آئندہ 6 دن ملک کا موسم کیسارہے گا ؟ محکمہ موسمیات کی ٹھنڈی ٹھار پیش گوئی

آئندہ 6 دن ملک کا موسم کیسارہے گا ؟ محکمہ موسمیات کی ٹھنڈی ٹھار پیش گوئی اسلام آباد (نیوز ڈیسک )ملک کے بیشتر حصوں میں بری ہوائیں موجود ہیں۔آج بروز منگل ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔تاہم بالائی خیبرپختونخوااور گلگت بلتستان میں زیادہ تر مقامات پرشام /رات میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق بروز بدھ کو ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک رہے گا۔ تاہم بالائی خیبرپختونخوااور گلگت بلتستان میں زیادہ تر

مقامات پر مطلع جزوی ابر آلود رہنے کی توقع کی گئی ہے ۔ جبکہ بروز جمعرات ملک کے زیادہ علاقوں میں موسم خشک رہے گا۔ تاہم بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں چند مقامات پرگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکا ن ہے ۔ رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز ملک کے زیادہ ترعلاقوں میں موسم خشک رہے گا۔ تاہم ملک کے بالائی علاقوں میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔ اسی طرح ہفتے کے دن ملک کے زیادہ علاقوں میں موسم خشک رہے گا۔ تاہم بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیرمیں چند مقامات پرگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بروز اتوار ملک کے زیادہ تر علاقوں میں موسم خشک رہے گا۔ تاہم بالائی خیبر پختونخوا، خطہ پوٹھوہار، گلگت بلتستان اور کشمیر میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔جبکہ بروز سوموار ملک کے زیادہ تر علاقوں میں موسم خشک رہے گا۔ تاہم بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔دوسری جانب موسمیاتی تبدیلیاں ، غیر یقینی صورتحال ، درجہ حرارت میں اضافہ ، بے موسمی بارشوں، ژالہ باری اور تیزی سے ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں فصلوں کے کاشتی امور پر اثر انداز ہورہی ہیں ۔ بدلتے موسمی حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے فوری اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ موسمی حالات کا مقابلہ کرنے والی فصلوں کی اقسام اور

کاشتی امور ہی اس کا بہترین اور اولین حل ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹرحافظ محمد اکرم نے شعبہ اگرانومی ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے زیر اہتمام فارمر ڈے کے انعقاد پر کاشتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فصلوں کی پیداوار پر موسمی حالات اثر انداز ہوتے ہیں ۔ موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کرنے کے لیے زراعت کو بہتر کرنا ہوگا۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کاشتکاروں کو زرعی حکمت عملی تبدیل کرنا ہوگا جبکہ کم دورانیہ کی اقسام اور زیروٹیلج کے طریقہ کاشت کو ترجیح دینا ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیرو ٹیلج ٹیکنالوجی سے پانی کی بچت اور زمین کی ساخت بہتر ہونے کے علاوہ زمین کی زرخیزی میں بھی اضافہ ہوگا ۔ گوبر کی کھاد کا استعمال دوبارہ کرنا ہوگا ۔ انہوں نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کلائمیٹ چینج ریسرچ یونٹ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔تقریب سے ڈاکٹرمحمد رفیق ، ڈاکٹر محمد ظفر، محمد عاشق اور عباس علی گل نے بھی خطاب کیا۔تقریب میں زرعی ماہرین کے علاوہ کاشتکاروںکی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.