کروا کر ان کا ڈیٹا اکٹھا کر رہاہے ۔پاکستان ، بھارت ، نیپال اوربنگلہ دیش جیسے ملک ان کا آسان شکارہیں۔ یہ مت سمجھیں کہ آپ یہ سب مفت کر رہے ہیں۔ اس پر آپ کا وقت اورڈیٹا صرف ہو رہا ہے۔ اگر موبائل فون پر مفت مائننگ سے ہی کرپٹو کرنسی اکٹھی ہوتی تو ٹیسلا کمپنی کا مالک ایلون مسک ڈیڑھ ارب ڈالر خرچ کرکے بٹ کوائن کیوں خریدتا جبکہ اس وقت بٹ کوائن کی قیمت 35ہزار ڈالر فی کوائن تھی۔کیا وہ بے وقوف تھا؟ وہ بے وقوف نہیں تھا بلکہ ہماری مفتے کی عادی قوم بے وقوف ہے جسے فضول کاموں میں وقت ضائع کرنے کی عادت ہے اوربعد میں صرف رونا باقی رہ جاتا ہے
کہ ہمارے ساتھ فراڈ ہوگیا۔ جبکہ یہ فراڈ آپ خود اپنے آپ سے کررہے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.