جب ہم اللہ سے کسی انسان کو پانے کی چاہت کرتے ہیں؟

انسان کے ساتھ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان اللہ پاک سے کسی دوسرے انسان کو بہت شدت سے مانگتا ہے بہت رو رو کر مانگتا ہے۔ بہت وظیفے کرتا ہے۔ استخارہ کرتا ہے۔ منتیں کرتاہے۔ در در کی خاک چھانتا ہے روتا ہے گڑگڑاتا ہے لیکن وہ نہیں ملتا۔ پھر ایک وقت آتا ہے اسی انسان کے آنسو خشک ہوجاتے ہیں۔وظیفے بھو ل جاتے ہیں۔ اور جس انسان کو مانگ رہا ہوتا ہے اسی رب کا ہوجاتا ہے ۔ اس کو حقیقی محبوب مل جاتا ہے۔ جو رب کائنات محبو ب ﷺ ہے۔ رب اور ا س کے محبوب کا پانا، سب سے بڑی چیز کوپانا ہے۔ انسان کو رب اور اس کے محبوب کے دریافت ہوجاتی ہے۔

اورپھر کہتا ہے کہ دنیا والوجو چیز چاہو مجھ سے چھین لو۔ لیکن تم میرے رب اور اس کے محبوب ﷺ کو مجھ سے نہیں چھین سکتے ۔ پھر کیفیت بدل جاتی ہے۔ ہروقت ذکر یار میں رہنا اچھا لگتا ہے۔ انسان کو سجدے میں پڑے رہنے کو دل کرتا ہے اسی در پرسکون ملتا ہے اور پھر اچانک وہ مل جاتا ہے۔ جس کے لیے دعائیں کیں تھیں۔ گڑگڑائے تھے ۔ وظیفے کرتے تھے ۔ہر ایک سے لڑتے تھے ۔ مگر پھر احساس ہوتا ہے وہ محسوس یہ نہیں ہوتا جو پہلے کبھی ہوتا تھا۔ اب وہ اضطراب نہیں رہا۔ جیسے کوئی طوفان اندر سے تھم گیا ہو کیونکہ حقیقی عشق ہرعشق کو بھلا دیتا ہے۔ انسان نئی دنیا میں رہنے لگتا ہے۔ جہاں بس سکون ہوتا ہے۔ کہ بس ایک ہی خواہش ہوتی ہے یا باری تعالیٰ: تم مجھ سے راضی ہو جا، تم مجھ سے راضی ہوجا، یا پھر محبو ب کائنات ﷺ تو مجھ سے راضی ہوجا۔ جن سے یہ راضی ہوجاتے ہیں ان پر عشق کی حقیقت عیاں ہوجاتی ہے۔ ان پر عشق کی حقیقت عیاں ہوجاتی ہے

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.