وہ گناہ جن کی وجہ سے بیوی ہمیشہ کےلیے حرام ہوجاتی ہے؟

سات سا ل کے بعد بیٹا باپ کے ساتھ تو سوئے مگر ماں کے ساتھ ایک بستر پر نہیں سوئے گا۔بیٹی تو ماں کے ساتھ سوئے گی۔ لیکن باپ کے ساتھ ایک بستر پر نہیں سوئے گی۔ اسی طرح بیٹی جب نو سال کی ہوجائے یہ خوب اچھی طرح سے مسائل سمجھ لو۔ میں اللہ کا حکم آپ کوسنا رہاہوں۔ عمل کرنا ہے توصیحح ہے۔ اگر نہیں کرنا تو جیسے چل رہے ہیں۔ویسے چلتے رہیں۔ بہت احتیاطی ہوتی ہیں۔ ہم لوگ ہندو نہیں ہیں ۔ عیسائی نہیں ہیں۔ مسلمان بننا ہے تو تمیز سے بننا ہے۔ نہیں بننا ہے تو انگریزوں کے کلچر کو فالو کرو۔ وہ آج کل بہت ایڈوانس جارہے ہیں۔ تو جب بیٹی نو سال کی ہوجائے تو باپ پر یہ احتیاط لازمی ہے۔

کہ وہ اس کو پیار کرنے میں احتیاط سے کام لے۔ بہتر یہ ہے کہ اپنی جسم کو اس کی جسم سے دور رکھے۔ پیار کرنا ہو سر پر ہاتھ رکھے اپنی بیٹی کے۔ گالوں یا ہونٹ پر پیار نہ کرے۔ نو سال کی بیٹی پر احتیاط کرے۔ جب بالغ ہوجائے پھر ہرگز اس کی اجازت نہیں ہے۔ کیونکہ مسئلہ یہ ہے کہ باپ اگر بیٹی کو اس طرح سے پیار کرے اور خدانخواستہ باپ کے دل میں شہوت پیدا ہوجائے تو اس بیٹی کی ماں اس باپ پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی ہے۔ شریعت میں جو ج ن سی ریلیشن ہے۔ وہ ایک وقت میں ایک عورت کے ساتھ ہوسکتا ہے۔ ماں سے ہوگیا تو بیٹی سے نہیں ہوسکتا۔بیٹی سے ہوجائے تو ماں سے نہیں ہوسکتا۔

ایسی اجاز ت نہیں ہے۔ کہ ادھر اور ادھر بھی ہو۔ سوتیلی جو بیٹی ہے قرآن میں فرمان ہے: “جب کسی عورت سے نکا ح ہوا تمہارا اور نکاح کے بعد اس عورت سے تمہارا جن سی ریلیشن قائم ہوگیا تو اس عورت کی بیٹی تم پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی “۔ اب اس بیٹی سے کبھی بھی قیامت تک کے لیے نکاح نہیں ہوسکتا ۔ اگر وہ ریلیشن قائم نہیں ہوا اور ریلیشن قائم ہونے سے پہلے طلاق ہوگئی تو بیٹی سے شادی ہوسکتی ہے۔ قرآن کی اس آیت سے فقہاء امام ابو حنیفہ ؒ اور ان کے شاگردوں نے اور بہت سا رے تابعین نے استدالال کیا ہے کہ اسلام میں ایک وقت میں جس عورت سے ریلیشن ہوا اس کی ماں سے اس کی بیٹی سے ریلیشن نہیں ہوسکتا اور نہ حلا ل اور نہ حرا م(حرام تو ویسے حرام ہے )۔

کسی عورت سے جب ریلیشن سے ہوگیا تو بیٹی سے حلا ل شادی نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح یا د رکھو کہ اگر داماد نے خدا انخواستہ ساس کے ساتھ میں کوئی تعلق ہوا تو یہ جو ساس کی بیٹی ہے۔ یہ اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجائے گی۔ اسی طرح بہو میں اور سسر میں تعلق قائم ہوا تو یہ بہو اپنے شوہر پر ہمیشہ کےلیے حرام ہوجائے گی۔ اگر کہیں ایسا ہوا ہوتو خود سے فتویٰ نہ دے دیں۔ کسی مفتی کے سامنے باقاعدہ رکھیں ۔ بعض لوگ خود مفتی بنتے ہیں۔ اگر کسی کے ساتھ کچھ ایسا ہوجائے تو اس کو چاہیے کہ کسی مفتی کے پاس جائے ۔ خود سے فیصلہ نہ کرے۔ کیونکہ اس میں کچھ شرطیں ہوتی ہیں ۔میں اسکی حساسیت بتار ہا ہوں۔ میں تفصیل میں نہیں جارہا ہوں۔ کن رشتوں سے احتیاط ضروری ہے۔ سگی بیٹی ، بیٹے کا اپنی ماں سے ،داماد کا ساس سے ، سوتیلی بیٹی سے ، تو ایسے رشتوں سے احتیا ط ضروری ہوتی ہے

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.