اگلے چند دن کیوں انتہائی اہم ہیں؟پاکستانیوں کو شدید خبردار کر دیا

اگلے چند دن کیوں انتہائی اہم ہیں؟پاکستانیوں کو شدید خبردار کر دیا
وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا کی تیسری لہر پہلی لہر سے زیادہ خطرناک ہے، صوبوں کو ویکسین خریدنے سے نہیں روکا،میر پور آزاد کشمیرمیں کورونا کیسز کی نشاندہی ہوئی،یوکے سٹرین تیزی سے پھیل رہا ہے،پاکستان کے شمال میں زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں،یو کے سٹرین تیزی سے پھیلنے والا مہلک وائرس ہے ،اسی وجہ سے شرح اموات میں اضافہ ہو رہا ہے،ایسٹریا زینکا ویکسین پہلی ترسیل مارچ کے آخر تک مل

جائے گی ، جون کے آخر تک ایک کروڑ 60لاکھ ویکسین ڈوزز ہمیں مل جائیں گی، ہمارے پاس فنڈز موجود ہیں، تین کروڑ ویکسین ڈوزز خریدیں گے،اپوزیشن نے کورونا کی ابتدا پربھی سیاست کی ، اپوزیشن سے اپیل ہے سیاست کریں عوام کی جان کو خطرے میں نہ ڈالیں۔نجی ٹی وی سے
گفتگو کرتے ہوئےاسد عمر نے کہا کہ پاکستان میں کورونا کے یوکے سٹرین کا اثرات ہیں،دنیا میں لوگ ویکسین لگوا کر محفوظ ہو رہے ہیں،ویکسی نیشن کورونا وباکا طویل مدتی حل ہے،پاکستان میں ویکسینیشن کی طرف رجحان کم ہے، ویکسی نیشن رجسٹریشن کے لئے بھی علاقے کے دس فیصد لوگ ہی رجسٹرڈ ہوئے،عوام سے اپیل ہے کہ 60 سال سے زائد عمر کے لوگ فوری اپنے آپ کو رجسٹرڈ کروائیں،60 سال سےزائدعمر کے لوگوں کوکوروناہوجائےتونتائج سنگین ہوتےہیں،جن کو زیادہ خطرہ ہے ان کو ویکسین پہلے لگائی جائے گی،جتنے لوگ رجسٹرڈ ہوئے ،ہمارے پاس ویکسین اس سے زیادہ موجود ہے،پاکستان میں اب تک ساڑھے تین لاکھ سے بھی کم ڈوزز استعمال ہوئی ہیں،ہماری کوشش ہے کہ

ویکسینیشن کا عمل تیز کیا جائے،ہفتہ دس دن بعد 50 سال کی عمرتک کے لوگوں کوویکسین دیں گے،کوشش ہے60، 70 فیصد لوگوں کوویکسین دیں۔انہوں نے کہا کہ ایسٹریا زینکا ویکسین پہلی ترسیل مارچ کے آخر تک مل جائے گی،جون کے آخر تک ایک کروڑ 60لاکھ ویکسین ڈوزز ہمیں مل جائیں گی، فراہمی میں تاخیر کی وجہ ایشیائی ممالک کو ویکسین کی فراہمی کا لائسنس نہ ہونا ہے،بھارت میں ویکسی نیشن آبادی کے ایک فیصد سےبھی کم ہے۔اسد عمر نے کہا کہ دنیا میں 18 سال سے کم لوگوں کو ویکسین لگانے کا رجحان کم ہے، ہماری تو آدھی آبادی 18 سال سے کم عمر کی ہے،باقی ایچ گروپس کو مرحلہ وار ویکسین لگائی جائے گی،ہمارے پاس فنڈز موجود ہیں، ہم تین کروڑ ویکسین ڈوزز خریدیں گے،ایک کمپنی کو ویکسین کے آرڈر دے دیےہیں ، دوسری کمپنی کوبھی دیں گے ،بھارت سے جون تک ایک کروڑ 70 لاکھ ڈوزز لانےکاکہاگیاتھا،مارچ یا اپریل تک ویکسین آنا

شروع ہوجائیں گی،صوبوں کو ویکسین خریدنے سے نہیں روکا سب صرف سیاسی بیان دے رہے ہیں، ویکسین خریدناصوبوں کی ذمےداری ہے،وفاق اپنی ذمہ داریوں سےبڑھ کرحصہ ڈال رہا ہے،شروع میں لوگوں نےاحتیاطی تدابیراختیارکیں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے لئے سیاست پہلے ہے، کورونا وائرس کی ابتداء پر لاک ڈاؤن پر سیاست کی ،اب لانگ مارچ کا اعلان بھی سیاسی ہے، اس کا اختتام بھی سیاسی ہی ہوگا،پہلے دن سے وزیراعظم کا موقف تھا اپوزیشن کو احتجاج سے نہیں روکیں گے، اپوزیشن کو پہلے بھی نہیں روکا تھا اب بھی نہیں روکیں گے،جلسے کریں یہ اُن کاآئینی حق ہے تاہم اپوزیشن سے اپیل ہے کہ سیاست کریں لیکن عوام کی جان کو خطرے میں نہ ڈالیں، سیاست کرنے کا کوئی اور طریقہ نکالیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.