اماں مجھے اپنے ابا سے ڈرلگتا ہے رشیدہ ابھی سولہ سال کی تھی بیٹی کے کمرے کا دروازہ کھولا

اس واقعہ کا آغاز اپریل 1985ء سے ہوتا ہے جب مراکش کا ایک ٹھیکیدار توفیق المعتوق اپنی اہلیہ کے ساتھ مراکش کے ایک شہر زا رونا کے ایک بازار میں خرید و فروخت کر رہا تھا۔ توفیق المعتوق کا مراکش میں اچھا کاروبار تھا، وہ خوب صحت مند تھا۔ اس کی عمر خاصی ہو چکی تھی، مگر ابھی تک اولاد کی نعمت سے محروم تھے۔ جس بازار میں وہ خرید و فروخت کر رہا تھا، وہ خیموں سے بنا ہوا تھا۔ شام ہو رہی تھی اور آہستہ آہستہ بازار گاہکوں سے خالی ہو رہا تھا۔ دکاندار سارے دن کے تھکے ہوئے اپنے سامان کو سمیٹ رہے تھے۔

اس دوران معتوق نے دیکھا کہ ایک پانچ سالہ خوبصورت بچی مختلف خیموں میں داخل ہو کر کسی کو تلاش کر رہی ہے۔ وہ باری باری ایک ایک خیمے میں داخل ہوتی، خیمہ کا دروازہ اٹھاتی، اندر جھانک کر دیکھتی اور مایوس نظروں سے اگلے خیمے کی طرف چل دیتی۔معتوق نے اپنی بیوی سے کہا: لگتا ہے یہ بچی کسی کو تلاش کر رہی ہے۔ میاں بیوی بچی کے پیچھے پیچھے چل پڑے۔ ایک کے بعد دوسرے اور دوسرے کے بعد تیسرے خیمے میں جھانکنے کے بعد بھی جب بچی کو مایوسی ہوئی تو وہ رونے لگ گئی۔ اس کی شکل سے نظر آ رہا تھا کہ اسے بھوک لگی ہوئی ہے۔معتوق اور اس کی بیوی آگے بڑھے۔ اس سے پوچھا: تم کسے تلاش کر رہی ہو؟ میں اپنی والدہ کو ڈھونڈ رہی ہوں۔ اس نے جواب دیا۔ شاید وہ اسے جان بوجھ کر چھوڑ گئی تھی۔ اس دوران سورج غروب ہو چکا تھا۔ مغرب ہو چکی تھی۔ معتوق نے بچی کو کھانا اور پانی دیا۔ اس کی بیوی نے اسے گلے لگایا۔ اسے اس بچی کی صورت میں اپنی بیٹی نظر آئی۔بیٹی تمہارا نام کیا ہے معتوق کی بیوی نے پوچھا۔ میرا نام رشیدہ ہے۔

وہ اس سے باتیں کرنے لگی۔ تھوڑی دیر میں بچی ان کے ساتھ مانوس ہو گئی۔ وہ ان سے باتیں کرنے لگی۔معتوق اور اس کی بیوی مشورہ کرنے لگے کہ اس بچی کو کس کے حوالے کر کے جائیں۔ شام ہو چکی ہو۔ بازار کم و بیش خالی ہو چکا ہے۔ بچی سے پوچھا ہمارے ساتھ چلو گی؟ وہ تو پہلے سے پناہ کی تلاش میں تھی، اسے بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا؟ اس بچی نے اپنا نام رشیدہ بتایا۔ معتوق اور اس کی بیوی رشیدہ کو لے مراکش اپنے گھر آ گئے۔ معتوق کی بیوی نے رشیدہ کو اپنی بیٹی بنا لیا۔اگلے دن وہ بازار گئی، اس کے لیے عمدہ کپڑے اور اسے ایک معیاری اسکول میں داخل کروا دیا۔ اب رشیدہ اس گھر کا فرد تھی۔ وہ غیر معمولی ذہین اور خوبصورت تھی۔ یوں بھی مراکش کے لوگ بڑے خوبصورت ہوتے ہیں۔ رشیدہ اب معتوق کو اپنا باپ اور اس کی بیوی کو اپنی ماں ہی سمجھنے لگی تھی۔رشیدہ آہستہ آہستہ بڑی ہونے لگی۔ اب وہ نویں کلاس میں چلی گئی۔ اس نے خوب قد کاٹھ نکالا۔ معتوق کی بیوی اس سے شدید محبت کرتی۔ بیٹی کی طرح خیال رکھتی۔ رشیدہ بھی معتوق اور اس کی بیوی سے خوب محبت کرتی۔ گھر کے چھوٹے چھوٹے کام کرتی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ معتوق کا رویہ تبدیل ہوتا چلا گیا۔ وہ بلا وجہ رشیدہ کو دھمکاتا، رعب ڈالتا اور اسے بہانے بہانے سے تنگ کرتا۔ رشیدہ اس سے خوب ڈرنے لگ گئی۔1995ء کی بات ہے کہ ایک روز معتوق رات گئے گھر آیا۔

وہ نشے میں دھت تھا۔ اس کی بیوی اس کا انتظار کر کے سو چکی تھی۔ رشیدہ اپنے کمرے میں علیحدہ سوئی ہوئی تھی۔ اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا، قدرے رکا، سوچا اور پھر اس پر شیطان غالب آ گیا۔نجانے وہ کب سے شیطانی منصوبے بنا رہا تھا۔ رشیدہ اسے اپنا باپ سمجھتی تھی۔ رشیدہ نے اسے روکنے کی کوشش کی، منع کیا، منت سماجت کی، مگر معتوق نے اس کی عزت کو تار تار کر کے رکھ دیا۔ وہ بھاگنا بھی چاہتی تھی تو ایسا ممکن نہ تھا۔ اسے معلوم تھا کہ گھر سے باہر کتنے بھیڑیئے اس کو شکار کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں اسے کھانا اور ٹھکانا میسر تھا، پھر شیطان ناچتا رہا۔ اس نے اپنے آپ کو وح۔شی کے سپرد کر دیا۔رشیدہ کی عمر سولہ یا سترہ سال کی تھی۔ جب معتوق کی بیوی کو سب کچھ معلوم ہو گیا۔ اس نے شدید احتجاج کیا۔ اس نے معتوق سے کہا اب یہ لڑکی اس گھر میں رہے گی یا میں رہوں گی۔ تم مجھے طلاق دو۔ زانی اور شرابی بزدل ہوتا ہے۔ وہ جانتی تھی کہ معتوق مجھے کبھی طلاق نہیں دے سکتا۔ معتوق بھی بزدل تھا۔ وہ بیوی کے سامنے ٹھہر نہ سکا اور پھر وہی ہوا کہ اس نے رشیدہ کو گھر سے نکال دیا۔

رشیدہ اس دوران ضرورت سے زیادہ سمجھدار ہو چکی تھی۔ وہ گھر سے نکلی تو اس کا رخ بازار حسن کی طرف تھا۔ وہ خوبصورت اور جوان تھی۔ اس بازار میں اسے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ وقت گزرتا چلا گیا۔ وہ بے حیائی اور فح۔اشی میں آگے بڑھتی چلی گئی۔ اس کے گاہکوں میں بڑے بڑے امیر کبیر اور حکومتی عہدے دار شامل تھے۔مراکش کی حکومت نے پولیس کا ایک خاص محکمہ بنایا ہوا ہے، جس کا کام لوگوں کے اخلاق کی اصلاح کرنا ہے۔ اس محکمے کے سربراہ بریگیڈیئر عبدالعزیز تھے۔ وہ ایسی بھٹکی ہوئی لڑکیوں کے پیچھے رہتے۔ ان کی اصلاح کرتے۔ ان کو سزا دلواتے اور جیل بھجواتے۔رشیدہ جب اس بازار میں آئی تو اپنا نام تبدیل کر کے سلمہٰ رکھ لیا۔ وہ اپنے جیسی لڑکیوں کی لیڈر بن گئی۔ عبدالعزیز نے اسے کتنی مرتبہ جیل بھجوایا۔ وہ جیل جاتی، مگر چھوٹ جاتی، پھر غلط کاموں میں پڑ جاتی۔ ان لڑکیوں نے اس کا نام عمید المصیبتہ رکھ چھوڑا تھا۔ بریگیڈیئر کو عربی زبان میں عمید کہتے ہیں۔ وہ اسے مصیبت کی بریگیڈیئر کہتی تھیں۔ پولیس کے اصلاحی محکمہ اور ان بد کردار لڑکیوں کے درمیان آنکھ مچولی چلتی رہتی تھی۔ایک مرتبہ بریگیڈیئر عبدالعزیز نے ان کو جیل بھجوایا تو انہوں نے اس سے اس طرح انتقام لیا کہ اپنے خاص تعلقات استعمال کر کے عبدالعزیز کا ٹرانسفر کر وا دیا۔ عبدالعزیز کو اس کا بڑا رنج ہوا۔ اب وہ مراکش سے باہر ڈیوٹی کر رہا تھا۔

عبدالعزیز کی ایک بیٹی اور بیٹا تھا۔ بیٹی کی اس نے شادی کر دی تو وہ اپنے خاوند کے ہمراہ دوسرے شہر چلی گئی۔ بیٹا اعلٰی تعلیم کے لیے دوسرے ملک روانہ ہو گیا۔ میاں بیوی گھر میں اکیلے تھے۔ اس دوران عبدالعزیز کے ساتھ بہت بڑا حادثہ پیش آیا کہ اس کی زندگی بھر کی ساتھی، محبوب اہلیہ کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔عبد العزیز مراکش کے پر آسائش علاقے میں خوبصورت گھر بنا چکا تھا۔ اہلیہ کا انتقال ہوا تو اس کا نوکری سے جی بھر گیا۔ ہر چند کہ وہ چاق و چوبند اور صحت مند تھا، مگر اس کے باوجود اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے عہدے سے ریٹائر ہو جائے۔ اس نے حکومت کو درخواست دی جو قبول کر لی گئی۔ اب وہ دوبارہ مراکش واپس آ گیا تھا۔ادھر سلمہٰ اور اس کی سہیلیاں پہلے سے زیادہ آزادانہ ماحول میں داد عیش دے رہی تھیں۔ عبد العزیز اپنے گھر میں اکیلا تھا، اسے کوئی کام نہ تھا۔ بھلا ایک ایسا شخص جس نے عزم و عمل سے بھرپور زندگی گزاری ہو، وہ فارغ کیسے رہ سکتا ہے؟ اس نے حکومت سے درخواست کی: مجھے بے شک تنخواہ نہ دیں، مگر مجھے واپس اپنی ڈیوٹی پر جانے دیں۔ اس کی درخواست قبول کر لی گئی۔ اب اس کا مرتبہ وہ تو نہ تھا، مگر پھر بھی وہ اصلاح کے کام میں لگ گیا۔ اس کا علاقہ وہی تھا جہاں سلمہٰ اور اس کی ساتھی لڑکیاں رہتی تھیں۔ اس نے دیکھا کہ سلمہٰ اب پہلے سے زیادہ فیشن ایبل ماحول میں ہے۔ اس کے پاس قیمتی گاڑی ہے۔ بڑا سا گھر ہے۔ نوکر اس کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولتا اور بند کرتا ہے۔ عبد العزیز کو بڑا دکھ اور صدمہ ہوا، مگر وہ فوری طور پر کچھ کر نہیں سکتا تھا۔

اس دوران امیر کبیر لوگوں سے سلمہٰ کے تعلقات بڑھتے چلے گئے۔ اس کے گاہکوں میں اعلیٰ طبقے کے علاوہ خلیجی ممالک کے گاہک بھی شامل تھے۔ جدہ کا بہت بڑا بزنس مین سلمہٰ کی زلفوں کا اسیر ہو گیا تھا۔یہ نہایت امیر شخص تھا۔ مراکش کی حکومت ہر سال پولیس کے محکمے سے کچھ منتخب افراد کو حج کے لیے بھجواتی ہے۔ ان کے ساتھ سرکاری وفد بھی ہوتا ہے۔ اس سال حج کا وفد تشکیل پایا تو سرکاری وفد میں عبد العزیز کا نام بھی شامل کر لیا گیا۔ جب اسے معلوم ہوا کہ وہ ارض مقدس جا رہا ہے تو اسے اپنی مرحومہ اہلیہ خوب یاد آئی۔ کاش! اس مقدس سفر میں وہ بھی میرے ساتھ شامل ہوتی۔ اپنی اہلیہ کو یاد کر کے وہ اداس ہو گیا۔ حج کا شوق ہر کلمہ گو کے دل میں ہوتا ہے۔ عبد العزیز اب حج کی تیاریوں میں مشغول تھا۔ بالآخر وہ دن بھی آن پہنچا جب وہ حج کے لیے مراکش سے جدہ کی طرف رواں دواں تھا۔ سلمہٰ کے سعودی گاہک نے ایک دن سلمہٰ سے کہا: اگر تمہیں پیسہ ہی درکار ہے تو میرے پاس جدہ آ جاوٴ۔ وہاں تمہیں کتنے ہی امیر کبیر گاہک مل جائیں گے۔ طوائف کا ایمان پیسہ ہوتا ہے۔ سلمہٰ نے غور و فکر کیا اور کہا: ٹھیک ہے تم مجھے ویزا بھجوا دو، میں جدہ آ جاوٴں گی۔وہ دن بھی آیا جب اس کے پاسپورٹ پر سعودی عرب کا ویزا لگ چکا تھا۔ اس کے سعودی گاہک نے کہا کہ تم بغیر ساز و سامان کے مختصر ترین سامان کے ساتھ جدہ آ جاوٴ، وہاں ہر چیز مل جائے گی۔ جب تم ایئر پورٹ پر اترو گی تو ایئر پورٹ پر گاڑی تمہارا انتظار کر رہی ہو گی۔ فکر نہ کرنا تمہارے لیے ہوٹل بک ہو گا۔ان ایام میں مراکش سے جدہ کے لیے حج پروازیں جا رہی تھیں۔

سلمہٰ نے اپنا خوبصورت ترین لباس پہنا، خوب میک اپ کیا اور جہاز پر سوار ہو گئی۔ اس نے دیکھا کہ حج کی وجہ سے بیشتر مسافروں نے احرام باندھے ہوئے ہیں۔ وہ ان محدودے چند مسافروں میں سے تھی، جو حج کرنے نہیں جا رہے تھے۔ وہ تو اپنے خاص گاہک سے ملنے اور جدہ شہر میں فسق و فجور کا بازار گرم کرنے جا رہی تھی۔اگلی سیٹوں پر بیٹھی تو اس کے ارد گرد حج پر جانے والی خواتین تھیں، جنہوں نے حجاب کیا ہوا تھا۔ کچھ دیر تو وہ کرسی کی پشت کی جیب میں رکھے ہوئے میگزین کے ساتھ کھیلتی رہی، پھر اس نے کھانا کھایا اور آنکھیں بند کر لیں۔ اس کی آنکھ لگ گئی۔ نجانے وہ کب تک سوتی رہی۔ آنکھ کھلی تو جہاز کا پائلٹ اعلان کر رہا تھا کہ کچھ دیر بعد ہم لوگ میقات سے گزریں گے، جو مسافر حج کی نیت سے جدہ جا رہے ہیں، وہ اپنے احرام باندھ لیں۔ اعلان کے ساتھ ہوائی جہاز کے مسافروں میں ہلچل مچ گئی۔ وہ زور زور سے تلبیہ بلند کرنے لگےلَبَّیْکَ اللَّھُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَا شَرِیکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَکَ وَالْمُلْکَ، لَا شَرِیکَ لَکَ لَبَّیْکَ میں حاضر ہوں میرے اللہ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بلاشبہ ہر تعریف تیرے لیے اور ہر نعمت تیری ہی طرف سے ہے اور تیری ہی بادشاہت ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔سلمہٰ نے تلبیہ سنا تو اس کے جذبات میں بھی ہلچل مچ گئی۔ میں کہاں جا رہی ہوں۔ کس جگہ اور کیوں جا رہی ہوں۔ ایک انجانی قوت نے اسے سیٹ سے اٹھنے پر مجبور کر دیا۔ وہ تو سولہ سنگھار کر کے آئی تھی۔ اس نے قریب بیٹھی ہوئی خاتون سے کہا: تمہارے پاس کوئی فالتو کپڑے ہیں اس نے اسے حیرت سے دیکھا اور پھر اسے فالتو کپڑوں کا ایک جوڑا تھما دیا۔ اب اس کا رخ واش روم کی طرف تھا۔ اس نے میک اپ اتارا، کپڑے تبدیل کر کے اپنی سیٹ پر آئی تو ایک خاتون نے اسے سفید مراکشی جلباب اور ٹوپی دے دی۔

اس نے اسے پہن لیا۔ میقات آئی اور گزر گئی۔ اب سلمہٰ ایک نئے روپ میں تھی۔جہاز جدہ ایئر پورٹ پر اترا تو آواز آئی سیدہ سلمہٰ سے گزارش ہے کہ وہ آگے آ جائے۔ اس کے ساتھ وی آئی پی سلوک ہوا۔ ہوائی جہاز سے سب سے پہلے اترنے والی سلو یٰ ہی تھی۔ نیچے اتری، امیگریشن اور کسٹم سے فارغ ہوئی تو خوبصورت قیمتی گاڑی اس کے استقبال کے لیے موجود تھی۔ گاڑی میں بیٹھی تو گاڑی کا رخ ہوٹل کی طرف تھا۔ اس کا کمرہ پہلے سے بک تھا۔ کمرے میں گئی تو وہ بیڈ پر لیٹ گئی۔ لمبے سفر کی وجہ سے اسے آرام کی ضرورت تھی۔ وہ فوراً ہی سو گئی۔اس نے ایک خواب دیکھا کہ ایک شخص اپنے دائیں ہاتھ میں فانوس لیے کھڑا ہے ۔ فانوس سے نور بکھر رہا ہے۔ نور سے دور دور تک روشنی پھیلی ہوئی ہے۔ اس شخص کے بائیں ہاتھ میں آگ کا شعلہ ہے، جس سے اس کے جسم کے ایک ایک حصے کو جلایا جا رہا ہے۔ سلمہٰ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ اسے بڑا ڈر لگ رہا تھا۔ خواب بڑا واضح تھا۔ اس کے سامنے دونوں راستے تھے۔ خیر اور شر کا راستہ۔ ایک ہدایت کا اور دوسرا ظلمت کا راستہ ہے۔ اس نے آنکھیں بند کر کے اپنی سابقہ زندگی پر غور کیا۔ اسے اپنے آپ سے گھن آئی۔ اس نے سوچا غور کیا اور ایک عجیب فیصلہ کیا۔ اس نے اپنا مختصر ترین سامان اپنے ہمراہ لیا۔ کمرے سے نیچے اتری۔ ہوٹل سے باہر آئی تو اسے ایک ٹیکسی نظر آئی۔

اس نے ڈرائیور سے کہا: مجھے مکہ مکرمہ جانا ہے، مگر اس سے پہلے میقات چلو۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب حج کے ایام میں مکہ مکرمہ جانے والوں پر زیادہ پابندیاں نہ تھیں۔ ٹیکسی ڈرائیور اسے میقات پر لے گیا۔ میقات پر پہنچ کر اس نے غسل کیا، وضو کر کے احرام باندھا۔ حج کی نیت کی اور تلبیہ بلند کیا۔ وہ لَبَّیْکَ اللَّھُمَّ لَبَّیْکَ کہتی ہوئی ٹیکسی پر سوار ہوئی۔ اب وہ سوئے حرم رواں تھی۔ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئی تو اس کی زبان پر لَبَّیْکَ اللَّھُمَّ لَبَّیْک کی صدائیں جاری تھیں۔ کعبہ شریف میں داخل ہوئی، طواف کیا۔ سات چکر لگائے، سچے دل سے توبہ کی، مقام ابراہیم پر آئی، دو رکعت نفل پڑھنے کے بعد زمزم پیا۔ ایسا لگا کہ اس کی تمام روحانی و جسمانی بیماریاں زائل ہو گئی ہیں۔اب اس کا رخ صفا کی طرف تھا۔ اس نے صفا اور مروہ کے درمیان چکر لگانے شروع کیے ۔ جب چھٹے چکر میں تھی تو اسے اپنی بصارت پر اعتبار نہ آیا۔ اچانک اسے بریگیڈیئر عبد العزیز سعی کرتا نظر آیا۔ ہاں وہی بریگیڈیئر عبد العزیز جس کا نام اس نے عمید المصیبہ رکھا ہوا تھا۔ جسے اس نے مراکش سے دوسرے شہر ٹرانسفر کروا دیا تھا۔ سلمہٰ اپنے آپ کو روک نہ سکی۔ اس کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ کہنے لگی عبد العزیز تم یہاں پر بھی آ گئے ہو عبد العزیز نے نگاہیں اٹھائیں، اس کے سامنے سلمہٰ کھڑی تھی۔ کہنے لگا: ارے تم یہاں کہاں آ گئیں سلمہٰ کہنے لگی میں بھی تمہاری طرح رحمان کی ضیافت میں ہوں۔

تمہیں کیا معلوم کہ میرے رب نے میری توبہ قبول کر لی ہے، اس نے مجھے ہدایت عطا کر دی ہے۔ وہ اپنے بندوں پر رحم کرنے والا ہے۔ عبد العزیز نے کہا میں بھی رحمان کی ضیافت میں ہوں۔ دونوں نے سعی مکمل کی۔ سلمہٰ نے کہا اگر تمہارے لیے ممکن ہو تو مناسک حج میں مجھے اپنے ساتھ رکھ لو۔ میں اکیلی ہوں، حج کیسے کر سکوں گی۔عبد العزیز نے قافلے کے ذمہ داران سے درخواست اور سفارش کی جسے قبول کر لیا گیا۔ یوں سلمہٰ نے حج کے باقی ارکان اپنی قوم کے افراد کے ساتھ ادا کیے۔ سلمہٰ نے حج کے ارکان پورے کیے۔ اب قافلہ کا رخ مدینة منورہ کی طرف تھا۔ سلمہٰ بھی مدینہ پہنچ گئی۔ عبدالعزیز سلمہٰ کو دیکھتا رہا، اس کا انداز بالکل بدل گیا تھا۔ حج نے اس پر بہت گہرا اثر ڈالا تھا۔ وہ اب رحمان کی بندی بن گئی تھی۔ عبد العزیز کی سلمہٰ کے بارے میں رائے تبدیل ہو چکی تھی، وہ اس کی توبہ سے بڑا خوش تھا۔ سلمہٰ نے اسے جدہ ایئر پورٹ سے اترنے کے بعد کے سارے واقعات سنائے۔ سلمہٰ نے عبد العزیز سے کہا میرے پاس مراکش میں خاصی دولت ہے جو میں نے غلط کاموں سے کمائی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ اسے اچھے کاموں میں لگا دوں ۔ کیا تم میری مدد کرو گے عبد العزیز نے کہا ہاں ایک شرط پر وہ کیا سلمہٰ بولی۔ عبد العزیز نے کہا یہ کہ تم ہمیشہ کے لیے میرے دامن سے وابستہ ہو جاوٴ۔ سلمہٰ نے لمحہ بھر سوچا، سر تسلیم خم کر دیا اور کہاہاں میں آپ کو اپنے خاوند کے طور پر قبول کرتی ہوں

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.