شوہر کی دوسری شادی اور چار ابلے انڈے ۔۔۔!!!ایک دلچسپ واقعہ نے بڑے کام کی بات سمجھا دی

لاہور (ویب ڈیسک) میاں بیوی طلاق کے لئے عدالت جاتے ہیں، جج پوچھتا ہے کہ تم لوگوں کے تین بچے ہیں، انہیں کیسے تقسیم کروگے؟ میاں بیوی کو سوچ بچار کا وقت دیاجاتا ہے، دونوں کمرہ عدالت کے کونے میں سرجوڑ کرصلاح مشورے میں لگ جاتے ہیں ،کافی دیر بحث و مباحثے کے بعد اس فیصلے پر اتفاق پاجاتا ہے کہ وہ اگلے سال طلاق کے لئے آئیں گے ،ساتھ میں ایک اور بچے کے ساتھ۔۔۔ نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ٹھہریئے، بات ابھی ختم نہیں ہوئی، ایک سال بعد ان کے ہاں جڑواں بچے جنم لیتے ہیں۔۔ایک شخص کی بیوی کو علم ہوا کہ اس کا شوہر دوسری شادی کا اردہ رکھتا ہے چنانچہ اس نے ایک

دن بڑے اہتمام سے عشائیہ تیار کیا اور چار انڈے ابال کر ہر ایک کو الگ الگ رنگ سے رنگا اور شوہر کو پیش کردیا۔۔شوہر نے پہلے حیرانی سے رنگ برنگے انڈوں کو اور پھر استفہامیہ نظروں سے بیوی کی جانب دیکھا۔۔ بیوی نے کہا آپ کھائیں اور پھر بتائیں کہ آپ کو یہ رنگ برنگے انڈے کیسے لگے۔۔شوہر نے تین انڈے کھائے اور تعجب سے بولا کہ ان میں تو کوئی فرق نہیں سب کا یکساں ذائقہ ہے۔۔ رنگوں کا کیا فائدہ ؟؟بیوی چالاک لومڑی کی مانند مسکرائی اور گویا ہوئی ۔۔سرتاج! عورتیں بھی سب ایک جیسی ہی ہوتی ہیں بس رنگوں کا فرق ہوتا ہے۔۔شوہر بھی ڈیڑھ ہوشیار تھا،اس نے چوتھا انڈہ منہ میں ٹھونسااطمینان سے نگل کر ڈکار لی اور بولا۔۔ہاں سچ کہتی ہو رنگوں کا ہی فرق ہوتا ہے،لیکن کیا کریں کمبخت جب تک چاروں انڈے کھا نہ لیے جائیں پیٹ نہیں بھرتا۔۔۔استاد نے اسٹوڈنٹ سے پوچھا کہ ناکام عشق اور مکمل عشق میں کیا فرق ہوتا ہے؟اسٹوڈنٹ نے جواب دیا۔۔ناکام عشق بہترین شاعری کرتا ہے، غزلیں اور گیت گاتا ہے، پہاڑوں میں گھومتا ہے۔ عمدہ تحاریر لکھتا ہے۔

دل میں اتر جانے والی موسیقی ترتیب دیتا ہے۔ ہمیشہ امر ہوجانے والی مصوری کرتا ہے۔ مکمّل عشق سبزی لاتا ہے، آفس سے واپس آتے ہوئے آلو، گوشت، انڈے وغیرہ لاتا ہے۔ لان کی سیل کے دوران بچوں کو سنبھالتا ہے۔ پیمپر خرید کر لاتا ہے۔ تیز بارش میں گھر سے نہاری لینے کے لیے نکلتا ہے۔ سسرال میں نظریں جھکا کر بیٹھتا ہے۔ ماں بہنوں سے زن مریدی کے طعنے سنتا۔ اور پھر گھر آ کر یہ بھی سنتا ہے کہ آپ کتنے بدل گئے ہیں۔ شادی سے پہلے کتنے اچھے تھے۔۔۔ایک روز رات کو بیٹھک لگی تھی اچانک ہم نے باباجی سے سوال کرلیا۔۔باباجی یہ بتائیں انسان بوڑھا کب کہلاتا ہے؟؟ باباجی نے ترچھی نظروں سے ہمیں دیکھا، کرتے کی فرنٹ پاکٹ سے ایک ٹوتھ پک نکالی، اس سے دانتوں میں پھنسی چھالیہ کونکالا،چھالیہ شاید کچھ موٹی تھی اور کافی ٹائم سے باباجی کے دانتوں میں پھنسی ہوئی تھی اس لئے انہوں نے اسے دوبارہ’’ مشق چپائی ‘‘ سے گریز کیا اور اسے زبان کی نوک پر لاکر زوردار انداز میں

۔۔پھووووووووو کیا، جس سے چھالیہ باباجی کے منہ سے نکل کر ڈرائنگ روم میں بچھے بھورے قالین میں کہیں رچ بس گئی، باباجی نے ٹوتھ پک پھر کرتے کی فرنٹ پاکٹ میں رکھی اور کہنے لگے۔۔انسان بوڑھا جب کہلاتا ہے جب بیوی کہے،میری سہیلی کو گھر چھوڑ آئیں، رات بہت ہوگئی ہے۔۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔اُس شخص کے سامنے کبھی فریاد نہ کیجیے جو آپ کو تکلیف پہنچائے، اُسے مسکرا کر اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ تمہارا بہت شکریہ کہ تم نے مجھے اپنے سے بہتر آدمی کی تلاش کا موقع فراہم کیا۔۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *